172

لوئر چترال: محکمہ جنگلات کی بڑی کاروائی، لاکھوں روپے مالیت کی دیار کی لکڑی غیر قانونی طور پر اسمگلنگ کرنے کا منصوبہ ناکام بنایا گیا

گل حماد فاروقی


محکمہ جنگلات کی بڑی کاروائی لاکھوں روپے مالیت کی دیار کی لکڑی غیر قانونی طور پر اسمگلنگ کرنے کا منصوبہ ناکام بنایا گیا۔فارسٹ کے ایماندار بیرییر نے لاکھوں روپے کا پیشکش ٹکرادیا۔
چترال(گل حماد فاروقی) محکمہ جنگلات کے عملہ نے تین ٹرکوں میں غیر قانونی طور پر لے جانے والا دیار کی قیمتی لکڑی پکڑ کر سلیپر اپنے قبضے میں لے لئے۔ فارسٹ گارڈ نے سات ملزمان بھی گرفتار کرکے پولیس کے حوالہ کیا جن کو بعد میں عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ ڈویژنل فارسٹ آفیسر لوئیر چترال سردار فرہاد کے مطابق محکمہ جنگلات کے عملہ نے روں ہفتے بڑی کامیابی حاصل کی۔ ان کے مطابق مخبر نے اطلاع دی تھی کہ چترال سے پشاور جانے والے ٹرکوں میں دیار کی قیمتی لکڑی غیر قانونی طور پر اسمگل ہوکر نیچے اضلاع لے جایا جارہا ہے جس پرانہوں نے براڈام چیک پوسٹ پر اپنے عملہ کو الرٹ کردیا۔ محکمہ جنگلات کا جواں بیریر مین شاہد عالم نے نہایت تیکنیکی طریقہ استعمال کرکے اسمگلنگ کی اس کوشش کو ناکام بنایا۔
ان کو جب اطلاع ملی کہ غیر قانونی طور پر دیا کی لکڑی ٹرک نمبر 9034 میں چترال سے نیچے اضلاع لے جایا جارہا ہے۔ تو اس نے اپنے چیک پوسٹ کی روشنی بند کرکے اندھیرے میں انتظار کیا ان کے مطابق اس ٹرک سے پہلے دو گاڑیوں میں اسمگلروں نے کئی بار چیک پوسٹ کے چکر لگائے اور یہ تسلی کرلی کہ اب فارسٹ کا عملہ موجود نہیں ہے حالانکہ اسمگلروں کو دھوکہ دینے کی عرض سے چیک پوسٹ کی روشنی بند کردی گئی تھی۔ اسی اثناء یہ ٹرک پہنچ گیا جس میں تیس لاکھ روپے مالیت کی دیار کی قیمتی لکڑی پڑی تھی اور اس کے باہر عملہ کو دھوکہ دینے کیلئے مکئی یعنی جواری کی بوریا رکھی گئی تھی۔ شاہد عالم نے جب اس ٹرک کو پکڑا تو ٹو ڈی گاڑی میں موجود اسمگلروں نے ان پر حملہ کرکے فارسٹ گارڈ سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی۔اور ان کے ساتھ کافی تکرار بھی کیا کہ اس ٹرک کو کیوں پکڑا ہے۔ تاہم جب ٹرک کی تلاشی لی گئی تو پورا ٹرک دیار کی سلیپروں سے بھرا ہوا تھا صر ف دھوکہ کی عرض سے چند بوریوں میں مکئی رکھی گئی تھی تاکہ فارسٹ عملہ کو یہ تاثر دے سکے کہ اس ٹرک میں مکئی کی بوریاں ہیں۔ شاہد عالم نے چترال لیویز کی مدد سے ان اسمگلروں کو پکڑ کر ایک کمرے میں بند کیا اور فوری طور پر ڈی ایف او، اور ایس ڈی ایف او کو فون پر اطلاع دی۔ اسمگلروں نے شاہد عالم کو دس لاکھ روپے روشوت دینے کی پیشکش بھی کرلی مگر ایماندار فارسٹ بیریر مین نے اس رشوت کو ٹکراکر اپنے محکمے کی لاج رکھ دی۔ جس کے بعد فوری طور پر محکمہ جنگلات کے افسران موقع پر پہنچ گئے اور ملزمان کے حلاف زیر دفعہ 33, 58,77, 85, 88, فارسٹ آرڈیننس 2002 کے تحت مقدمہ درج کرکے سات ملزمان اور ان کے سہولت کاروں کو بھی گرفتارکرواکر پولیس کے حوالہ کیا جن کو بعد میں فارسٹ مجسٹریٹ کے عدالت سے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
ملزمان میں سے سردار الدین، مشتاق الدین،گل اعظم خان، محمد شاہ، سید جہانزیب شاہ، محمد ابراہیم، اور فضل وہاب ساکنان اپر دیر کے حلاف پرچہ کاٹا جبکہ مقامی طور پر ان کے سہولت کاروں میں زبیر الدین سکنہ کلکٹک دروش کے حلاف بھی زیر دفعہ 33,58,77,85,88 فارسٹ آرڈیننس 2002 کے حلاف FIR درج کرائی گئی۔پولیس اور محکمہ جنگلات کا عملہ مزید تفتیش کررہے ہیں کہ ان ٹرکوں میں پہلے کتنی بار لکڑی لے جایا جاچکا ہے اور یہ مال کہاں اور کس کے پاس جاتا ہے اور اس کے پیچھے اصل مجرم کون ہے۔
شاہد عالم نے ایک اور مزدا نمبر این آر 022 میں بھی دیار کی قیمتی لکڑی اسمگلنگ کرنے کی کوشش ناکام بنادی۔ اس مزدا میں دیر سے حالی سلینڈر لائے گئے تھے جن کا چیک پوسٹ پر جب تلاشی لی گئی تو محکمہ جنگلات کے عملہ کو شک ہوا کہ پشاور سے اکثر گیس کے بھرے ہوئے سلنڈر لائے جاتے ہیں مگر پہلی بار ایک گاڑی میں حالی سلنڈر لائے گئے یہ کیا ماجرا ہے۔اس ٹرک کی طرح اس مزدا کو بھی کلکٹک میں ایک مقامی شحص کے گھر میں دیار سے بھردیا گیا اور اس کے آگے اور اوپر وہی حالی سلنڈر رکھ کر اوپر ترپال ڈال دیا گیا۔ شاہد عالم نے جب اس کی تلاشی لی تو اس کے اندر 125 فٹ دیار کی قیمتی لکڑی پڑی تھی جن کو اپنے قبضے میں لیکر اس گاڑی کو محکمہ جنگلات کے ریسٹ ہاؤس لاکر کھڑا کردیا اور ملزمان افضل حسین سکنہ چندک اخاگرام اپر دیر، قیوم خان سکنہ واڑی دیر اپر کے حلاف زیر دفعہ 33, 77,85,58 فارسٹ آرڈیننس 2002 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
اسی طرح فارسٹ گارڈ نے ڈیوٹی کے دوران ایک اور ٹرک نمبر بلوچستان 074 لسبیلہ کی تلاشی لی جس میں 47 فٹ دیار کی لکڑی حفیہ حانوں میں رکھا گیا تھا اور اس کے اوپر ترپال ڈال کر بوریوں میں بند بھوسہ رکھا گیا تھا۔ محکمہ جنگلات کے عملہ نے اس ٹرک کو بھی پک ڑ کر اسے دروش چیک پوسٹ میں دوسرے ٹرک کے ساتھ کھڑا کردیا اور اپنے تحویل میں لے کر ملزمان حسین خان سکنہ بی بیوڑ دیر اپر اور کاشار خان سکنہ بی بیوڑ ضلع اپر دیر کے حلاف زیر دفعہ 33, 77,85,58 فارسٹ آرڈیننس 2002 کے تحت بھی مقدمہ درج کیا۔ سب ڈویژنل فارسٹ آفیسر دروش احسان الدین کے دفتر میں ایک سادہ تقریب بھی منعقد ہوئی جس میں ایماندار اہلکار شاہد عالم کو منیجر فارسٹ ڈیویلپمنٹ کارپوریشن محمد شاہد، کنزرویٹر فارسٹ ملاکنڈ ڈویژن، ڈی ایف او چترال سردار فرہاد اور پراوینشل کوآرڈینیٹر چلغوزہ پراجیکٹ اعجاز احمدکی جانب سے توصیفی سرٹیفیکیٹ اور پانچ پانچ ہزار روپے کا نقد انعام دیا گیا۔ اس موقع پر ڈی ایف او چترال فرہاد نے شاہد عالم کو گلے سے لگار کر ان کی خوب حوصلہ افزائی کی اور ان کی اس کاوش کو نہایت سراہتے ہوئے انہیں شاباس کہا۔ انہوں نے دیگر عملہ پر بھی زور دیا کہ محکمہ جنگلات ان کا اپنا ادارہ ہے اور وہ بھی شاہد عالم کی طرح چترال کے جنگلات کو تباہ کرنے والے عناصر کے حلاف اسی طرح آہنی ہاتھوں سے نمٹ کر ان کی مذموم عزائم کو ناکام بنادے۔ واضح رہے کہ جب سے ڈی ایف او فرہاد نے چارج سنبھالا ہے چترال میں دیار کی لکڑی کی غیر قانونی طور پر اسمگلنگ کا سلسلہ کافی حد تک روک دیا گیا ہے اور اس قسم کی قبیح حرکت کرنے والوں کے حلاف قانونی کاروائی کرکے محکمے کو لاکھوں روپے کی نقصان سے بچایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مزدا میں اسمگلنگ کرنے والے ملزم کا عدالت سے ضمانت ہونے پر رہا ہوا ہے جبکہ یہ مزدا پچھلے دو ماہ سے کھڑا ہے اور ایک ٹرک میں بھی دیار کی لکڑی لے جانے والے ملزم کا ضمانت ہوچکا ہے مگر یہ ٹرک ایک ماہ سے کھڑا ہے جبکہ دوسرے ٹرک کے سات ملزمان ابھی تک جیل میں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں