Baam-e-Jahan

’میں تو پھر بھی چترال ہوں‘

تحریر: احمد فراز

فرنود عالم اور ہمارا لفظوں کا تعلق ہے۔ وہ لکھتے ہیں اور ہم پڑھتے ہیں۔ اسی طرح فرنود کےالفاظ ہمارے اور ان کے درمیان دوستی کے پل بن جاتے ہیں۔ آج کل فرنود صاحب چترال میں فروکش ہیں۔ چترال میں آج تک میں نے دو طرح کے سیاح آتے دیکھے ہیں، ایک وہ جو آدھ کھلی آنکھوں کی وادی کیلاش سے چترال بازار پہنچتے ہیں اور سلاجیت کے ہمراہ واپس لواری ٹنل کا رخ کرتے ہیں۔ اور پھر لواری ٹنل سے آگے جاکر منہ کھولتے ہیں۔ دوسرے گروہ میں وہ سیاح شامل ہیں جن کے صف اول میں فرنود کھڑے ہیں۔ جن کے الفاظ ‘جی میرا تعلق چترال سے ہے’ بولنے والوں کو فخر کے ساتھ ایسا بولنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ اپنے ایک کالم "چترال کی حسین آنکھ کا پھیلتا ہوا کاجل” میں چترال کی تاریخی، ثقافتی اور جغرافیائی محرومیوں کے رنگوں کی قوس قزح بنائی ہے۔ جی ہاں فرنود ہی ہیں جو اپنے لفظوں سے محرومیوں اور المیوں کا ذکر کرتے ہوئے بھی قوسِ قزح بنانے پر قدرت رکھتے ہیں۔

ان کے مضامین اتنے دلکش ہوتے ہیں کہ گر غالب ہوتے تو ایک ایک مضمون پر سارا دیوان قربان کر دیتے۔ یا پھر فرنود ہی جیسا دوسرا لکھنے والا ہوتا تو انکی مدح سرائی میں داستان لکھتے۔ مشکل یہ ہے کہ راقم الحروف میں نہ غالب بستا ہے نہ فرنود جیسا لکھاری۔ مذکورہ مضمون پڑھتے ہوئے ایک پیراگراف نے ماضی ایسے یاد دلایا کہ ان الفاظ کو قلم سے کاغذ پر ٹپکنا ہی پڑا۔ ذرا وہ پیراگراف پڑھیے اور بعد میں واقعہ بھی سنیے!

"میرے (چترال کے) پاس تو اپنا تعارف کرانے کا اختیار بھی نہیں ہے۔ ایک تعارف میں کراتا ہوں اور ایک بابو کراتا ہے، زمانہ بابو کا اعتبار کرتا ہے۔ یہ وہ بابو ہیں جن کی میز پر میری فائل آجائے تو قدرے تحقیر سے کہتا ہے، داخو چترالے دے مڑا۔ تحقیر کے یہی رنگ جب یہ لاہور اور کراچی کے لہجوں میں دیکھتے ہیں تو شکایت کرتے ہیں۔ ایسے لوگ میرا تعارف کرائیں گے بھی تو کیا کرائیں گے۔ یہی کہ چترال میں لوگ اپنی بیٹیاں بیچتے ہیں اور چترال میں خالص سلاجیت ملتی ہے۔ ناف سے ذرا سا اوپر اٹھ کر بھی لوگ منظرنامہ دیکھ سکتے ہیں، مگر کیا کریں۔ یہاں تو کوئی قندیل جان سے گزر جائے تو ننگے پاؤں پر دھیان کرنے کی بجائے لوگ ننگی رانوں پر بحث کرتے ہیں۔ میں تو پھر بھی چترال ہوں۔”

واقعہ میرے جامعہ پشاور میں پہلے ہفتے کا ہے۔ حسب عادت خاموشی سے کلاس میں بیٹھا اپنی سوچوں میں گم تھا کہ اچانک کوئی پاس آکے بیٹھا اور پشتو میں کچھ کہا۔ میں نے بھی جھٹ سے کہا:”پشتو نہ پوئی گی۔”

"اچھا چترالی۔۔!”
میں نے اثبات میں سرہلایا مگر ابھی مکمل تعارف بھی نہ کرایا تھا کہ اس نے کرسی میری طرف کھینچی اور بڑے اطمینان کے ساتھ کہا:

"یار ایک بات بتاؤ! چترال میں لوگ اپنی بیٹیاں کیوں بیچتے ہیں؟”
غصے سے خون جوش مارنے لگا لیکن لفظ ‘چترالی’ نے جیسے دل پہ ہاتھ رکھ کے کہا کہ تم چترالی ہو، امن پسند چترالی۔

اس سوچ کو ذہن سے نکالنے کی تگ و دو میں تھا کچھ کام نپٹانے نکلا۔ کچھ ضروری کاغذات پر دستخط چاہیے تھے۔وہیں ایک مقامی بزرگ سے آمنا سامنا ہوا ۔ اس کا پھر پشتو میں استفسار اور میرا وہی جواب کہ "پشتو نہ پوئی گی” ۔ یہ آدھا جملہ جیسے میرے تعارف کے لئے کافی تھا۔ بزرگ نے بھی چترالی کہہ کر مخاطب کیا اور ساتھ سلاجیت کی فرمائش کی۔

کاش فرنود اس وقت یہ کالم لکھتے اور میں پڑھتا۔ اس وقت خاموش رہنے کے بجائے کم از کم پیراگراف کا یہ حصہ تو ضرور ان دو لوگوں کو سناتا۔

"ایسے لوگ میرا تعارف کرائیں گے بھی تو کیا کرائیں گے۔ یہی کہ چترال میں لوگ اپنی بیٹیاں بیچتے ہیں اور چترال میں خالص سلاجیت ملتی ہے۔ ناف سے ذرا سا اوپر اٹھ کر بھی لوگ منظرنامہ دیکھ سکتے ہیں، مگر کیا کریں۔ یہاں تو کوئی قندیل جان سے گزر جائے تو ننگے پاؤں پر دھیان کرنے کی بجائے لوگ ننگی رانوں پر بحث کرتے ہیں۔ میں تو پھر بھی چترال ہوں۔”
میں تو پھر بھی چترال ہوں ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں