Baam-e-Jahan

پھیپھڑے کی طرح عمل کرکے ایندھن بنانے والا آلہ

پاکستان اپ ڈیٹ : اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنسداں وائی کوئی اوران کے ساتھیوں نے پانی کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ہائیڈروجن ایندھن بنانے والا ایک آلہ تیارکیا ہے جو عین انسانی پھیپھڑوں کے اصول پر کام کرتا ہے۔

انسانی پھیپھڑوں میں باریک جھلی کے ذریعے گیسیں ایک سے دوسری جگہ جاتی ہیں۔ اس عمل میں آکسیجن نکل کر خون میں شامل ہوجاتی ہے یوں جسم کے قریباً تمام حصوں تک پہنچتی ہے۔ ماہرین نے خاص طرح کے الیکٹرو کیٹیلِسٹس (برق عمل انگیز) استعمال کرتے ہوئے پانی کا کیمیائی تعامل (ری ایکشن) بڑھایا ہے جو پانی کو توڑتے ہوئے قدرے تیزی سے پانی سے ہائیڈروجن بناتا ہے۔ اس سے ہائیڈروجن سواریوں اور اسے استعمال کرکے اسمارٹ فون سے لے کر گھروں تک کو روشن رکھا جاسکتا ہے۔

سائنسدانوں کی ٹیم نے 12 نینو میٹر جسامت کی ایک پلاسٹک کی جھلی تیار کی جس کی ایک جانب باریک سوراخ تھے جو پانی دھکیل سکتی ہے۔ جھلی کے دوسری جانب سونے اور پلاٹینم کے انتہائی باریک ذرات لگائے گئے جو کیمیائی ری ایکشن کے لیے بنائے گئے تھے۔ اس کے بعد اس جھلی کو گول کاغذ کی طرح رول کیا گیا اور دھاتی جھلی کو اندر کی جانب رکھا گیا۔ جیسے ہی پانی کو بجلی دی گئی وہ ہائیڈروجن اور آکسیجن میں ڈھلنے لگی اور پھیپھڑے نما آلے میں جذب ہوکر اندر کی جانب جاتے ہوئے توانائی پیدا کرنے لگیں۔ ماہرین کے مطابق باریک سوراخوں کی تعداد نے گیس کے ضیاع کو روکا کیونکہ اس طرح گیس کے بہت باریک بلبلے بننے لگے تھے۔

ماہرین کے مطابق اپنی خاص شکل کے تحت سیلنڈر نما مصنوعی پھیپھڑا پانی سے توانائی بنانے میں دیگر آلات کے مقابلے میں 32 فیصد زائد باکفایت اور مؤثر ثابت ہوا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس آلے کا مٹیریل 250 گھنٹے تک مؤثر اور قابلِ عمل رہاجبکہ اسی نوعیت کے کاربن سے بنے آلات صرف 75 گھنٹے میں اپنی افادیت 74 فیصد تک کھودیتے ہیں۔ اگلے مرحلے میں اس ڈیزائن کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور یوں انسانی پھیپھڑوں کو دیکھتے ہوئے ہائیڈروجن ایندھن کی تیاری کا ایک نظام جلد ہی شرمندہ تعبیرہوسکے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے