52

پاکستان کے سرمایہ دار اور لبرل دانش

تحریر: عامر حسینی


پاکستان کی لبرل بورژوازی دانشوروں کی طرف سے اکثر و بیشتر یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کی کمرشل سرگرمیاں (فوجی کارپوریٹ بورژوازی وینچرز ) وہ سویلین کارپوریٹ بورژوازی سے کہیں زیادہ اور ان کی منافع کمانے کے آڑے آتی ہیں اور ان کے نزدیک سویلین کارپوریٹ بورژوازی کی جانب سے روزگار پیدا کرنے اور ورکنگ کلاس کو خوشحال بنانے میں ناکامی کی وجہ بھی وہ فوجی کارپوریٹ بورژوازی کو قرار دیتے پائے جاتے ہیں-

( ڈاکٹر امیر علی پرویز ہود بھائی ، ڈاکٹر عشرت حسین ، عائشہ صدیقہ جیسے لبرل بورژوازی دانشوروں نے اس خیال کے گرد ایک ڈاکٹرائن تعمیر کر دیا ہے) –

پشتون ، بلوچ اور سندھی قوم پرست تحریکوں میں افرا سیاب خٹک، بشری گوہر، ایاز پلیجو، ڈاکٹر مالک جیسے لبرل قوم پرست بورژوازی دانشور اس ڈاکٹرائن کو ” پنجابی فوجی بورژوازی” کی اصطلاح کے ساتھ  آگے بڑھاتے نظر آتے ہیں –

لبرل بورژوازی دانشور اپنے تئیں یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کرتے ہیں جیسے فوجی کارپوریٹ بورژوازی اور سویلین کارپوریٹ بورژوازی کے درمیان کوئی بڑا اور بنیادی تضاد ہے اور یہ باہم متصادم قوتیں ہیں وہ ان کے آپس میں اشتراک اور عالمی بورژوازی سے ان دونوں کی جڑت اور اشتراک کے عنصر کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں –

ان کی جانب سے پاکستان کی لبرل سویلین کارپوریٹ بورژوازی کو فوجی کارپوریٹ بورژوازی کے مقابلے میں کمزور اور نحیف دکھانے کی کوشش ہوتی ہے –

لیکن جب ہم سویلین کارپوریٹ بورژوازی کے منافعوں پر ایک نظر دوڑاتے ہیں تو لبرل بورژوازی دانشوروں کی بد دیانتی اور جھوٹ کا پول کھل جاتا ہے –

میزان بینک کا 2023ء میں منافع دیکھیں تو وہ 84 ارب 50 کروڑ روپے ہے جبکہ اس کے اثاثوں کی قیمت 30 کھرب روپے اور ڈیپازٹس کو دیکھیں تو وہ 20 کھرب ہے یہ کل ملا کر 50 کھرب بنتے ہیں اور اس کے منافع میں اس سال 87 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا
 
حبیب بینک لمیٹڈ کا خالص منافع 57 ارب 80 کروڑ روپے تھا جو گزشتہ سال سے 58 فیصد سے زیادہ تھا –

مثال کے طور پر اگر ہم کراچی کی صرف ایک اسٹائل ٹیکسٹائل لمیٹڈ کمپنی کی بیلنس شیٹ پر نظر ڈالیں تو اس میں اس کی آمدنی 120 ارب روپے نظر آتی ہے جو فوجی کارپوریٹ بورژوازی ساری کمپنیوں کی آمدن سے کہیں زیادہ ہے –

پاکستان کے کمرشل کارپوریٹ بینکنگ سیکٹر نے سٹیٹ بینک سے پیسے لے کر حکومت کو قرضہ دے کر 572 ارب روپے کمائے –

صرف 2023ء میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 100 ٹاپ کی کمپنیوں میں سے 83 کمپنیوں کا منافع 1683 ارب روپے تھا –

ہم اگر صرف میزان بینک کا 2023ء میں منافع دیکھیں تو وہ 84 ارب 50 کروڑ روپے ہے جبکہ اس کے اثاثوں کی قیمت 30 کھرب روپے اور ڈیپازٹس کو دیکھیں تو وہ 20 کھرب ہے یہ کل ملا کر 50 کھرب بنتے ہیں اور اس کے منافع میں اس سال 87 فیصد اضافہ دیکھنے کو ملا

حبیب بینک لمیٹڈ کا خالص منافع 57 ارب 80 کروڑ روپے تھا جو گزشتہ سال سے 58 فیصد سے زیادہ تھا –

جبکہ فوجی فاونڈیشن کی ملکیت عسکری بینک کا خالص منافع 21 ارب 40 کروڑ تھا اور فوجی فاونڈیشن کے کل اثاثے 495 ارب روپے ہیں۔

فوجی فرٹیلائزر کا 2023ء میں منافع 12 ارب 646 ملین روپے اور فوجی فوڈز کا منافع محض 178 ملین روپے تھا-

صرف اس تفصیل سے ہم یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فوجی کارپوریٹ کمپنیاں اپنی کمائی کے اعتبار سے سول کارپوریٹ کمپنیوں کی کمائی کے مقابلے میں بہت پیچھے کھڑی ہیں اور پاکستان میں ارتکاز سرمایہ کے حوالے سے سویلین کارپوریٹ سیکٹر سب سے غالب سیکٹر ہے جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا-

اگر فوجی کارپوریٹ بورژوازی کی کمرشل سرگرمیاں سویلین کارپوریٹ بورژوازی کی کمرشل سرگرمیوں میں رکاوٹ تھیں تو سویلین کارپوریٹ بورژوازی نے محض 2023ء میں اتنا منافع کیسے کما لیا جس کے مقابلے میں فوجی منافعوں کی شرح بہت ہی کم ہے جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ 2018ء سے لے کر اب تک پاکستان میں حکمرانی کے ہائبرڈ نظام میں فوجی اسٹبلشمنٹ کا اثر و رسوخ غالب ترین رہا ہے –

اگر فوجی کارپوریٹ بورژوازی کی کمرشل سرگرمیاں سویلین کارپوریٹ بورژوازی کی کمرشل سرگرمیوں میں رکاوٹ تھیں تو سویلین کارپوریٹ بورژوازی نے محض 2023ء میں اتنا منافع کیسے کما لیا جس کے مقابلے میں فوجی منافعوں کی شرح بہت ہی کم ہے جبکہ ہم سب جانتے ہیں کہ 2018ء سے لے کر اب تک پاکستان میں حکمرانی کے ہائبرڈ نظام میں فوجی اسٹبلشمنٹ کا اثر و رسوخ غالب ترین رہا ہے

فوج ریاستی انتظامیہ کا اہم ترین حصہ ہے اور ریاست کا اہم ترین ستون ہے اور ریاست بقول لینن کے آخری تجزیے میں مسلح جتھوں کا نام ہوا کرتی ہے اور سرمایہ داروں کے مفادات کی حفاظت کا کام سر انجام دیتی ہے – یہ وہ حقیقت ہے جسے لبرل بورژوازی دانش ور سب سے زیادہ چھپانے کی کوشش کرتی ہے –

اس تفصیل کو اگر پاکستان کے محنت کش طبقات کے زبردست استحصال، جبر اور لوٹ کھسوٹ کے آئینے میں دیکھیں تو پاکستان میں معاشی بحران نے سرمایہ داروں کے اثاثوں اور منافعوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا بلکہ ان کو 50 سے 90 فیصد تک بڑھایا ہے جبکہ محض 2023ء میں پاکستان میں 40 لاکھ لوگ مزید خط غربت سے نیچے چلے گئے-  پاکستان کی ریاست کو مسلح جتھوں کی شکل میں جبر کے آلے کے طور پر دیکھیں تو اس نے یہ جبر پاکستان کے محنت کش طبقات پر بھی بڑھایا ہے اور سرمایہ داروں کے استحصال اور لوٹ کھسوٹ کی طاقت میں اضافہ ہی کیا ہے اور پاکستان کی لبرل بورژوازی دانش ریاست کے جبر اور ظلم کی اس جہت کو محنت کش طبقات کی نظروں سے دور کرنے اور اس نظام کی سب سے بڑی بینفیشری بورژوازی کو مظلوم بناکر دکھاتی ہے –

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں