Baam-e-Jahan

بمبورت کھلی کچہری میں شکایات کے انبار

ایک سال گزرنے کے بعد بھی مرکز صحت میں ڈاکٹر تعینات کرنے کا وعدہ پورا نہیں ہو سکا. میشیات کی کھلے عام فروخت، روڈ کھولنے کے لیے دی گیئ ٹریکٹرغایب؛ چترال میں 110 ڈاکٹروں کی اسامیاں خالی ہیں.

تحریر: گل حماد فاروقی

چترال: عوام کے مسائل ان کے دہلیز پر حل کرنے کے سلسلے میں ضلعی انتطامیہ نے وادی کیلاش کے بمبوریت میں ایک کھلی کچہری منعقد کی جس کا اہتمام تحصیل میونسپل انتظامیہ نے کی تھی۔کھلی کچہری میں مسلم اورکیلاش کمیونٹی کے لوگوں نے شکایات کے انبھار لگادئے۔ پچھلی بارکھلی کچہری میں یقین دہانی کے باوجود ابھی تک ہسپتال میں ڈاکٹرتعینات نہیں ہو سکا.

عوام نے شکایت کئے کہ ایک سال پہلے اس طرح کھلی کچہری میں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ بنیادی مرکز صحت بمبوریت میں ایک ہفتے کے اندر ڈاکٹر بھیج دیا جائے گا مگر ایک سال گزرنے کے باوجود ہسپتال ابھی تک ڈاکٹر سے محروم ہے جس کی وجہ سے یہاں کے عوام کئی مشکلات سے دوچار ہیں۔

عوام نے یہ بھی شکایت کہ وادی کیلاش میں سیاح بہت زیادہ آتے ہیں مگر یہاں ناقص انتظامات کی وجہ سے وہ جگہہ جگہہ گند پھنکتے ہیں اور وادی کی ماحول آلودہ ہوجاتا ہے۔ صوبائی حکومت نے چترال کی خوبصورتی یعنی Beautification کا اعلان کیا تھا مگر ہمیں اس کا کوئی عملی مظاہرہ نظر نہیں آتا۔ اس گند کو ٹکانے لگانے کیلئے کوئی بندوبست نہیں ہے۔ جس پر تحصیل میونسپل آفیسر قادر نصیر نے کہا کہ اسکے لئے ٹریکٹر کا بندوبست کیا جائے گا۔

سابق ناظم بہرام شاہ کیلاش نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے دورحکومت میں ضلعی انتظامیہ کو گیارہ عدد ٹریکٹر بلیڈ والا حوالہ کئے گئا تھا جس میں ایک بلیڈ والا ٹریکٹر وادی بمبوریت کو بھی دیا گیا تھا تاکہ بوقت ضرورت سڑک کھول سکے مگر وہ ٹریکٹر فورا غائب ہوگیا اورلگتا ہے کہ کسی افسر کے ذاتی کام میں مصروف ہے۔ڈپٹی کمشنر نوید احمد نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ جبکہ عوام نے اس کے بابت انکوائری کا مطالبہ کیا کہ وہ ٹریکٹر کہاں غائب ہوگئے۔

مسلم کمونٹی سے مولانا عمرشیخ نے شکایت کی کہ وادی کیلاش میں منشیات کی کھلے عام فروخت اوراستعمال جاری ہے اور پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتا ہے۔
چند مقامی لوگوں نے نام نہ بتانے کی شرط پر ہمارے نمائندے کو بتایا کہ پولیس خود منشیات کی اسمگلنگ میں مصروف ہے اور اکثر اوقات پولیس کی گاڑی میں بھی شراب وغیرہ وادی سے باہر لے جانے کی اطلاعات آتے رہتے ہیں مگر پولیس سے کون پوچھے۔

مقامی لوگوں نے یہ بھی شکایت کہ وادی میں ہوٹل نہایت محدود ہیں اور سیاح بہت زیادہ آتے ہیں لہذا ان کیلئے کوئی طریقہ کار وضع کیا جائے کہ محدود تعداد میں سیاح یہاں آیا کرے تاکہ وہ ہوٹلوں میں جگہہ نہ ہونے کی صورت میں فٹ پاتھ پر نہ سوئے۔
لوگوں نے یہ بھی شکایت کی کہ غیر مقامی لوگ یہاں آکر زمین خریدتے ہیں اور ہوٹل بناتے ہیں جو مقامی ثقافت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جس پر ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ اگر سب لوگوں کا یہی مطالبہ ہے تو ضلعی انتظامیہ دفعہ 144 لگاکرغیرمقامی لوگوں پر یہاں زمین خریدنے پر پابندی لگادے گا۔

خاتون کیلاش کونسلر نے شکایت کہ وادی کی سڑک اتنی خراب ہے کہ خواتین مریض اس پر سفر کے دوران مزید بیمارپڑتی ہیں اورہسپتال پہنچنے سے پہلے دوسری دنیا میں پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی شکایت کہ محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے روڈ کولی اگرسڑک کی مرمت کرتا رہے تو اس کی حالت اتنی حراب نہیں ہوگی جبکہ روڈ کولی اکثرگھربیٹھے تنخواہ لیتے ہیں یا افسران کے گھروں میں کام کرتے ہیں۔


ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرڈاکٹرشہزادہ حیدرالملک نے کہا کہ چترال میں 110 ڈاکٹروں کی آسامیاں خالی ہیں اورجونہی صوبائی حکومت ان ڈاکٹروں کو بھرتی کرکے ہمیں بھیج دے ان میں سے ایک ڈاکٹر ضروربمبوریت میں تعینات کیا جائے گا۔
کھلی کچہری سے اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی وزیرزادہ کیلاش نے بھی اظہار حیال کرتے ہوئے کہا کہ وادی کیلاش کی سڑکیں این ایچ اے کے حوالہ کئے گئے ہیں اوربہت جلد اس پرکام شروع کیا جائے گا۔اس کے علاوہ یہاں عورتوں کے لئیے ہاسٹل اور گرلز ڈگری کالج تعمیر کیا جائے گا۔
کھلی کچہری میں اسسٹنٹ کمشنرعالمگیرخان، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرکے علاوہ ذیلی اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کیں۔
ڈپٹی کمشنر نے عوام کے مسائل جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اورتمام محکموں کے سربراہان پر زوردیا کہ وہ عوام کو سہولیات فراہم کرنے میں کردارادا کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے