119

چترال جیل میں پہلی بار قیدیوں کیلئے  کھیلوں کا انعقاد کیا گیا


رپورٹ: گل حماد فاروقی


 چترال  جیل  میں پہلی بار  قیدیوں کیلئے  دو روزہ سپورٹس فیسٹویل یعنی کھیلوں کے تہوار کا  انعقاد کیا گیا۔

 چترال جیل کی تاریح میں پہلی بار قیدیوں کو کھیل کود اور مثبت سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا گیا۔

 اس سپورٹس گالا کا اہتمام ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر عامر زمان نے ڈائریکٹوریٹ سپورٹس خیبر پحتون خواہ  اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے کیا تھا۔

افتتاحی تقریبات کے موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد عرفان  مہمان خصوصی تھے جس نے فیتہ کاٹ کر اس سپورٹس فیسٹیول کا افتتاح کیا۔

ڈسٹرکٹ جیل چترال میں اس سپورٹس فیسٹیول میں  رسہ کشی، بیڈ منٹن،  کریم بورڈ، ولی بال، میوزیکل چئیر اور بوری ریس کے مقابلے ہوئے۔

ٹورنامنٹ میں ہر کھیل کے لئے دو، دو ٹیم ترتیب دئیے گئے تھے۔ ایک ٹیم قیدیوں  جبکہ ان کے مقابلے میں جیل عملہ کا ٹیم نے بھی ان کھیلوں میں بھر پور حصہ لیا۔

رسہ کشی کے مقابلے میں  جیل عملہ ٹیم نے قیدیوں کے ٹیم یعنی قیدی ٹیم کو شکست دے کر فائنل ٹرافی جیت لی۔

 میوزیکل چئیر میں بھی قیدی ٹیم ونر جبکہ جیل عملہ کا ٹیم رنر اپ قرار ہوئے اور فائنل ٹرافی قیدی ٹیم نے جیت لی۔

اسی طرح بوری ریس یعنی بوری میں پاؤں بند کرکے ریس لگانے کے مقابلے میں بھی قیدی ٹیم  جیل عملہ ٹیم کو شکست دے کر ٹرافی جیت لی۔

کھیلوں کے فائنل  تقریب کے موقع پر ڈپٹی کمشنر چترال انوار الحق  مہمان خصوصی تھے

 جنہوں نے کھلاڑیوں میں ٹرافی اور انعامات تقسیم کئے۔اس جیل میں  چار خواتین سمیت نوے قیدی ہیں۔

ہمارے نمائندے سے  باتیں کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر عامر زمان نے کہا کہ جیل کے اندر قیدیوں کیلئے  کھیلوں کے مقابلوں کا مقصد ان قیدیوں کو بھی ذہنی اور جسمانی طور پر صحت مند رکھ کر ان کی اصلاح کرانا ہے۔

 تاکہ یہ یہاں سے جب آزاد ہوجائے تو کھیل کود میں حصہ لے کر آئندہ کسی جرم کا ارتکاب نہ کرے اور ایک مفید شہری بن سکے۔

جیل سپرنٹنڈنٹ عثمان جاوید  نے بتایا کہ ان قیدیوں کیلئے اس قسم کے کھیل کود کے مواقع اور صحت مند سرگرمیاں نہایت ضروری ہے۔

  اس  سے ایک تو ان کے ذہن  پر جو نفسیاتی طور پر  منفی اثرات ہیں وہ زائل ہوجائیں گے اور ساتھ ہی ان کی اصلاح بھی ہوگی۔

چترال کے ڈسٹرکٹ جیل میں پہلی بار سپورٹس ٹورنامنٹ منعقد کرنے پر یہاں موجود قیدیوں کے ساتھ ساتھ عملہ بھی نہایت خوش ہوا اور انہوں نے ان کھیلوں میں بھر پور حصہ لے کر   یہ ثابت کردیا کہ وہ بھی بہترین انسان بن سکتے ہیں مگر نامناسب حالات کی وجہ سے ان سے کوئی جرم سرزد ہوا اور ان کو جیل کی ہوا کھانا پڑی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں