93

چائلڈ لیبر اور اس کا سدباب


نصرت بشیر ظفر


ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 160 ملین سے زائد بچے چائلڈ لیبر کی لعنت کا شکار ہیں اور کورونا وائرس کے سبب ان کی تعداد میں مزید اضافہ ہو رہا۔

دنیا بھر میں 12 جون کوہر سال بچوں سے جبری مشقت کروانے کے خلاف عالمی سطح پر ”چائلڈ لیبر ڈے” منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد بچوں کو محنت و مشقت سے بچا کر تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا ہے اور ان افراد کی حوصلہ شکنی کرنی ہے جو بچوں کو محنت مزدوری کرواتے ہیں۔

زندگی میں بچپن ہی وہ دور ہوتا ہے جب انسان کو کسی قسم کی کوئی فکر لاحق نہیں ہوتی۔ کھاؤ، پیو، موج اڑاؤ مگر افسوس کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ بچپن نصیب ہی نہیں ہوتا اور پاکستان میں ایسا لاکھوں بچوں کے ساتھ ہورہاہے یہاں چائلڈ لیبر عام ہے یہاں آپ کو چائے کے ڈھابے، مکینک، فیکٹریوں، سڑکوں، گھروں غرض یہ کہ ہر جگہ بچے کام کرتے ہوئے نظر آئین گے ان بچوں سے چوبیس گھنٹے ہر قسم کا کام کروا لیا جاتا ہے اور بدلے میں جو تنخواہ ملتی ہے وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ ہوتی ہے اور تنخواہ کم ہونے کی وجہ یہ قرار دی جاتی ہے کہ وہ بچے ہیں حتی کہ وہ بچے اپنے گھروں کے بڑے ہوتے ہیں اور بڑوں سے زیادہ کام کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے مطابق دنیا بھر میں ایک اندازے کے مطابق 168 ملین بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جن کی عمر18 سال سے کم ہے۔ پاکستان میں بھی چائلڈ لیبرمیں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ان میں 60 لاکھ بچے 10 سال سے بھی کم عمر کے ہیں۔ جو سرکاری اعداد و شمارچائلڈ لیبر کے بارے میں جاننے کے لیے اکٹھے کیئے گئے وہ 18سال قبل کیئے گئے تھے جس کے مطابق 73 فیصد لڑکے اور 27 فیصدلڑکیاں چائلڈ لیبر کا شکار ہیں۔

چائلڈ لیبر کی سب سے اہم وجہ غربت کو قرار دیا جاتا ہے مگر یہ کہنا بھی درست نہیں کیونکہ بچوں کو تنخواہیں کم دی جاتی ۔ملک میں ایمپلائمنٹ آف چلڈرن ایکٹ کے مطابق، جو شخص بھی 16 سال سے کم عمر بچوں کو ملازم رکھتا ہے یا اس کی اجازت دیتا ہے تو اسے 20 ہزار روپے تک جرمانہ یا قید کی سزا جس کی مدت ایک سال ہے ہو سکتی ہے، یا دونوں سزائیں اکٹھی بھی دی جا سکتی ہیں۔ اگر وہ شخص دوبارہ اسی طرح کے جرم کا ارتکاب کرے تو اس کی کم از کم سزا 6 ماہ ہے جس کی مدت دوسال تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ اس قانون کے ہونے کے باوجود پاکستان میں فی الوقت آپ کو گھر گھر میں 10سال سے کم عمر لڑکے اور لڑکیاں چوبیس گھنٹے کام کرتے ہوئے دکھائی دیں گے۔

عالمی ادارہ محنت کے مطابق چائلڈ لیبر کے زمرے میں آنے والے بچے زیادہ تر قالین بننے، چوڑیاں بنانے کی صنعت، سرجیکل آلات بنانے، کوڑا چننے، چمڑا رنگنے کی صنعت کے علاوہ گھروں میں ملازمت کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔چند ماہ قبل انٹرنیشنل لیبرآرگنائزیشن کے تحت جو رپوٹ شائع ہوئی، اس میں دنیا کے 67 ایسے ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے، جہاں چائلڈ لیبر کے حوالے سے خطرناک صورتحال ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کا چھٹا نمبر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال کو بہتر کرنے میں حکومت سنجیدگی سے کوشش کرے اور موثر قانون سازی پر توجہ دے تو ملک میں چائلڈ لیبر کا خاتمہ ممکن ہے۔ پاکستان میں فیکٹریوں اور چائے کے ڈھابوں پر بچوں کا کام کرنا عام بات ہے۔ یہ بچے کم پیسوں میں دس سے بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔اس وقت لاکھوں کی تعداد میں بچے مزدوری کر رہے ہیں۔

چائلڈ لیبر ایک ظلم ہے بچے سے اس کا بچپن چھین کر مشقت پر لگا دینا انسانی حقوق کی بد ترین شکل اور خلاف ورزی ہے پاکستان نے عالمی کنونشنز کی توثیق کررکھی ہے اس پر آئین پاکستان اورعالمی کنونشنز کی روشنی میں قانون سازی بھی کی گی ہے مگر تاحال چائلڈ پروٹیکشن پالیسی نہیں بنائی گی۔

دوکانوں کارخانوں کھیتوں سمیت گھروں میں کام کرنے بچے جسمانی تشدد جنسی زیادتی شدید نفسیاتی دباو ودگر امراض کاشکار ہورہے ہیں ان کا کوئ پرشان حال نہیں ہےقانون سازی کے باوجود بچے بڑی تعداد میں جبری مشقت کاشکار ہیں آئین پاکستان کا آرٹیکل اے-25 ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ چھ برس سے پندرہ برس کی عمر کے بچوں کو مفت تعیلم اور لازمی فراہم کی جاے جبکہ آرٹیکل 27 اور 28میں چائلڈ لیبر کی روک ھا مکےحوالے سے اقدامات کرنے کی بات کی گی ہے بچوں کے حقوق کے عالمی کنونشن کے مطابق چائلڈ لیبر کو روکنے کیلئے ریاست کو کردار ادا کرناہوگا آئ ایل او کنونشن 182 بچوں کی پرخطرہ ملازمت کی ممانعمت کرتا ہے اس پرتما م ممالک نے دستخط کر رکھےہیں 45 لا کھ بھٹہ مزدور ہیں ڈھائ کڑور بچے سکول نہیں جارہے جبکہ یون این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق چار کڑور بچے سکول نہیں جارےعالمی ادارۂ محنت کے مطابق چائلڈ لیبر کے زمرے میں آنے والے بچے زیادہ تر قالین بننے، بھٹوں پر چوڑیاں بنانے کی صعنت، سرجیکل آلات بنانے، کوڑا چننے، چمڑا رنگنے کی صعنت کے علاوہ گھروں میں ملازمت کرتے پائے جاتے ہیں۔

چند ماہ قبل انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے تحت جو رپورٹ شائع ہوئی، اس میں دنیا کے 67 ایسے ممالک کی فہرست جاری کی گئی ہے، جہاں چائلڈ لیبر کے حوالے سے خطرناک صورتحال ہے۔ اس فہرست میں پاکستان کا چھٹا نمبر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس صورتحال کو بہتر کرنے میں حکومت سنجیدگی سے کوشش کرے اور مؤثر قانون سازی پر توجہ دے تو ملک میں چائلڈ لیبر کا خاتمہ ممکن ہے۔

پاکستان میں بھٹوں فیکٹریوں اور چائے کے ڈھابوں میں بچوں کا کام کرنا عام بات سی ہے۔ یہ بچے کم پیسوں میں دس سے بارہ گھنٹے کام کرتے ہیں۔

اس وقت لاکھوں کی تعداد میں بچے مزدوری کر رہے ہیں لیکن حکومت کے پاس ایسے اعداد و شمار نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ حکومت کو یہ علم بھی نہیں کہ یہ بچے کہاں کام کر رہے ہیں اور انہیں بچانے کا کام کیسے کیا جائے۔
چائلڈ لیبر گو کہ ترقی پذیر اور ترقی یافتہ دونوں ممالک میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہیں مگر فرق صرف یہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے قوانین موجود ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی ہے مگر ترقی پذیر ممالک میں چائلڈ لیبر کے حوالے سے قوانین صرف کاغذوں میں موجود ہیں ، ان پر عمل درآمد ناپید ہے اور خاص طور پر وہ بچے جو بھٹوں گھروں، ڈھابوں، دکانوں میں کام کرتے ہیں ، ان سے جانوروں کی طرح کا  لیا جاتا ہے، جن بچوں کو گھر پر رکھا جاتا ہے ، بھلے یہ کہہ کر رکھا جائے کہ تھوڑا بہت کام کروایا جائے گا مگر ان سے بھی ہر قسم کا کام کروا لیا جاتا ہے ، وہ بھی انتہائی معمولی تنخواہ پر۔

اگر چائلڈ لیبر میں ملوث بچوں کے لیے عمر کا تعین ہو، تنخواہیں مقرر ہوں، گھنٹوں کا تعین ہو، تعلیم کا انتظام ہو، جسمانی اور جنسی تشدد پر سزائیں اور جرمانے مقرر کیےجائے۔


اس لیے اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہر سال سروے کروائے جائیں ، یہ بات جاننے کی کوشش کی جائے کہ کتنے بچے محنت مزدوری کر رہے ہیں ۔ ان کے ساتھ ان کے مالکان کس قسم کا سلوک کر رہے ہیں تو ہی پاکستانی بچوں کو غلط اور غیر محفوظ ہاتھوں میں جانے سے بچایا جاسکے گا ۔ ان کی تعلیم اور تربیت کا بندوبست کیا جا سکے گا۔

نصرت بشیر ظفر پاکستان بھٹہ مزدور فیڈریشن اور پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کی صدر ہیں اور بایاں بازو کی جماعت عوامی ورکرز پارٹی لاہور کی رکن ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں