Baam-e-Jahan

پاکستان کے اکثریتی محنت کش عوام اور نوجوان نسل کی پائیدار بہبود ایک حقیقی سیاسی متبادل کا تقاضا کرتی ہے، عوامی ورکرز پارٹی

ویب ڈیسک


عوامی ورکرز پارٹی نے تمام ترقی پسند سیاسی اور سماجی قوتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایک حقیقی تبدیلی کے لئے ایک ایسے معاشی و سیاسی پروگرام کے گرد متحد ہوں جس کی بنیاد دولت کی منصفانہ تقسیم،، دفاعی اور دیگر غیر پیداواری اخراجات میں کمی، ذریعہ معاش کا تحفظ اور محنت کش طبقے کی آزادی ، پسماندہ خطوں اور قوموں کے عوام کے قدرتی وسائل کی لوٹ مار کا خاتمہ اور ہر قسم کے صنفی جبر کا خاتمہ ہو۔
اے ڈبلیو پی نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کی پی ٹی آئی حکومت کا خاتمہ اور وزیر اعظم شہباز شریف کی سربراہی میں نئی حکومت کا آغاز اس گہری اور مضبوط طبقاتی، فرسودہ جاگیردارانہ رشتوں اور سامراجی اور صنفی تضادات پر مبنی ڈھانچے میں عارضی وقفہ ہے جس کو فوجی اسٹیبلشمنٹ دوام بخشتا ہے۔ اسلیئے پاکستان کے اکثریتی محنت کش نوجوان نسل کی پائیدار بہبود ایک حقیقی سیاسی متبادل کا تقاضا کرتی ہے۔
اے ڈبلیو پی کے صدر یوسف مستی خان، جنرل سیکریٹری بخشل تھلہو اور سینئر نائب صدر اختر حسین نے پارٹی کی وفاقی کمیٹی کے دو روزہ اجلاس کےاختتام پر ایک اعلامیہ میں کہا کہ عمران خان نے اپنی گرتی ہوئی حکومت کو بچانے کی ناکام کوشش میں دعویٰ کیا کہ وہ امریکی سازش کا نشانہ بنے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکی سامراج نے پاکستان کی جمہوریت کو منظم طریقے سے کمزور کیا ہے، جبکہ اس کے محنت کش عوام اور نسلی گروہوں کو بھی سرمائے کی حکمرانی اور نہ ختم ہونے والی جنگوں کے تابع کر دیا ہے۔
دریں اثناء واشنگٹن کی حمایت یافتہ نیٹو اتحاد سرد جنگ کے قصۃ پارینہ ہونے کے باوجود پوری دنیا میں تباہی کا جال پھیلا رہا ہے۔ عمران خان کی کھوکھلی امریکہ دشمنی جان بوجھ کر اس بات کو نظر انداز کرتی ہے کہ اسکی حکومت کو منظم طریقے سے امریکی حمایت یافتہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی حاصل تھی، اور یہ کہ تقریباً چار سال کے اقتدار میں پی ٹی آئی نے آئی ایم ایف کی شرائط کو من و عن تسلیم کیا تھااور ملٹی نیشنل کارپوریشنز کی بالادستی کے سامنے گھٹنے ٹیک دیا تھا۔
اب وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت بھی جلد ہی پیٹرول پر دی جانے والی سبسڈی ختم کرنے والی ہے جس سے پیٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر سے تجاوز کرنے کا خدشہ ہے ،جس سے اس بات کی تصدیق ہو جائے گی کہ حکمران طبقے کی کوئی بھی جماعت ٹھوس سیاسی اور معاشی اقدامات کرنے، اور پاکستان کو سامراجی طاقتوں کے مالی اداروں کے شکنجے سے نکالنے کی اہل اور تیار نہیں۔ دریں اثنا، اس بات کا کوئی ثب آثار نظر نہیں آتا ہے کہ نئی حکومت فوجی اسٹیبلشمنٹ کو پالیسی کے بنیادی سوالات جس میں جبری گمشدگیوں کے بھیانک سلسلہ، بلوچستان پر فوجی تسلط، اور طالبان جیسی عسکریت پسند قوتوں کی ریاستی سرپرستی ، پر چیلنج کرنے کے لیے تیار اور قابل ہے۔
عوامی ورکرز ہارٹی کی قیادت نے زور دے کر کہا کہ پاکستان میں حقیقی طور پر سامراج مخالف منصوبے کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کے تسلط، مذہبی آزادی اور حکمران طبقے کے دولت کے ارتکاز کے منصوبے کو چیلنج کرنا ہوگا جو زمین، آبی ذخائر، پہاڑی علاقوں اور دیگر قدرتی وسائل کے بے رحمانہ استحصال پر مبنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف محنت کش عوام، کسان، نوجوان اور بائیں بازو کی ترقی پسند قوتیں ہیں جو ایسی سیاست کو بیان کرتی ہیں اور اے ڈبلیو پی اپنی توانائیاں ایسی تمام قوتوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد کرنے پر مرکوز رکھے گی، خاص طور پر عام انتخابات کی تیاری میں۔ اس طرح کا بائیں بازو کا ترقی پسند اتحاد ایک حقیقی آزاد اور غیر منسلک خارجہ پالیسی کو بھی بیان کرے گا جو پاکستان کے قریبی پڑوسیوں، بھارت اور افغانستان کے ساتھ امن کو استحکام فراہم کرے گا، جبکہ ایران سمیت دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ اقتصادی تعاون کی بامعنی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔
پارٹی قیادت کا خیال ہے کہ ایسے بائیں بازو کے ترقی پسند سیاسی متبادل کی تعمیر کا تقاضہ ہے کہ محنت کش عوام اور نوجوانوں کے اندر سیاست سے دلچسپی کو پیدا کیا جائے جن میں پی ٹی آئی کے رجعتی بیانات سے متاثر افراد ، کچی آبادیوں کے مکین، ماہی گیر، گھریلو ملازمین، چھوٹے اور بے زمین کسان، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور شامل ہیں۔ یہ محنت کش عوام اشرافیہ طبقہ کے پرتشدد عمل کے ذریعے دولت کے ارتکاز کا شکار ہونے کے باوجود بڑی حد تک اعلیٰ سطح پر سیاست سے بیزار ہے، ۔
لہٰذا صرف اور صرف محنت کش عوام اور نوجوانوں کو شہروں،دیہاتوں اور سرحدی علاقوں میں متحد کرنے سے ہی وفاقیت اور جمہوریت پروان چڑھ سکتی ہے اور نوآبادیاتی سرمایہ داری سے ہٹ کے ایک طویل مدتی تبدیلی کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے۔
مطالبات
عوامی ورکرز پارٹی نے نئی حکومت کو خبردار کیا کہ وہ عوام کے اوپر ٹیکسوں کی وجہ سے مزید مہنگائی کا بوجھ نہ ڈالے۔ بلکہ مہنگائی کم کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کریں۔
۱۔قرضوں کی ادائیگی اور قرضوں میں جکڑی معیشت کی بد حالی کا بہانہ بنا کر عوام کی زندگی کو اجیرن نہ بنائیں۔
۲۔پاکستان میں معیشت کو اس نہج تک پہنچانے میں تمام حکمران طبقات کا یکساں کردار ہے۔ لہذا قرضوں کی ادائیگی ان حکمران طبقات کے اثاثے جو اندرون ملک اور بیرون ملک موجود ہیں سے ادا کئے جائیں۔ کیونکہ بیرونء قرضوں کا ایک بڑا حصہ انہی حکمران طبقات نے ہڑپ کرکے بیرون ملک اثاثے بنائے ہیں۔
۳۔دفاعی اور غیر پیداواری اخراجات کو فوری طور پر کم کیا جائے
۴۔ ملک میں فوری طور پر زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ کیا جائے اور زرعی وسائل کی منصفانہ تقسیم، زرعی پیداوار کی ترقی، زراعت سے وابستہ کھیت مزدور وں کی خوشحالی اور ان کے لیے قانون سازی ، سرکاری اور بنجر زمینوں کی آبادکاری، اور ان کی بے زمین کا شتکاروں میں تقسیم ضروری ہے ۔
۵۔ موجودہ سیاسی نظام کے اندر غیر آئینی اقدامات کی بھر پور مزاحمت ضروری ہے۔
۶۔ ہمسایہ ممالک کے تعلقات کی بہترہ اور خاص طور پر ہندوستان کے ساتھ گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگی جنون کو ختم کرنا، کشمیر سمیت تمام تنازعات کا گفت و شنید کے ذریعے حل تلاش کرنا ، اور دو طرفہ تجارت کو بحال کرنا دونوں ملکوں کے غریب عوام کی خوشحالی کے لئے ضروری ہے ۔
۸ ۔ نئی حکومت تحریر و تقریر کی آزادی ، شخصی آزادی، میڈیا کی آزادی، گمشدہ افراد کے مسئلے پر اپنا واضح موقوف ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ بلوچستان کے صورتحال کا سنجیدگء سے جائزہ لیا جائے؛ بلوچستان کے وسائل پر حق بلوچستان کے عوام کا ہے جسے تسلیم کرنا چاہئیے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
۹۔ عمرانی حکومت کے دور میں ملکی معاشی آزادی کے خلاف جو بھی اقدامات کئے گئے تھے ان کو منسوخ کیا جائے، خاص طور پر اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کے نام پر بنائے گئے قوانین کو منسوخ کیا جائے اور قومی سنؑتی و تجارتی یونٹوں کی نجکاری اور لوٹ مار کو بند کیا جائے۔
۱۰۔ پیٹرول، گیس اور بجلی کے نرخ کم کئے جائیں ۔ حکومت اپنے اخراجات کم کرکے نہ صرف سبسڈی بحال رکھے بلکہ اس میں اضافہ کیا جائے اور عوام اکو فوری معاشی ریلیف دیا جائے۔
۱۱۔ ملک کی معاشی بد حالی، غربت میں اضافہ ، مہنگائی، اور بے روزگاری میں اضافہ کی وجوہات تمام سابقہ حکومتوں کی پالیسیاں ہیں جس کے نتیجے میں اس ملک میں امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے جب کہ غربت میں بے پناہ اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ایسی صورتحال سے نمٹنے کا واحد حل عوامی ورکرز پارٹی کے پروگرام اور منشور میں ہے اور عوام کی ایک منظم اور باشعور جدوجہد سے ممکن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں