فلسطین اور کشمیر کا متعدد بار حوالہ دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’ہم دونوں امور پر ناکام ہوگئے ہیں۔ ہم کوئی اثر نہیں ڈال سکے۔ 141

وہ خط میں نے لکھا تھا

نورالہدیٰ شاہ


زوال ہوتے
سورج کی نیم تاریکی میں خلیفۂ وقت جو خط لہرا لہرا کر رعیت کو دکھا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ
اس میں میرے خلاف سازش لکھی گئی ہے
اور
میرے تخت و تاج کو اچھالا گیا ہے
مگر ابھی میں اس سازشی کا نام اس لیے نہیں بتاؤں گا کہ
کہیں وہ مجھ پر خطرناک جانی حملہ نہ کردے!

تب سے مملکت خداداد پریشان ہے کہ
وہ کون خطرناک ہے جس نے خلیفے کی شان میں اتنی بڑی گستاخی کی ہے!
تو مملکت خداداد کو اطلاع ہو کہ
وہ خطرناک سازشی میں ہوں!
میں نے لکھا تھا وہ خط خلیفۂ وقت کو!

میں نے لکھا تھا کہ
خلیفے،
تیری گردن میں سلاخ گڑی ہے،
اسے نکال۔
کسی اچھے طبیب کو گردن دکھا۔ گردن کی یہ سلاخ کہیں تیرے ہی سینے میں نہ اتر جائے!

میں نے لکھا تھا کہ
خلیفۂ وقت کی گردن پھانسی کے پھندے جتنی پتلی اور نرم ہونی چاہیے!
پتلی اور نرم گردن رعایا کو یقین دلاتی ہے کہ
میرا خلیفہ
میری مٹھی کی گرفت میں ہے!

یہ یقین رعایا کو تحفظ دیتا ہے
خلیفے!
کہ ہم کتنے ہی بے بس سہی،
مگر جب چاہیں رسی کھینچ کر خلیفے کو جھنجوڑ سکتے ہیں کہ
اٹھ جاگ خلیفے!
دیکھ تیری رعایا تکلیف میں ہے!
اس لیے گردن جھکا
اور رعایا کی پہنچ میں رکھ خود کو۔ ……… خط میں، میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ خلیفے!
یاد رکھ،
جب خلیفۂ وقت کے دربار میں علمائے دین حاضری دینے لگیں اور اسے اس گمان کے مرض میں مبتلا کرنے لگیں کہ
فقط وہی آسمانی آیات کے معیار پر پورا اترتا ہے!

اور جب اس مرض میں مبتلا ہو کر خلیفۂ وقت اپنی اطاعت کے لیے خود پر آسمانی آیات کا استعمال کرنے لگے!
اور
اس کے درباری اس پر پیغمبری کا سا گمان کرنے لگیں،
تب سمجھ
تخت اور بخت دونوں کے کھسکنے کا وقت آن پہنچا اور خلیفہ منہ کے بل اب گرا کہ تب گرا!

میں نے لکھا تھا،
خلیفے!
اپنی تعریف سے گریز کیا کر۔
خلافت سرداری نہیں بلکہ
خدمت گزاری ہے۔
دماغ میں بادشاہت کا خناس نہ بھر،
بلکہ
خود کو اس خلق کا بھی خادم سمجھ، جو تجھے پسند نہیں کرتی۔

یاد رکھ،
مخالفین کو کچلا نہیں جا سکتا۔
مخالفین پر اپنی حکمرانی کی صلاحیت ثابت کی جاتی ہے۔
مخالفین آئینہ ہوتے ہیں۔
مخالفین پر کیچڑ اچھالنا
اپنے عکس کو گندا کرنا ہے۔

میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ
درباری اور خوشامدی نہ پال خلیفے!
یہ دیمک کی طرح ہوتے ہیں۔
یہ اپنی لمبی زبان سے تجھے چاٹ چاٹ کر کھا جائیں گے!

اب آئینے میں خود کو غور سے دیکھ کہ
کتنا کھا چکی ہیں تجھے ان کی لمبی زبانیں!

خط میں خلیفے کو میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ
حکمرانی کی فصل زمین میں بوئی جاتی ہے،
کیونکہ
زمین ہی واحد ملکیت ہوتی ہے رعایا کی۔ زمین میں رعایا کی جڑوں سے اپنی جڑیں پیوست کر۔

مگر افسوس،
تو اپنی حکمرانی باہر سے منگوائے گیٹس گملوں میں بوتا رہا ہے۔
یاد رکھ،
گملے کے پودوں کو بقا نہیں ہوتی۔
گملے سجاوٹ کے کام آتے ہیں۔
سجاوٹ امیروں کے چونچلے ہیں۔
غریب تو فصل بوتا ہے اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لیے۔

اور ہاں،
میں نے قطعی کوئی خطرناک دھمکی نہیں دی خلیفے کو۔

میں نے تو بس یہ کہا ہے کہ
تجھ سے پہلے بھی خلافت کے کئی دعویدار آئے،
جنہوں نے
علمائے دین سے اپنی اطاعت کے فتوے بھی لیے
اور
مخالفوں کی چمڑی ادھیڑ کر سولی بھی چڑھایا
اور
سزاؤں کی خوب لذت بھی لی
مگر
تاریخ کے صفحات کھول کر دیکھ خلیفے!
وقت کوڑوں کی سزا ہے۔
کوڑا پلٹ پلٹ آتا ہے
کوڑے چلانے والے کی طرف!

نام اسی کا باقی رہا جس نے تخت کو تختہ سمجھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں