Baam-e-Jahan

لوکل گورنمنٹ، اختیارات و فرائض اور عوامی تواقعات

ایس شہاب الدین بشکریہ انواز نیوز


ویلج اور نیبر ہڈ کونسل کے منتخب نمائندوں اور کونسل کے اختیارات اور فرائض 2013 کے مقابلے میں زیادہ کی گئی ہیں۔
یہ منتخب نمائندگان اور کونسلز، ترقیاتی کاموں کی نگرانی، عملدرامد، صفائی و ستھرائی، نکاسی آب، حفظان صحت سے متعلق ضروریات ،مسائل کی نشاندھی، اور ترجیحات کا تعین، منصوبہ بندی ، سالانہ ترقیاتی بجٹ اور اسکیموں, کھیلوں اور ثقافتی پروگراموں کو فروع اور مالی امداد دینا، باہر سے آئے مشکوک لوگوں پر چوکیداری نظام کے زریعے نظر رکھنا، امن امان اور بھائی چارے کو فروغ دینا، تنازعات کا حل اور کمیٹیوں کی تشکیل ،اور دوسرے اداروں سے متعلق رپورٹ جمع کرنا، اور تحصیل کونسل اور اسٹنٹ ڈائریکٹر کے ساتھ شئیر کرنا اور دیہی ترقی کے لئے ضرورت کو مدنظر رکھ کر پلان بنانا اور ضروری کاروائی کرنا۔
2019 کے ترمیم شدہ ایکٹ کے مطابق چیئرمین ویلج یا نیبر ہڈ کونسل بیک وقت ایک کونسل کا سر براہ جبکہ تحصیل کونسل کا ممبر ہوگا، 2001 اور 2013 کے ایکٹ میں ضلعی اور تحصیل کونسل کے لئے ہر یونین کونسل سے الگ ایک ایک ممبران منتخب ہوتے تھے، اب ہر یوسی یا وارڈ میں تین یا چار ویلج کونسل ہیں۔ اور ہر مزکورہ وی سی یا این سی ایک ایک ممبر تحصیل کونسل ہونگے، جس سے ہر یو سی کو خاطر خواہ ترقیاتی فنڈ ملنے کا امکان ہے۔
عوام بلدیاتی نمائندوں سے بہت سے امیدیں لگائے بیٹھے ہیں،ان کے خواہشات ناممکنات میں ٹھیکیداری سسٹم کو ختم کرانا، فنڈز کو عوام کے امنگوں کے مطابق خرچ کرنا، قومیت اور برادری کے تعصبات سے پاک ہونا، مگر افسوس یہ سب ووٹ ڈالتے وقت یاد نہیں رہتا ہے، کہ جسکو وہ ووٹ کاسٹ کررہے ہیں، کیا وہ اس لیول کا بندہ ہے بھی؟ اگر نہیں، تو الیکشن جیت کر وہ کونسا مشکل ترین مراحل ، تجربات اور امتحانات سے گزر کر وہاں پہنچا ہے، تو بیک قلم جنبش ایک عہد میں اپنے حکم سے دودھ اور شہد کے کنوان کھو دیں؟ یا ایک بٹن دباکر علاقے کی تقدیر ہی بدل ڈالے۔
ہم سب بخوبی واقف ہیں کہ ہمارے علاقے اور کونسلات سے الیکشن لڑنے والوں کی خوبی، صلاحیت، استعداد، بول چال، تجربہ ، تعلق، سمجھ بوجھ ،تعلیم و بھٹک، گھر کے حالات ، آمدنی کے زرائع، مزاج، نیز ان کے ہر جائز و ناجائز فعل و عمل سے خبردار ہیں،
ایک عام بندہ نظام کو سمجھنے میں دو سے تین سال کا عرصہ لگاتا ہے، تب تک کافی کچھ غلط، یا ہاتھ سے نکلا ہوا ہوتا ہے۔ بہتر ہے، کہ نظام اور حکومتی مشنریوں کے امور سے واقفیت رکھنے والوں کو چنا جائے۔
بلدیاتی نمائندگان ایک محدود علاقے میں اقدامات کا اختیار رکھتے ہیں، وہ ضمنی قوانین بناکر ان علاقوں میں فیصلہ کرنے اور اس پر عمل کرنے میں آزاد ہوتے ہیں.
بحثیت عوام ووٹ کا صحیح استعمال اور حقدار کو ووٹ دینا ایک قومی فرض کی ادائیگی ہے، اور ووٹ کو اپنے خاندان یا برادری، قومیت یا مسلک کو بنیاد پر کاسٹ کرنے سے نہ ترقی ہو سکتی ہے نہ بہتری آئیگی، البتہ کچھ عرصے کے لئے شناخت بن جائیگا۔ ایسے امیدوارون کو ووٹ دینے سے پہلے سوچنا ضروری ہے، جو صلاحیت ، علمیت نہ ہونے کے باوجود چمچہ گری، چاپلوسی اور پیسوں سے ووٹ جیتنا چاہتے ہو، ان کی ترجیحات کھبی عوامی نہیں ہو سکتی، اور خدمت سے زیادہ اپنے خرچ کردہ روپوں کی ریکوری کے لئے جائز و ناجائز راہ اختیار کرنے سے نہیں کتراتے۔ اور ان کی سیاسی تعصب کہیں اپنے پڑوسی سے دشمنی پیدا نہ کرائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں