Baam-e-Jahan

بلوچی ادیب منیر بادینی کمال فن ادبی ایورڈ کے لئے نامزد

اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ادباءوشعراءکے لئے پچاس لاکھ روپے مالیت کے انعامات کا اعلان

بام جہان رپورٹ

اسلام آباد: اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے زندگی بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ "کمالِ فن ایوارڈ 2018” کے لیے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیب، ناول نگار اور اہل قلم منیر احمد بادینی کو منتخب کیا گیا ہے۔

"کمال فن ایوارڈ” ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے جس کی رقم دس لاکھ روپے ہے۔ 2018 کے "کمال فن ایوارڈ” کا فیصلہ پاکستان کے معتبر اور مستند اہل دانش پر مشتمل منصفین کے پینل نے کیا جس میں مسعود اشعر، پروفیسر ڈاکٹر پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، نورالہدیٰ شاہ، پروفیسر ڈاکٹر روف پاریکھ، قاضی جاوید، ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر، محمد ایوب بلوچ، نورخان محمد حسنی، ڈاکٹر سلمیٰ شاہین، ناصر علی سید، محمد حسن حرت اور حارث خلیق شامل تھے۔ اجلاس کی صدارت مسعود اشعر نے کی۔

ڈاکٹر یوسف خشک، چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان نے ایوارڈ کمیٹی کے آن لائن اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں "کمالِ فن ایوارڈ 2018 ” اور” قومی ادبی ایوارڈ "2018 کے پانے والوں ادیوب اور شعراء کے ناموں کا اعلان کیا.

"کمال فن ایوارڈ” ہر سال کسی بھی ایک پاکستانی اہل قلم کو ان کی زندگی بھر کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر دیا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ ملک کا سب سے بڑا ادبی ایوارڈ ہے جس کا اجراء اکادمی ادبیات پاکستان نے 1997ء میں کیا تھا۔

یہ ایوارڈ اب تک احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، مشتاق احمد یوسفی، احمد فراز، شوکت صدیقی، منیر نیازی، ادا جعفری، سوبھو گیان چندانی، ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ، جمیل الدین عالی، اجمل خان خٹک، عبد اللہ جان جمالدینی، محمد لطف اللہ خان، بانو قدسیہ، ابراہیم جویو، عبداللہ حسین، افضل احسن رندھاوا، فہمیدہ ریاض، کشور ناہید، امر جلیل اور ڈاکٹر جمیل جالبی کو دیا جا چکا ہے۔

ڈاکٹرخشک نے”قومی ادبی ایوارڈ” برائے سال 2018ء کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ "سعادت حسن منٹو ایوارڈ” برائے اردو نثر(تخلیقی ادب) حسن منظر کی کتاب "جھجک” کو دیا گیا.
اردو نثر(تحقیقی وتنقیدی ادب) کے شعبے میں "بابائے اردو مولوی عبدالحق ایوارڈ” ڈاکٹر تحسین فراقی کی کتاب "نکات” کو دیا گیا. اردو شاعری کے شعبے میں "ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ایوارڈ” زہرا نگاہ کی کتاب "گل چاندنی” کو دیا گیا.
پنجابی شاعری میں "سید وارث شاہ ایوارڈ” رائے محمد خاں ناصر کی کتاب "ہڈک”، اور پنجابی نثر میں "افضل احسن رندھاوا ایوارڈ” احمد شہباز خاور کی کتاب "گُھنوں” کو دیا گیا.

سندھی شاعری میں "شاہ عبدالطیف بھٹائی ایوارڈ” وفا ناتھن شاہی کی کتاب "آیو جھول بھرے” اور سندھی نثر میں "مرزا قلیچ بیگ ایوارڈ” زیب سندھی کی کتاب "آخری ماٹھو” کو دیا گیا.

پشتو شاعری میں "خوشحال خان خٹک ایوارڈ” سابق سینیٹر افراسیاب خٹک کی کتاب "نوائے تیغ”، اور پشتو نثر میں "اجمل خان خٹک ایوارڈ” ڈاکٹر قاضی حنیف اللہ حنیف کی کتاب "پشتو شاعری کے سائنسی شعور او اظہار” کو دیا گیا.

بلوچی شاعری میں "مست توکلی ایوارڈ” عنایت اللہ قومی کی کتاب "بیا کپوت وش نالگیں”، اور بلوچی نثر میں "سید ظہور شاہ ہاشمی ایوارڈ” اکبر بارکزئی کی کتاب "زبان زانتی ءُ بلوچی زبان زانتی” کو دی اگیا.

سرائیکی شاعری میں "خواجہ غلام فرید ایوارڈ” محمد ظہیر احمد کی کتاب "الا”، اور سرائیکی نثر کے لئے "ڈاکٹر مہر عبدالحق ایوارڈ” محمد حفیظ خان کی کتاب” ادھ ادھورے لوک” کو دیا گیا.

براہوی شاعری کے لئے "تاج محمد تاجل ایوارڈ” سید علی محمد شاہ ہاشمی کی کتاب "خوشبو نا سفر”، اور براہوی نثر کے لئے "غلام نبی راہی ایوارڈ” عمران فریق کی کتاب "اینو ہم خدا خوشے”، کو نامزد کیا گیا.

ہندکو شاعری کے لئے "سائیں احمد علی ایوارڈ” سید سعید گیلانی کی کتاب "پپل وترے”، اور ہندکو نثر کے لئے "خاطر غزنوی ایوارڈ” نذیر بھٹی کی کتاب "شام اَلم” کو نامزد کیا گیا.

انگریزی نثر کے لئے "پطرس بخاری ایوارڈ” فاطمہ بھٹو کی کتاب "The Run Aways”، اور انگریزی شاعری کے لئے "داود کمال ایوارڈ” سارہ جاوید کی کتاب "Meraki”اور ترجمے کے لیے "محمد حسن عسکری ایوارڈ” نسیم احمد/ڈاکٹر اقبال آفاقی کے انگریزی سے اردو ترجمہ کی کتاب "فلسفہ تاریخ” کو دیا گیا۔

قومی ادبی انعام حاصل کرنے والی ہر کتاب کے مصنف کو دو دولاکھ روپے بطور انعامی رقم دیے جائیں گے۔

ڈاکٹر خشک نے کہا کہ اہل قلم مذہب، رنگ ونسل، زبان اور خطے سے بالا تر ہو کر صرف انسانیت کے لیے سوچتے ہیں۔

حقیقی فن پارے میں کسی نوعیت کا تعصب نہیں ملے گا اور دنیا کا کوئی بھی معاشرہ صحیح معنوں میں اس وقت تک معزز نہیں کہلا سکتا جب وہ مہذب بنانے والوں کی قدر نہیں کرتا۔

اکادمی اہل قلم کی خدمات کا اعتراف کرتی رہتی ہے ملک کے نامور ادبی شخصیات کو ادب کے میدان میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں "کمال فن ایوارڈ” دیتی ہے اور اسی طرح ہر سال پاکستانی زبانوں میں لکھے جانے والی بہترین کتابوں پربھی ایوارڈز کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے اکادمی کے ترقیاتی اسکیموں اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ اکادمی”ہال آف فیم”، "لٹریری میوزیم آف پاکستانی لینگویجز” کی تیاری کا آغاز کر رہی ہے اس کے علاوہ چائنا رائٹرز فورم کے تعاون سے انٹر نیشنل کانفرنس اور پاک ترک لٹریری فیسٹیول پر کام جاری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے