113

چترال کی مقامی عدالت میں گدھوں کی پیشی


ان گدھوں کے مالکان پر الزام ہے کہ انہیں غیر قانونی لکڑی اسمگلنگ کرنے میں استعمال کرتے ہیں۔


رپورٹ: گل حماد فاروقی


اسسٹنٹ کمشنر دروس کی عدالت میں طلب کئے گئے گدھوں کا واقعہ یوں ہے کہ دروس گول نالے کے دھانے پر واقع گاؤں گرومیڑ کے کچھ لوگ اب بھی گدھے پالتے ہیں اور  جنگل سے بالن وغیرہ لانے کے لیے گدھے استعمال کرتے ہیں،

چونکہ یہاں جنگل تک سڑک گاڑیوں کی سڑک نہیں ہوتے اور جنگل کے نزدیکی لوگ اکثر اسی غرض سے گدھے پالتے ہیں

  گذشتہ روز اس گاؤں میں پے در پے دو مختلف واقعات میں پانچ گدھے جنگل سے غیرقانونی عمارتی لکڑی لاتے ہوے پکڑے گئے،

پہلے واقعے میں اسسٹنٹ کمشنر دروس کو اطلاع ملی کہ  دروس گول کے جنگل سے گرومیڑ گاؤں کے کچھ افراد رات کے آخری پہر گدھوں کے ذریعے لکڑی لا رہے ہیں۔

 اسسٹنٹ کمشنر نے فارسٹ سٹاف کو اطلاع دے کر مشترکہ کاروائی کرکے تین گدھے اور پانچ عدد لکڑی قبضے میں لئے

 جبکہ ملزمان گدھوں کو اور لکڑیوں کو چھوڑ کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے،

پکڑے گئے گدھوں کو بطورِ مال مقدمہ گاؤں کے ایک شخص کی سپرداری میں دے کر مالکان/ ملزمان کے بارے میں تفتیش شروع کی گئ۔

 مگر دو دن بعد پھر مخبر کی اطلاع پر اسسٹنٹ کمشنر دروس نے ہمراہ فارسٹ سٹاف کاروائی کرتے ہوئے موقع پر دس  فٹ لکڑیوں کے ساتھ دو گدھے مع ایک ملزم گرفتار کیا۔

جبکہ کاروائی سے واپسی پر پکڑے گئے دو گدھوں کے علاوہ رات کے اندھیرے میں راستے میں باندھے ہوئے ایک اور گدھے کو بھی ساتھ لے آئے یہ وہی گدھا تھا جس کو دو دن پہلے گرفتار کرکے سپرداری پر تیسرے شخص کے حوالہ کیا گیا تھا۔

    بس اسی غلط فہمی میں اسسٹنٹ کمشنر دروس نے گدھے عدالت طلب کرکے ان کی شناخت  اور اپنی تسلی کروائی۔۔

    تب سے معاملہ سوشل میڈیا میں طنز و مزاح کا ٹرینڈ بن گیا ہے اور لوگ اس واقعے کو مذاق کا نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ معاملہ اتنا گھمبیر نہیں جتنا دیکھایا جا رہا ہے۔۔

    دروس گول کا جنگل شہر سے چار سے پانچ  گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ جو  دیار اور فرسپروس کا ایک گھنا جنگل ہے۔

 جنگل میں فر سپروس کے گرے پڑے خشک درختوں کا ملبہ بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے اس جنگل میں آگ لگنے کے واقعات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

 جبکہ حالیہ سال بھی اسی جنگل میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر فارسٹ عملہ اور  مقامی لوگوں نے بڑی مشکل سے قابو پایا تھا۔

 تاہم قانونی پابندی ہونے کی وجہ سے لوگ اس دیار اور فر سپروس کے قابل استعمال لکڑیوں کو بھی اپنے استعمال میں نہیں لاسکتے

نتیجتا مضافات کے لوگ اپنی ذاتی ضرورتوں کے لیے جنگل سے رات کے اندھیرے میں لکڑی چوری کرنے پر مجبور ہیں۔     چونکہ قانون لوگوں کی سہولت کے لیے ہوتا ہے اس لیے قانون کو نافذ کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ انسانوں کی مفاد کو مدنظر ضرور رکھیں۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں