میرا جسم میری مرضی ‘ کا نعرہ لگانے والی خواتین کا یہ مطالبہ نہیں کہ اِن پر کسی قسم کے قانون اور اخلاقی ضابطوں کا اطلاق نہ کیا جائے۔ یہ نعرہ دراصل اُس ظلم کے خلاف بغاوت ہے جو عورتوں پر روا رکھا جاتا ہے۔ 121

ملک بھر میں خواتین کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ کیا جائے، عورت آزادی جلسہ

نیوز ڈیسک


جڑواں شہروں کے رہائشیوں سمیت زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین، نوجوان طلباء، کچی آبادی کے رہائشی، گھریلو ملازمین، وکلاء، اساتذہ، خاتون صحت کے کارکنان، اور دیگر پیشہ ور افراد اتوار کے دن ایف نائن پارک میں منعقدہ عورت آزادی جلسہ میں بڑی تعداد میں شامل ہوئے۔

یہ جلسہ 8 مارچ کو عورتوں کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقد ہوا تاکہ کام کرنے والی خواتین بھی چھٹی کے دن اس جلسے میں شریک ہوسکے۔

جلسہ میں مختلف مقررین نے خواتین کے ساتھ روزمرہ کی زندگی میں ہونے والی ناانصافیوں پر روشنی ڈالی۔

جلسے میں اقلیتی اور غریب طبقے سے تعلق رکھنے والی خواتین نے افسوس کا اظہار کیا کہ گھریلو ملازمین کے حقوق کا کوئی تحفظ نہیں ہے اور انہیں اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جلسے میں خواتین اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی اداروں کے ساتھ ساتھ متوسط ​​اور اعلیٰ طبقے کے رہائشیوں کی طرف سے امتیازی سلوک کے خلاف بھی شکوہ کناں نظر آئیں۔

کچی آبادیوں سے تعلق رکھنے والی خواتین نے سی ڈی اے کی طرف سے کچی آبادیوں کی مسماری کے خلاف بھرپور احتجاج کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ غترقی کے نام پر غریبوں کو بے گھر کرتے ہوئے کس کے مفادات کی حفاظت کی جا رہی ہے۔

ڈبلیو ڈی ایف کی صدر عصمت شاہجہان نے فیمینسٹ ایجنڈے کو عام تک پہنچانے کے امر پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جدوجہد برابری، مساوات اور پُرامن معاشرے کے قیام کے لیے ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں