76

قربانی کا بکرا

کالم ۔ قطرہ قطرہ

تحریر۔ اسرارالدین اسرار

قربانی کے بکرے کی کہانی کافی دلچسپ ہوتی ہے۔ مالک سال بھر بڑے لاڑ سے پالتا ہے۔ بکرا یہ سمجھتا ہے کہ مالک کتنا رحم دل اور پیار کرنے والا ہے۔ ایک دن بہت اہتمام کے ساتھ اس کو منڈی تک پہنچایا جاتا ہے۔ جہاں یہ بکرااپنے ہم قبیلہ جانوروں اور دیگر بکروں سے مل کر اور منڈی کی ہلچل دیکھ کر بہت خوش ہوتا ہے۔ اکثر سادہ لوح بکرے گاوں سے شہر کی منڈی تک پہنچ کر حیران بھی ہوتے ہیں اور یوں خیال کرتے ہیں کہ ان کو شہر کے سیر سپاٹے پر لایا گیا ہے۔ پھر ایک کے بعد ایک انسان آکر ان کو دیکھتے اور مالک سے کھسر پھسر کر کے چلے جاتے ہیں۔ لوگوں کی بڑھتی دلچسپی اور رش دیکھ کر بکرا اپنے حسن پر ناز کرتا ہے ۔ بکرے کا خیال ہوتا ہے کہ لوگ ان کے حسن سے متاثر ہوکر ان کو دیکھنے آتے ہیں۔ بکرا ساری انسانی خفیہ سازشوں سے ناواقف ہوتا ہے۔ ایک دن مالک اور گاہک کے درمیان بکرے کو لاعلم رکھ کر اس کا سودا طے ہوجاتا ہے۔

بکرےکو کسی سوزکی میں بیٹھا کر جب لے جایا جاتا ہے تو وہ ہوا خوری سے بہت لطف اندوز ہوجاتا ہے۔ شہر کی مرکزی سڑک سے گزر کر انسانی ترقی اور کمالات دیکھ کر دل ہی دل میں اشرف المخلوقات کی قابلیت کا معترف ہوجاتاہے۔ قربانی کے گھر پہنچ کر اہل خانہ کی خاطر مدارت دیکھ کر خوشی سے پھولے نہیں سماتا ہے۔ بچے بڑے سب ان کا طواف کرتے اور پیٹ پر ہاتھ پھیر کر محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اہل محلہ خصوصی طور پر ان سے ملنے آتے ہیں۔ خود کو اپنے قبیلے سے الگ اور تنہا پا کردل میں ایک خفیف سا شک بھی جنم لیتا ہے مگر انسانوں کی بے پناہ محبت دیکھ کر ان کا وہ شک دور ہوجاتا ہے۔ بکرے خوب خاطر مدارت ہوتی ہے۔ اس کے پروٹو کول میں پہلے سے گنا زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ نت نئ چیزیں ان کی خدمت میں کھانے کے لئے پیش کی جاتی ہیں۔ نیاء ماحول اور نئے لوگوں سے وہ جلد مانوس ہوجاتا ہے . دل ہی دل میں خوشی کا اظہار کرتا اور اپنے مستقبل کو روشن اور خوشحال سمجھتا یے۔پھر وہ دن آجاتا ہے جس کے لئے سارا اہتمام کیا گیا ہوتا ہے۔ اہل خانہ اور دیگر لوگ اکھٹے ہوجاتے ہیں۔ بکرا حیرت سے سب کو تکتا ہے۔ ایک ساتھ بہت سے لوگوں کو اکھٹے دیکھ کر حیرت زدہ اور کچھ نرویس بھی ہوجاتا ہے۔رسیوں سے باندھ کر جب بکرا لیٹایا جاتا ہے تو اس دوران ان کی پریشانی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ دل گھبرانے لگتا ہے، دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں اور سانس گھٹنے لگتی ہے۔ ان کا شک یقین میں بدل جاتا ہے۔ اب ان کو معلوم ہوجاتا ہے کہ ان کے ساتھ کچھ غیر معمولی سلوک ہونے جارہا ہے ۔ اچانک انسانی بےدردی اور سر مہری کو بڑھتے دیکھ کر وہ چلانے لگتا ہے۔ وہ بھاگنا چاہتا ہے جس کے لئے وہ ہاتھ پیر ہلاتا ہے۔ مگر اب وہ چاروں طرف سے رسیوں اور انسانی ہاتھوں میں بری طرح جکڑا ہوتا ہے۔ جان بچانے کی ہر ممکنہ تدبیر ناکام ہوجاتی ہے۔ انسانوں کے تیور بدلتے دیکھ کر ان کو دکھ ہوتا ہے۔ سال بھر کی خاطر مدرات کی اصل وجہ ان کو سمجھ آتی ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ انسان چلاک اور مفاد پرست ہوتا ہے۔ اس کی محبت اور پیار میں مفاد چھپا ہوتا ہے۔ انسان جانوروں سے بے غرض محبت نہیں کرتا۔ انہی خیالات کے درمیان ایک سفاک چھری بکرے کی گردن میں پھیر دی جاتی ہے۔ ان کی گردن اور منہ سے آخری چیخ نکل جاتی ہے اور یوں ان کام تمام ہوجاتا ہے ۔ ایک دن کے اندر اندر وہ بوٹی بوٹی ہوکر انسانوں کے شکم میں داخل ہوجاتا ہے۔

قربانی کے جانور کی اس دردناک کہانی کے پس منظر میں جو حقائق، منصوبہ بندی، مناظر اور سوچ پائی جاتی ہے اسی کی وجہ سے "قربانی کا بکرا” محاورہ کے طور پر صدیوں سے استعمال کیاجاتا ہے۔ جو انسان کسی خاص مقصد کے لئے خاطر مدارت کے بعد تیار کیا جاتا ہے اور مقررہ وقت پر خود کو مصیبت سے بجانے کے لئے ان کو قربانی کے لئے پیش کیا جاتا ہے اس کو محاورتا "قربانی کا بکرا” کہا جاتا ہے۔ جیسے انسان اپنی تمام تر کوتاہیوں، گناہوں، جرائم اور خباثتوں کی قربانی دینے کی بجائے بکرے کی قربانی دے کر خود کو بری الذمہ قرار دیتا ہے بالکل اسی طرح قربانی کا بکرا نما انسان کو قربانی کی بھینٹ چڑھا کر شاطر انسان بچ جاتا ہے۔ یوں سالانہ لاکھوں بکرے زبح ہونے کے باوجود ہمارے معاشرے میں قربانی کے بکروں کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہوتی ہے۔ انسان روز اپنی جگہ دوسرے انسانوں کو قربان کرنے کی تدبیر سوچتا رہتا ہے۔ اس کی بہترین مثال حکمران اور عوام ہیں۔

صدیوں سے حکمران انسانوں کو قربانی کے بکرے بناتے رہے ہیں۔ اصلی بکروں کی طرح عوام کو بھی اس وقت تک حکمرانوں کی نیت کا معلوم نہیں ہوجاتا ہے جب تک وہ قربان گاہ میں داخل نہیں ہوجاتے ہیں اور گلے میں چھری نہیں پھیری جاتی ہے اس سے قبل وہ اسی طرح ہی لاعلم، بیوقوف اور سادہ لوح ہوتے ہیں جیسے اصلی بکرے ہوتے ہیں۔ لہذا یہ کہنا بےجا نہیں ہوگا کہ "قربانی کا بکرا” کا محاورہ صدیوں بعد بھی اپنی اصل حالت میں کارآمد اور بامعنی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں