Baam-e-Jahan

دیامر کے جنگلات میں لگی اگ پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا

رپورٹ : ارشد حسین جگنو

چیلاس: گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں مختلف مقامات پر جنگل میں گذشتہ کئی دنوں سے آگ بھڑک رہی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں شدت آتی جارہی ہے۔ جس کے نتیجے میں سینکڑوں ایکڑ پر پھیلے قیمتی درخت راکھ ہوگئے۔ اور ان جنگلوں میں پائے جانے والے قیمتی جانوروں اور نباتات کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
گزشتہ چار روز سے ہڈر اور گوہرآباد کے جنگل میں لگی آگ سے لاکھوں مکعب فٹ لکڑی، دیودار،چیڑ اور چلغوزے کے درختوں کو نقصان پہنچا ہے۔ جبکہ پیر کے دن داریل کھنبری کے جنگل مں بھی آگ بھڑک اٹھی تھی جس سے پورے علاقے میں تشویش کی لہر دور گٗیی ہے۔ پہلے کھنر پل پھر گیس پل کو آگ لگائی گئی اب اچانک سے دیامر کے تین مقامات کے جنگلات پر آگ لگناسمجھ سے بالاتر ہے۔ جبکہ دوسری جانب مقامی آبادی اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجانے ک کوشیش کر رہے ہیں۔ حکومتی سطح پر اب تک کوئی اقدامات نہیں اٹھایا گیا ہے۔
ڈسٹرکٹ کنزرویٹر، یعقوب علی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مقامی رضا کار اور محکمہ جنگلات کا عملہ ان مختلف مقامات پر آگ کو بجھانے کے لئے بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ، کہ انہیں عملہ اور وسائل کی کمی کے باعث شدید مشکلات پیش آرہی ہے۔ "ہمیں انسانی و مالی وسائل کی اشد ضرورت ہے۔”

لوگوں نے یکے بعد دیگرے پانچ جگہوں پر لگنے والی آگ پر شدید تشویش اور شبہات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ لکڑ مافیا اور خود محکمہ جنگلات کے ملازمین اس معاملے میں ملوث ہوسکتے ہیں۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت اور فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ محدود وسائل کی وجہ سے آگ پر قابو پانے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے اربوں کا نقصان ہو رہا ہے۔
ایک مقامی شخص نے بام جہاں کو بتایا کہ "ہم اپنی مدد آپ کے تحت اگ بجانے کی کوشش کر رہے ہیں مگر اب تک حکومت کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ہیں۔”
جن جنگلات میں آگ لگی ہے وہاں تک سڑک نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو پہنچنے میں بھی دشواری ہو رہی ہے۔
گلگت بلتستان ڈیزاسٹر منیجمنٹ کے پاس بھی آگ بجانے کیلئے جدید الات اور ہیلی کاپٹر کے سہولیات میسر نہیں ۔
انہوں نے وزیر اعلی گلگت بلتستان خالد خورشید سے معاملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

دریں اثنا گوہرآباد کے علاقے میں ہوڈدر جنگل میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد سکریٹری جنگلات نے ضلع دیامر کے رینج فاریسٹ افیسر (ارایف او)ااحتشام شاہین کومعطل کردیا ہے۔


سکریٹری جنگلات نے ڈپٹی کمشنر دیامر کو انکوائری افیسر مقرر کیا ہے اور انہیں آرڈر کیا ہے کہ وہ فرائض کی انجام دہی میں غفلت کے سبب رینج فارسٹ آفیسر کے خلاف تحقیقات کرے۔

محکمہ داخلہ و محکمہ جنگلات گلگت بلتستان کا ایک ہنگامی بیٹھک میں کہنا تھا ضلع دیامر کے مختلف جنگلات میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے،کچھ حصوں میں معمولی نوعیت کی آگ اب بھی موجود ہے جسے بجھانے کیلئے محکمہ جنگلات،ضلعی انتظامیہ اور مقامی رضاکاروں کی ٹیمیں مصروف عمل ہے

وزیر اعلی گلگت بلتستان کی خصوصی ہدایت پر سیکریٹری داخلہ و جنگلات سمیر احمد سید اور آرمی کے حکام نے متاثرہ جنگلات کا فضائی جائزہ لیا۔
کمشنر دیامر ریجن کیمپ آفس میں کنٹرول روم اور آتشزدگی کی اصل وجوہات جاننے کیلئے جوائنٹ ٹیم تشکیل دی گئی جس میں محکمہ جنگلات،ضلعی انتظامیہ اور کمیونٹی کے نمائندے شامل ہیں۔اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے والی ٹیموں کیلئے تمام تر وسائل،آلات اور راشن مہیا کیا جائے گا۔
ہنگامی بیٹھک میں ذمہ داران کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر آگ کی شدت نہ ہونے کے برابر ہے جسے محکمہ داخلہ و جنگلات نے موجودہ آگ کی شدت کو کٹیگری iii قرار دیا ہے۔
مزید تفصیلات جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ضلع دیامر کے علاقوں گیس پائین، ہڈور اور کھنبری کے جنگلات میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور تشکیل کردہ ٹیمیں باقی ماندہ معمولی نوعیت کی آگ پر قابو پانے کیلئے جدو جہد کررہی ہیں۔
اس حوالے سے مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ گوہراباد جنگل میں آگ تاحال بے قابو ہے اور مقامی آبادی اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے میں لگی ہوئی ۔ آگ نے اب تک تقریبا چھ ایکڑ سے بھی زیادہ رقبے میں جنگک کو اپنے لپیٹ میں لیا ہے ۔

محکمہ داخلہ و جنگلات کے موقف کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات کے حوالے تمام زاویوں سے جائزہ لیا جا رہا ہے جس کے بعد آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم ہوسکے گی کہ آیا یہ ایک قدرتی عمل کا نتیجہ تھا یا کوئی انسانی ردعمل کا نتیجہ ہے۔

دیامر کے جنگلات میں لگی آگ کے حوالے سے سوشل میڈیا میں پھیلائی جانے والی تصویروں اور خبروں کو جھوٹی قرار دیا ہے۔
اور ساتھ میڈیا اور سوشل میڈیا کارکنوں سے مثبت رپورٹنگ کی گزارش کی ہے۔ محکمہ جنگلات و داخلہ کے مطابق 9 جون کو دیامر کے مختلف جنگلات میں آگ لگنے کے فوری بعد محکمہ جنگلات، ضلعی انتظامیہ اور مقامی رضاکاروں پر مشتمل ٹیمیں متاثرہ جگہوں کو روانہ کیا گیا تھا۔ دشوارگزار پہاڑی راستے اور دورافتادہ علاقوں تک پہنچنے میں کافی مشکلات کا سامنا رہا۔تاہم ان ٹیموں کی انتھک اور شبانہ روز محنت کے صلے میں اگ پر قابو پایا گیا ہے۔اس دوران حکومت گلگت بلتستان نے فضائی جائزہ لینے کیلئے آرمی کی ہیلی کاپٹر سروس کیلئےمدد طلب کی تھی جس کے بعد متاثرہ جنگلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔دوسری جانب فوج کے ترجمان کا کا کہنا ہے کہ مشکل کی ہر گھڑی میں وہ حکومت گلگت بلتستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔.

دیامر اور دیگر اضلاع میں گزشتہ پانچ سالوں میں لگنے والے اگ کی ٹائم لائن۔

اپریل 2018 میں وادی نگر کی پہاڑیوں میں جنگل میں آگ بھڑک اٹھی، جس نے سینکڑوں درختوں کو تباہ کردیا اور جنگل میں بسنے والے معدومیت کے خطرے سے دوچارنایاب جنگلی حیات کے مسکن کو نقصان پہنچا تھا۔
وادی نگر کے پسان جنگل میں یہ آگ لگی تھی۔ اس سے پہلے ملحقہ غلمیت کے جنگلات میں پھیلنے سے پہلے مقامی لوگوں نے اسے بچایا تھا ۔” جب کہ آگ کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی ، مقامی لوگوں نے بتایا کہ جنگلات برچ کے خطرے سے دوچار جنگل کے کنارے جنیپر کے درختوں پر مشتمل ہیں ، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ناپید ہونے کے خطرے سے دوچار برفانی چیتے کے علاوہ دیگر جنگلء حیات کا بھی مسکن ہے۔

اگست 2017 میں ضلع گلگت کے اندر واقع جگلوٹ کے علاقے سائی بالا کے ہورپائی نالہ میں نامعلوم افراد نے جنگل کو نذر آتش کردیا تھا۔کچھ لوگوں نے دوسروں سے زیادہ لکڑی کاٹ دی تھی اور اس کے بدلے میں کچھ نامعلوم افراد نے اس جنگل کو نذر آتش کردیا۔

جگلوٹ کے مقامی لوگوں نے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں پر رشوت لینے اور جان بوجھ کر ان غیر قانونی سرگرمیوں کی طرف آنکھیں بند کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

دسمبر ، 2017 کو ، اسی طرح کی ایک آگ ، جو ضلع دیامر کی وادی گوہرآباد کی پہاڑیوں میں لگی تھی ، نے درجنوں درختوں کو جلا کے خاکستر کر دیا تھا۔ سئی جگلوٹ کے علاقے میں ضرورت سے زیادہ لاگنگ کرنے پر تنازعہ چل رہا تھا۔

جنگلات میں آگ کیسے لگتی ہے؟


جنگلات میں آگ لگنے کیلئے تین چیزوں کا ہونا لازمی ہے، آکسیجن، ایندھن اور تپش۔

فائر فائٹرز جب بھی کسی حادثے میں آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو وہ ہمیشہ ’فائر ٹرائینگل‘ کا ضرور تذکرہ کرتے ہیں۔

فائر ٹرائینگل کا مطلب ہوتا ہے کہ آگ بجھانے کے لیے ضروری تین چیزوں میں سے ایک کو ہٹا لیا جائے تو آگ پر آسانی سے قابو پایا جاسکتا ہے۔

گرمیوں میں جب درجہ حرارت بہت بڑھ جائے اور خشک سالی کے حالات درپیش ہوں تو ایک چھوٹی سی چنگاری آگ لگنے کا سبب بن سکتی ہے

عموما یہ کہا جاتا ہے کہ جنگلات میں آگ قدرتی طور پر سورج کی تپش یا پھر آسمانی بجلی کے گرنے سے لگ جاتی ہے۔

تاہم جنگلات میں آگ لگنے کی سب سے بڑی وجہ انسانوں کی برتنے والی بے احتیاطی ہے۔ بعض اوقات جان بوجھ کر بھی آگ لگائی جاتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں