Baam-e-Jahan

یہ فاشزم نہیں بدحواسی ہے

وسعت اللہ خان

وسعت اللہ خان


حکمران جماعت پی ٹی آئی کے نائب صدر اور وزیرِ ریلوے اعظم سواتی کی جانب سے الیکشن کمیشن کو جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے، انتخابات میں مخالفین سے رشوت لینے کے الزامات اور الیکشن کمیشن جیسے اداروں کو آگ لگا دینے کی خواہش پاکستان میں ڈھلوان پر تیزی سے پھسلتی بریک فیل سیاست بازی کا ایک اور ثبوت ہے۔

میں کن لوگوں میں رہنا چاہتا تھا

یہ کن لوگوں میں رہنا پڑ رہا ہے

پہلے پارلیمنٹ کو چوروں اور لٹیروں کی آماجگاہ قرار دیا گیا، پھر عدلیہ کو فرداً فرداً (ججوں کو) عام آدمی کی نظروں میں بے توقیر کرنے کا چلن شروع ہوا۔ پھر مخالفین کو غدار، ڈاکو، بیرونی ایجنٹ کے خطابات مرحمت فرمائے گئے۔

سماج کو پاک صاف کرنے کے لیے ٹاک شو میں میز پر جوتا رکھ کے پانچ ہزار لوگوں کو چوک پر پھانسی دینے کا نسخہ بتایا گیا اور اب الیکشن کمیشن کو آگ لگانے کی تمنا ظاہر ہو گئی۔

یعنی اس ملک میں تادمِ تحریر سوائے مسلح افواج کے ہر آئینی ادارے کو آئین کی عطا کردہ کرسی پر بیٹھ کر کھل کے گالیاں اور دھمکیاں دینے کا دائرہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔

اور پھر آخر میں میڈیا کو یہ گند پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے کر اس کا منھ سینے کی دھمکی سونے پہ سہاگہ۔

میڈیا سے لڑائی اب اس سطح پر آن پہنچی ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں جھوٹ اور جعلی خبریں پھیلانے والے۔ ہمارے تو اپنے اپنے ٹرول بریگیڈز، انٹرویوز، بیانات اور سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ دکھانے کے پیمانے موجود ہیں۔

ہم آپ جیسے ٹچے میڈیا کے محتاج تھوڑی ہیں۔ خبردار جو ہمارے میدان میں دخل اندازی کی۔ آپ بس ایک اچھی بہو کی طرح ریاست کی تابعداری کریں۔ حقیقت کیا ہے اور دھوکہ کیا۔ یہ ہم طے کر کے آپ کو نشر یا خبر کے لیے فراہم کریں گے۔

کچھ دوست کہتے ہیں کہ یہ فاشزم کی جانب سفر ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ایسے لوگ فاشزم کے آداب سے بھی نابلد ہیں۔ فاشزم محض کسی وقتی جنونی کیفیت کا نام تھوڑا ہے۔

فاشسٹ تو بہت ذہین، نظریاتی، ثابت قدم اور محنتی لوگ ہوتے ہیں۔ وہ بدترین کام بھی بہترین نیت سے انجام دیتے ہیں۔

وہ سنہرے افسانوی ماضی کو ایک مدھر دھن میں بدل کے عوام کے ایک بڑے طبقے کو مست و مدہوش کر کے ایک شاندار خیالی مستقبل کے پیچھے چلنے پر ایسے مجبور کر دیتے ہیں کہ دشمن بھی اس صناعی پر عش عش کر اٹھے۔

فاشسٹ ہونا اور بچپن سے فاشسٹ بننے کا شوقین ہونا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ نیم حکیم مذہبی ہو کہ لبرل کہ کیمونسٹ کہ کیپٹلسٹ کہ دو نمبر فاشسٹ۔ وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ ہر طرح کے نمو پذیر ماحول کے لیے سوہانِ روح اور ایک اناڑی اذیت پسند ثابت ہوتے ہیں۔

نہ وہ خود ڈھنگ سے تیر سکتے ہیں اور تیرنے کے قابل ریاست کے پاؤں میں بھی پتھر کی طرح بندھ جاتے ہیں۔ ایسے فاشسٹ اگر ہٹلر اور مسولینی کے متھے لگتے تو وہ انھیں بدنامی کے خوف سے ترنت کسی کنسنٹریشن کیمپ میں بھیج چکے ہوتے۔

ان دنوں ہمیں جو وزارتی کیفیت درپیش ہے اسے زیادہ سے زیادہ جھنجھلاہٹی رویہ کہا جا سکتا ہے۔

جب میسر وقت میں ہوم ورک پورا نہ ہو، ہوم ورک مکمل کروانے والے ابا جی بھی اپنی دیگر مصروفیات میں الجھے ہوں اور خود کو تیس مار خاں سمجھنے کے باوجود بھی سکول واپسی سے ڈر لگے تو بچہ بھی کبھی ماں کو چٹکی نوچتا ہے، کبھی دودھ کا گلاس زمین پر دے مارتا ہے، کبھی بلاوجہ راتوں کو اچانک اٹھ کر رونے لگتا ہے، کبھی نیند میں بڑبڑانے لگتا ہے، کبھی بستر گیلا کر دیتا ہے اور کبھی گم صم ہو جاتا ہے۔

یہ فاشزم نہیں تبخیرِ معدہ و ذہن کا بحران ہے۔

میری نانی اماں اکثر کہتی تھیں کہ سونے کا کٹورہ مل جائے تو پانی پی پی کر اپھارہ نہیں کر لینا چاہیے۔

بشکریہ: ہم سب


جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے