noor shams uddin manas kyrgyzstan 141

کرغزستان کا منس

نور شمس الدین


کرغزستان میں داخل ہوتے ہی آپ کا واسطہ منس سے پڑے گا (انگریزی میں لکھے پر نہ جائیں یہاں کے باسی اسے "مہ نس” پڑھتے ہیں)۔ جہاز سے آئیں تو منس ائیر پورٹ میں اتریں گے۔ بس یا ریل کا سفر درپیش ہو تو منس اسٹیشن آپ کا منتظر ہوگا۔ افسوس یہ ملک چاروں طرف سے خشکی میں گھیرا ہوا ہے وگرنہ سمندری راستہ ہوتا تو آپ کو منس شِپ میں بیٹھ کر منس کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہونا پڑتا۔


ملک میں داخل ہو تو دارلخلافہ بیشکیک ہو یا پھر کوئی بھی شہر یا قصبہ، گھومنے باہر نکلیں تو منس اسٹریٹ بہترین جگہ ہوگی۔ کسی بڑی سڑک پر پہنچیں تو کسی سے پوچھنے کی زحمت نہ کریں وہ ضرور شاہراہ منس ہوگا۔ تعلیم حاصل کرنا ہے تو منس یونیورسٹی جائیں، شاپنگ کرنی ہو تو منس مارکیٹ اور گھومنا ہو تو منس پارک۔ اگر پارک کا نام منس نہ بھی ہو تو کہیں نہ کہیں منس کا مجمسہ ضرور دیکھنے کو ملے گا۔ پارک میں بیٹھ کو بور ہوجائیں تو منس ریڈیو اسٹیشن سے منس نظم سنیں۔

منس نظم سے یاد آیا کہ یہ فی الوقت دنیا کی سب سےلمبی نظم ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ کرغزستان میں کسی کو کچھ گنگناتے سنیں تو وہ منس ہی گنگنا رہا ہوگا۔ منس نظم یاد کرنا اور اسے سنانا یقینا آسان نہیں کیونکہ یہ کرغزستان کی پوری تاریخ کا تقریباً احاطہ کرتی ہے اور اٹھاریوں صدی میں جب اسے کتاب بند کی گئی تو یہ تین جلدوں میں بمشکل سما سکی۔ باوجود اس کے ملک میں اب بھی کثیر تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جنھیں یہ نظم پوری یاد ہے۔ ان لوگوں کو منسچی بولتے ہیں اور ہر قومی یا ثقافتی دن کسی بھی تقریب میں منسچی بلاکر ان سے منس سننا عام مشغلہ ہے۔ دولت سیدوف اب بھی حیات ہیں اور مشہور منسچی ہیں جو ستمبر 2021 میں روس کے دارلخلافہ ماسکو میں مسلسل پانچ دنوں تک منس سنانے کا عالمی ریکارڈ رکھتے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ اس سے پہلے نومبر 2020 میں آلاتو اسکوئر بیشکیک میں مسلسل 14 گھنٹے 27 منٹ تک منس سنانے کا ریکارڈ بھی ان ہی کے پاس ہے۔

سوال یہ ہے کہ یہ منس ہے کون؟ اس کے لیے ہمیں کئی سو سال پیچھے جانا ہوگا۔ تیان شیان اور پامیر کی پہاڑیوں میں ایک لاکھ نناوے ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا 75 لاکھ ترک نسل کرغز، ازبک اور روسی لوگوں کا مسکن کرغزستان جدید تحقیق کے مطابق دنیا کے ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں پتھر کے زمانے سے انسان بستے ہیں۔ اس زمانے سے لیکر بیسویں صدی تک یہ لوگ خانہ بدوشوں کی زندگی گزارتے تھے۔ انہیں ایک جگہ رکھنے اور کاشت کاری کے زریعے زندگی گزارنے کے اسباب کرنے کے لیے کمیونسٹ سویت یونین کو باقاعدہ قانون سازی کرنی پڑی اور اس قانون کو بندوق کی نوک پر لاگو کیا گیا تب جاکے جدید کرغزستان بن گیا۔ اب نناوے اعشاریہ نو فیصد شرح خواندگی رکھنے والے اس ملک کے وسیع القلب عوام اور قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے گزشتہ تین سالوں سے اس کی مجموعی آبادی سے زیادہ سیاح یہاں آتے ہیں۔

عالمی منظر نامے میں یہ ملک چین کو سنٹرل ایشاء تک راستہ فراہم کرتا رہا ہے۔ اس لیے روس یہاں اپنا اثر رسوخ کھو کر چین سے نظریں ہٹانے کی حماقت کے لیے تیار نہیں جبکہ وسطی ایشاء میں یہ واحد ملک ہے جہاں کی جمہوریت سے امریکہ کی امیدیں وابسطہ ہیں کہ ہو نہ ہو ایک دن جمہوریت کی کرنیں یہاں سے نکل کر باقی وسطی ایشاء کو منور کریں گی۔

شاہراہِ ریشم پر واقع ہونے کی وجہ سے یہ ملک دوسری قدیم و جدید ریاستوں کی بنیادی ضرورت رہی ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں سویت یونین کی آمد سے پہلے چینی منگول اس علاقے پر قابض رہے اور ان سے پہلے یہ ملک ان کے اصل باسیوں یعنی کرغز نسل کے زیرِ اثر رہا ہے۔ کرغز ترکی زبان سے اخذ شدہ لفظ ہے جس کے معنی چالیس قبائل کے ہیں اور ان چالیس خانہ بدوش قبائل کو یکجا کرکے انہیں مخصوص زمین کا وارث بنانے والا کوئی اور نہیں منس ہی تھا۔ جدید تحقیق منس کو افسانوی کردار مانتی ہے مگر پھر بھی ملک میں حکومتی و عوامی حلقوں میں سب سے مشہور کردار منس ہے۔ 1995 میں حکومتی سطح پر منس کا ہزارواں یوم پیدائش منایا گیا اور کرغزستان کی بنیاد رکھنے والے اس جنگجو کو حکومتی سطح پر خراج تحسین پیش کیا گیا۔

منس

کرغزستان کا جھنڈا دیکھیں تو اس میں سورج کی چالیس کرنیں نظر آئیں گی جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ ملک چالیس قبائل کے متحد ہونے سے بنا ہے۔ ان بکھرے اقوام کو متحد کرکے ایغور سے تیان شیاں کے پہاڑوں میں واقع اس علاقے کو چھڑا کر ترک نسل کرغز لوگوں کی حکومت قائم کرنے کا اعزاز منس کو ہی ملا تھا۔

روایات کے مطابق منس الاتو ریجن کے ایک شہر طلاس کے مضافات میں دفن ہے۔ منس نظم کہتی ہے کہ منس کو دشمن نسلی نہیں ملے تھے اور اس زمانے میں مردہ دشمن سے بدلہ لینا بھی عام سی بات تھی۔ اس سے بچنے کے لیے منس کی قبر پر کسی خاتون کا نام کندہ کیا گیا تاکہ دشمن اُن کی آخری آرام گاہ کی شناخت نہ کرسکے۔

آج کا طلاس کرغزستان اور قازقستان کے درمیان تقسیم ہے۔ قازقستان میں اس علاقے کا مشہور شہر طراز ہے جبکہ کرغزستان میں طلاس۔ دونوں علاقے ملاکر اسلامی تاریخ میں ماورالنہر کے نام سے مشہور ہیں۔ کرغز لوگ طلاس کو دو حوالوں سے جانتے ہیں۔ ایک یہ منس کی جائے پیدائش اور آخری آرام گاہ ہے۔ دوسرا یہ وہی وہ علاقہ ہے جہاں پہلے قتیبہ بن مسلم اور بعد میں ذیاد بن صالح کی قیادت میں عباسی فوج نے چینیوں کو شکست دی تھی اور اس کے بعد سنٹرل ایشاء میں اسلام پھیلنا شروع ہوا تھا۔ یہ الگ بات کہ بعد میں مسلمانوں کی روایتی باہمی چبقلش کے دوران چینی پھر سے چپ چاپ اسے اچک لینے میں کامیاب ہوئے۔

گو کہ جس مقصد کے لیے میں کرغزستان میں تھا اس کا طلاس سے کوئی تعلق نہ تھا مگر ایک تعلیمی کانفرنس میں شرکت کرنے کی غرض سے آخری دو دن طلاس میں گزارنے کا موقع ملا جس کا ذکر پھر کبھی۔


نور شمس الدین کا تعلق چترال سے ہے۔ آپ درس و تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں اور پی ایچ ڈی کے سلسلے میں قازقستان میں مقیم ہیں۔ وہ تاریخ سے متعلق ہائی ایشیا پر مضامین لکھتے ہیں۔
noorshams.uddin@nu.edu.kz

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں