208

تعیلم یافتہ معاشرہ کی بے حسی کی انتہا

فرمان بیگ


ہنزہ وادی میں آئے روز کسی نہ کسی ناخوش گوار واقعات کا رونما ہونا معمول بنتا جارہا ہے۔ گاوں گاوں کے آپسی زمینوں اور چراگاہوں کے جھگڑے، بنیادی ضرویات زندگی کی عدم دستیابی، مضر صحت خوردانی اشیاء کے بے دریغ استعمال سے پیچیدہ بیماریوں کا لوگوں کے جسمانی صحت پر مضر اثرات کے ساتھ ساتھ علاج معالجہ پر اٹھنے والے اخراجات سے پیدا مالی مشکلات روز گار کے مسائل اور سب سے خطرناک صورت حال خودکشیوں میں اضافے کے واقعات نے بہت تیزی کے ساتھ سر اٹھایا ہے۔

سال ۲۰۱۲ تا ۲۰۱۴ کے دوران تقریبا بارہ قیمتی جانوں کا ضائع ہوچکا ہے۔ وہ بھی اپنے آپ کو روشن خیال اور منظم کہلانے والے معاشرے میں۔ ان پے در پے حادثات سے معاشرے کو جنھجوڑ کے رکھ دینا چاہیے تھا مگر انتنے حادثات ہونے کے باوجود بھی معاشرتی سطح پر احساس کا نہ ہونا ایک منظم کہلانے والے معاشرے کے افراد کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔

گزشتہ دونوں ہنزہ کے دورافتادہ وادی چیپورسن کے گاوں شیرسبز میں ایک دلخراش واقع رونما ہوا۔ معاشرے کا ایک ذمہ دار شخص جو دوسروں کے لیے ایک رہبر کی حثیت رکھتا تھا نے اپنی جان لے لی۔ مراد خان مرحوم ایک اہم مزہبی عہدے پر فائز تھے۔ انھوں نے اپنے زندگی کے خاتمہ سے قبل آڈئیو ریکارڈ پیغام میں معاشرے کے بے حسی پر اپنی بے چارگی اور بے بسی کا اظہار جس دکھ کے ساتھ کیا ہے اس سے معاشرے میں جنم لینے والے عدم برداشت رواداری کے فقدان اور ہر سطح پر پروان چڑھتے ہوئے معاشرتی ناہمواری، اداروں کی بے توجہی، خاص کر ایک منظم اور باشعور معاشرہ ہونے کے دعوا داروں کے لیے کئی اہم سوالات چھوڑے گیے ہیں۔

مگر ستم ظرفی یہ کہ بارہ قیمتی انسانی جانوں کے ضائع ہونے کے باوجود ان بڑھتے ہوئے معاشرتی مسائل کی طرف نہ ہی سرکاری سطح پر اور نہ ہی نامدار ادارتی یا علاقائی عمائدین کی سطح پر کسی بھی طرح کے غور فکر کیا جارہا ہے۔ یہ انتہائی بدقسمتی ہے مگر جب کوئی ناخوش گوار واقع پیش آتا ہے تو گاوں کی لیڈر شپ سے لے کر نشنل سطح کی تمام لیڈرشپ کی ایک ہی لفظ سنے نے کو ملتا ہیں کہ یہ سب کچھ قدرت کی طرف سے ہے۔ بالکل بحثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہیں مگر الله تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے اور انسان کو عقل عطاء کیا ہے۔ دوسری جانب پرنس کریم آغاخان نے اپنی جماعت کے لیے ان مسائل کو حل کرنے کے لیے اداروں کا جال بچھا رکھا ہے تاکہ اس طرح کے المیے سے نمٹا جاسکے۔ مگر بدنصیبی یہ ہے کہ آغا خان کے وژن کو امامتی اداروں میں بیٹھے افراد سمجھ نہیں پارہے ہیں یا جان بوجھ کر نظر انداز کررہے ہیں یہ سمجھ سے بالا ہے جس کی وجہ سے اداروں کو قائم کرنے کا مقصد مکمل ناکام ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ گزشتہ آٹھ نو سالوں کے دوران تقر یبا بارہ قیمتی انسانی جانوں کا ضائع ہونے کے باوجود امامتی اداروں کی جانب سے کسی بھی قسم کا اب تک ٹھوس اقدم کا نہ اٹھانا بھی آپنی جگہ ایک سوالیہ نشان ہے دوسری طرف صرف باتوں کی حد تک ہنزہ کو ایک منظم تعلیم یافتہ مہذب اور باشعور معاشرے کے طور پر پیش کرتے رہتے ہیں درحقیقت معاشرے میں جنم لینے والے مسائل پر بات کرنا درکنار سوچنے پر بھی پابندی عائد ہے عقائد سے لے کر سماجی معاشی سیاسی اموار کو مقدس اداروں کے نام پر چند مخصوص افراد کے زریعے کراچی اسٹبلشمنٹ نے یرغمال بنا رکھا ہوا ہے۔ شہری آذادی انسانی حقوق پر گفتگو شجرممنوع ہے بنیادی انسانی ضروریات مثلا تعیلم صحت کو مقدس ادارے کے نام پر تجارت بنایا چکا ہیں روزگار ناپید ہیں سرکاری سطح کے بنیادی ضرویات زندگی کے اداروں پر توجہ نہیں دیا جارہا ہیں سیاسی لیڈرشپ پیدا کرنے کی راہ میں روکاٹیں کھڑی کی جاتی رہی ہیں ۔

جبکہ دوسرے جانب سیاسی طور پر معاشرے کو غیر سرکاری اور فلاحی تنظیموں کا دست نگر بنایا جاچکا ہے بنیادی ضرورت زندگی کے حصول کو سرکاری اداروں کی بجائے غیر سرکاری تنظیموں فلاحی اداروں اور تجارتی اداروں سے جوڈا گیا ۔ جس کے خطرناک نتائیج آنا شروع ہوچکا ہیں لوگوں میں احساس محرومی اور عدم برداشت جنم لےرہی ہیں بنیادی ضروریات زندگی مثلا تعلیم و صحت کو پرائیوٹ سیکٹر کے تابے کیا ہواہیں وہی اب بجلی جیسی بنیادی ضرورت کو بھی پرائیوٹ سکیٹر کی جانب سے فراہم کرانے کی کوشش جاری ہے مجموعی طور پر ہنزہ کے لوگوں کو مقدس اداروں کے نام پر پرائیوٹ سکٹر کے منافع خور سرمایہ داروں کے لیے ایک منڈی کی حثیت دےدی گئی ہیں روزگار کی عدم دستیابی وسائل کا غیر منصفانہ تقسیم سرکاری وغیر سرکاری اداروں کی ترقیاتی پروجیکٹس کو سرکاری اداروں اور سیاسی لوگوں کی بجائے مزہیبی اداروں کے مقامی ذمہ داروں کے زریعے سرانجام دینے اداروں کو سرکاری انتظامیہ کے بی ٹیم کی حثیت سے چلانے کی وجہ سے جہاں گاوں سطح کے مزہیبی لیڈر شپ پر اس کے بے جا ذمہ داری اور بوجھ پڑتا ہے وہی معاشرے میں موجود دیگر افراد میں مایوسی پھیل رہا ہیں جس کے نتیجے میں لوگوں میں عدم برداشت کا آنا ایک فطری امر ہے۔

ہنزہ کے قدیم سماجی و سیاسی نظام پر نظر ڈالیں تو ہمیں خصوصا سماجی و معاشرتی نظام زندگی میں اجتماعی امداد باہمی یا اشتراکی بنیادوں پر سماجی ترقی کو ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں مثلا کھیتی باڈی میں گاوں یا قبلے کے افراد مل کر ایک دوسرے کے کام کو مشترکہ سطح پر انجام دیتے تھے یہ ایک مثال ہے جب کہ قدیم معاشرتی زندگی کے ہر شعبے میں اجتماعی امداد باہمی کے حصول کو فوقیت حاصل تھا جب سے غیر سرکاری تنظیموں نے یہاں کام کا آغاز کیا تب سے قدیم امداد باہمی یا اشتراکی نظام مکمل طور پر تباہ و برباد ہوا سماج کی مشترکہ ترقی کی بجائے انفرادی ترقی پر توجہ دینے لگے جہاں پہلے امداد باہمی کے حصول کے تحت نظام زندگی رواں دواں تھی وہی ہر چیز کو زر کے تابے کیا گیا قدیم سماجی وثقافتی رشتوں کو تبدیل یا کم کرنے کی کوشش کی گئی یوں سمجھئے کہ سماجی ثقافتی اور سیاسی ماحول کو یکسر تبدیل کرکے ان پرانے معاشرتی سماجی ثقافتی اور سیاسی رشتوں کو توڑا گیا مقامی سیاسی کارکنان اور لیڈر شپ کو پنپنے نہیں دیاگیا مزامتی سیاست کی بجائے مفاہمت طرز کی سیاسی لوگوں کو آگے لایا گیا اور ایک بلکل ہی نئے معاشرتی سماجی اقدار یعینی این جی اوز کلچر کو پروان چڑھایا گیا ۔

جس کے نتیجے میں پورا معاشرہ آج جس طرح گھٹن محسوس کررہاہے یہ سب یک دم سا نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے ایک لمبی کہانی اور طاقتوں کے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ہنزہ کے لوگوں کو آج اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے جس طرح ملک کے دیگر علاقوں میں انتہاد پسندی کو پروان چڑایا گیا اسی طرح ہنزہ کو غیر سرکاری اور فلاحی تنظیموں کے زریعے سیاسی طور پر مفلوج اور بانچ کرکے رکھ دیا گیا وہی این جی اوز کے زریعے ایک اشرافیہ طبقہ کا وجود عمل میں لایا گیا ساتھ میں ایک ابھرتا ہوا نو دولیتئے کاروباری طبقہ بھی پیدا ہوچکا ہیں جن کے مفادات سرمایہ داروں حکمران طبقات اور باآثر افراد کے ساتھ جوڈ چکا ہے جس کی وجہ سے معاشرے کے درمیانہ اور نچلے طبقے میں احساس محرومی کا پیدا ہونا فطری عمل ہے جس کے اثرات پورے معاشرے میں عیاں ہورہا ہیں لوگوں نے اپنی پشتنی زمینوں کو بیچنا شروع کردیا ہیں مجموعی طور پر ہنزہ اس وقت ایک مکمل معاشرتی سماجی ثقافتی اور سیاسی تباہی کی طرف رواں دواں ہے اسکو روک نے کے لیے آج سے اقدام نہیں اٹھایا گیا تو یہ مستقبل میں ایک بہت بڑا ثانحہ میں بدل سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں