خون آشام نظام


از: عزیز علی داد




جس علاقے کو قانون اور جدید انتظامی اصولوں کی بجاۓ آرڈر سے چلایا جاتا ہے،

وہاں نراجیت ہی کی حکمرانی ہوتی ہے۔

گلگت بلتستان میں لاشاری ہو یا منرلز اور مائنز کے لائسنس،

ابھرتی ہوئی مارکیٹیں ہوں یا پی ٹی ڈی سی ہوٹلز کی نجکاری کا معاملہ،

فلک نور کا کیس ہو یا کینگرو کورٹس،

پولیس کی بے بسی ہو یا بجلی کا بحران،

انسانی حقوق کی پامالی ہو یا کے آئی یو میں طالبات کی ہراسانی،

اپاہج صوبائی اسمبلی ہو یا لینڈ مافیا،

نیٹکو کا مالی بحران ہو یا سماج میں فرقہ واریت،

ان سب بلاوں اور بیماریوں کا منبع آرڈر کے ذریعے گلگت بلتستان میں لاگو کیا گیا وہ نظام ہے

جو مقامی لوگوں سے انسانی حقوق چھین کر غلام بنا دیتا ہے،

زندگی سے خواب چھین کر وحشت بھر دیتا ہے،

کمانڈرز کو آزاد اور شہریوں کو قید کرتا ہے،

انسانیت چھین کر فرقہ واریت دیتا ہے،

اختیار کی جگہ بیساکھی دیتا ہے،

بیمار نظام کو بیمار لوگوں کے حوالے کرتا ہے اور

خرد کو جنون کے بھینٹ چڑھاتا ہے۔

پینٹگ میں ایک نظام کے قیدی تباہی کے راستے پر رواں دواں ہیں۔

ایسے سماج اور نظام کا انجام آدم خوری اور خون ریزی پر ہی ہوتا ہے۔

 آج گلگت بلتستان میں ریاستی ادارے شہریوں کی محافظ کی بجاۓ،

ان کے بنیادی سیاسی و انسانی حقوق کو سلب کرنے کے آلہ کار بن گئے ہیں۔

اب یہ نظام مکمل طور پر تباہ ہونے سے پہلے گلگت بلتستان کے لوگوں کی زندگی تباہ کرکے رکھ دے گا۔

میں تو صبح طلوع ہونے والے سورج کے کرنوں میں نور کی دھاریں کم اور خون کی دھاریں زیادہ دیکھ رہا ہوں۔

فلک نور کا کیس گلگت بلتستان میں آنے والے وقت اور حالات کی محض ایک ہلکی سی جھلک ہے جو اس کو اپنے محدود عینک سے دیکھ رہے ہیں،

وہ اس خون آشام نظام اور سوچ کا پہلے حصہ اور آخر میں شکاربن جائینگے۔

یہ بھی پڑھئے: گلگت بلتستان میں حیوانی معاہدہ


عزیزعلی داد کا تعلق گلگت-بلتستان سے ہے۔ انہوں نے لندن اسکول آف اکنامکس سے سماجی سائنس کے فلسفے میں ماسٹرز کی ڈگری لی ہے۔ وہ ہائی ایشیاء ہیرالڈ اور بام جہاں میں مختلف موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔ فلسفہ، ثقافت، سیاست، اور ادب کے موضوعات پر ان کے مضامین اور تحقیقی مقالے ملکی اور بین الاقوامی جریدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ عزیز برلن کے ماڈرن اوریئنٹل انسٹی ٹیوٹ میں کراس روڈ ایشیاء اور جاپان میں ایشیاء لیڈرشپ پروگرام کےریسرچ فیلو رہ چکے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں