192

کھو اور کھوار


تحریر: سرور صحرائی


چترال اور گلگت بلتستان میں بولی جانے والی زبان کھوار کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ کھو قوم کی زبان ہے۔ مگر اس سلسلے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا ممکن نہیں۔

کیا کھوار کھو قوم کی زبان ہے۔؟

اس سلسلے میں چترال کے مقامی محقیقیں اور دانشوروں کا خیال کیا ہے۔؟

یہی کچھ آج کے اس کالم کا موضوع ہے۔

پروفیسر اسراالدین صاحب:

 کھو قوم کی اصلیت” کے عنوان سے اپنے تحقیقی مقالے میں کھو قوم کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔

۔۔۔موجودہ وقت میں جو کھو باشندے ہیں ان کو اصلیت کے لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ (1) قدیمی کھو (2) بعد میں آئے کھو۔۔

قدیمی کھو:-

 پروفیسر صاحب کے مطابق ان کی آبادی بڑھتی نہیں۔ ان لوگوں کو صد ہا سالوں سے باہر کے حملہ آور، فاتحین یا مہاجر جو چترال آئے، انہوں نے ان قدیمی کھو باشندوں کے ساتھ اپنے غلاموں جیسا سلوک کیا۔۔

مال و متاع پر قبضہ کیا۔۔ انکے پاس معمولی مقدار میں اتنا کچھ چھوڑا جس پر وہ بمشکل گزر بسر کرسکتے تھے۔۔

ان حالات میں خاندان کی آبادی بڑھتی تو وہ باہر کہیں گزر اوقات کی تلاش میں گھر چھوڑنا پڑتا اور اپنے حصے کی جایداد سے گھر کے پسماندہ افراد کے حق میں دست بردار ہونا پڑتا۔۔

بعد میں آئے ہوئے  کھو

 پروفیسر صاحب کے مطابق یہ لوگ بعد کے مختلف اوقات میں چترال کے ارد گرد کے مختلف ممالک سے آکر آباد ہوچکے ہیں، جن میں سے اکثر حملہ آوروں کی حیثیت سے یا حملہ آوروں کے مددگاروں کے طور پر چترال آئے۔ 

کئی ان میں ایسے بھی ہیں جو اپنے علاقوں  سے بھاگ کر یہاں پناہ لینے کے ارادے سے آئے، یہ سب یہاں سکونت اختیار کرگئے اور قدیم کھووں کو غلام یا رایت بناکر رکھ دیا۔۔

باہر سے آنے والے سب لوگ یہاں کے قدیم کھووں سے زبان، ثقافت، معاشرت اور رسم و رواج غرض سب پہلوں سے اختلاف رکھتے تھے مگر آپس میں گھل ملنے اور شادی بیاہ کی وجہ سے آہستہ آہستہ اپنی زبانوں کو بھول گئے اور کھوار ان کی مشترکہ زبان بن گئی۔۔

کھوار کھو اور وار سے مرکب ہے اور اس طرح اس کے معنی کھو قوم کی زبان ہے۔۔ڈاکٹر لائٹنر نے اسے ارینہ کا نام بھی دیا ہے۔۔(پروفیسر اسرالدین 1971)

 وقار احمد( ریٹارئرڈ ڈائکٹر محکمہ تعلیم)

 ان کے مطابق کھو اور کھوار کی درست تاریخ ملنی بہت مشکل ہے۔  چنانچہ اپنے آرٹیکل کے ابتدائی کلمات میں انہیں یوں گویا ہونا پڑا تھا۔۔

 ۔۔بعض شہادتوں کے مطابق قبل از مسیح میں بھی چترال انسان کامسکن تھا مگر مورخین کو بسیار تگ و دو کے باوجود بھی اس وقت کے لوگوں کی زبان، تہذیب و تمدن اور ثقافت کے متعلق کسی قسم کی معلومات ابھی تک نہیں ملیں۔۔

البتہ یہ یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ ان کی تہذیب و تمدن اور ثقافت انتہائی معمولی ہوگی۔ اس لئے یہ باور کرنے میں دیر نہیں لگتی کہ ان کی زبان بھی بے حد سادہ اور محدود ہوگی جو ان کے روز مرہ لین دین اور حالات کو بیان کرنے کے قابل الفاظ پر مشتمل ہوگی۔۔

 لیکن صدیاں گزرنے کے بعد انسانی حافظہ کو ہوش آیا تو دیکھا کہ اس وادی میں لوگ ایک بولی بولتے ہیں جس کو کھوار کہا جاتا ہے مگر کسی کو یہ معلوم نہ ہوا کہ اس بولی کو کھوار کیوں کہا جاتا ہے۔۔

کھوار بولی کی تحقیق کے سلسلے میں جہاں تک قیاس کے کدال سے تاریخ کے تہہ در تہہ چٹانوں کو کھودا جاتا ہے تو چند صورتیں نظر آتی ہیں۔ یہ لکھتے ہوئے وقار احمد صاحب نے کھوار کی بنیاد کےطور پر

چند امکانات کا ذکر کیا ہے مثلا

یہ کہ وادی میں پہلے آنے والوں کی بولی کا نام اس لئے کھوار ہوگا کہ  کسی قبیلے یا کسی جد کا نام تھا مگر یہ راز تحریر اور تقریر کی صورت میں آنے والی نسلوں تک نہ پہنچ سکا۔۔

یہ کہ باہر سے کوئی طاقت ور قبیلہ آیا جن کی بولی کا نام کھوار تھا۔۔ مقامی باشندوں کو مغلوب کیا جو ان کی زبان کو اپنا گئے مگر ان کے متعلق تاریخ اور اسلاف کی خاموشی نے آج تک ایک محقق کو مشکل میں ڈال دیا۔۔

یہ کہ یہ نام چترال کے چاروں طرف پہاڑوں کی وجہ سے کسی نے کوہ وار رکھا جس کے معنی ہیں پہاڑی لوگوں کی زبان۔۔۔ جو بعد میں کھوار میں بدل گیا ہو۔۔

 یہ نام کوئی فارسی شعر بولنے والا شخص رکھ سکتا ہے لیکن کسی فارسی بولنے والے کی اس علاقے میں آمد نہیں معلوم۔۔

یہ کہ آخری صورت بڑی حد تک وزنی اور منطقی معلوم ہوتا ہے وہ یہ کہ کھوار بولی میں درے کو ‘کہہ’ کہتے ہیں اور وار زبان یا بولی کو۔۔ چونکہ یہاں آنے والے لوگ مختلف دروں میں رہتے تھے اس لئے بولی کا نام ‘کہہ وار’ ہوگا ۔ بعد میں آنے والے نو وارد لوگوں نے یہاں دروں میں رہنے والے قدیم باشندوں کی بولی کو  اس کہہ وار سے کھوار بنادیا۔۔(1994)

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

 عنایت اللہ فیضی صاحب نے”چترال” نام سے اپنی کتاب غالبا ڈاکٹریٹ کی ڈگری لینے سے پہلے لکھی، اس لئے انکی کتاب کی تقلید میں یہاں سابقے کے بیغیر انکا نام لیا گیا ہے

وقار احمد مرحوم کی طرح عنایت اللہ فیضی صاحب نے بھی کھو اور کھوار ناموں کی اصلیت بتانے کی بھر پور کوشش کی ہے۔

انہوں نے کھو لفظ کو علاقے کا نام بتایا ہے۔۔۔چنانچہ انہوں نے لکھا کہ چترال کی زبان کا نام کھوار ہے۔ چترال میں کھوار بولنے والوں کی تاریخ بہت پرانی ہے۔۔

ہوانگ تسنگ( ساتویں عیسوی صدی) کے حوالے سے لکھا کہ پساچہ قوم اور ارنیہ زبان کا اس نے اس خطے میں موجودگی کا ذکر کیا ہے۔ ارینہ کے متعلق محققین کا خیال ہے یہ قدیم دردی زبان تھی۔۔

فیضی صاحب نے لکھا ہے کہ کھوار زبان قدیم ارینہ، سنسکرت، ترکی، فارسی اور دوسری دردی زبانوں سے مل کر بنی ہے۔

اس زبان کا نام کھوار پڑنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ چترال کے بالائی علاقے کو کھو کہا جاتا ہے۔ اب بھی تورکھو (کھو بالا) اور موڑی کھو ( کھو پائین) نام سے بالائی علاقے کی دو تحصیلوں کے لئے مستعمل ہیں۔

 دریائے چترال کے بائیں طرف دیہات اور وادیوں کو بیار یعنی دریا کے پار نام دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی آبادی انہی علاقوں میں تھی اور اسی علاقہ کھو کی زبان کھوار کہلائی۔۔

لفظ کھو کی وضاحت میں انہوں نے لکھا ہے کہ یہ چینی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ” پہاڑی غار” اور "پہاڑی وادی” کے ہیں۔۔”

فیضی صاحب کی اس توجیہ کی روشنی میں کھوار کے معنی پہاڑی غاروں کی یا پہاڑی وادی کی زبان ہوسکتا ہے۔۔

 لیکن یہ بات پھر بھی عجیب لگتی ہے کہ باشندے کھوے یا کھووی کہلانے کی بجائے براہ راست علاقے کے نام سے کھو موسوم ہوئے ہیں۔۔

مکرم شاہ

مکرم شاہ صاحب کو بھی کھو اور کھوار کے سلسلے میں لوگوں میں تذبذب موجود ہونےکا احساس تھا اس لئے انہوں نے اپنے ایک طویل مقالے میں علاوہ دیگر باتوں کے کھو اور کھوار کے الفاظ کی بنیادوں پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔۔

لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔

نئی نسل کے ذہنوں میں بار بار یہ سوالات جنم لے رہے ہیں کہ ہم کون ہیں؟۔۔۔ ہماری تاریخ اور ثقافت کیا ہیں اور ہماری شناخت کیا ہے؟

یہ ایسے سوالات ہیں کہ جن کے جوابات بنتے سو بنتے نہیں بنتے۔ جواب نہ پاکر خاموش رہنا نئی نسل کے ساتھ نا انصافی کے مترادف ہوگا۔۔۔۔۔

چناچہ  انہوں نے کھو کے متعلق لکھا کہ کھو قوم کا وطن مالوف کھووستان ہے۔

 کوہستان کے لغوی معنی پہاڑوں کی سر زمین ہے اور کھووستان کے معنی غاروں کی سر زمین ہے ۔۔

گل مراد خان حسرت :

 مرحوم گل مراد خان حسرت  بھی ‘کھو کی بنیاد کب اور کہاں سے شروع ہوئی’ کے عنوان سے اپنے فیس بک وال   میں اپنے مخصوص انداز میں لکھ چکے تھے کہ در اصل چترال کی قدیم تاریخ مکمل پردہ تاریکی میں ہے۔۔۔۔۔

آگے کھوار کے متعلق لکھتے ہیں کہ اگر کھو کہلانے کی وجہ تورکھو اور موڑکھو کی زبان کھوار کہلاتی ہے تو باقی علاقوں میں کھوار بولنے والوں کی زبان کونسی ہے؟

مندرجہ بالا تحریروں میں ہمارے مقامی دانش وروں نے کافی حد تک محنت سے اپنی تحقیق یا تجزئے یا خیالات کا اظہار کیا ہے تاہم کھو اور کھوار کے ناموں کی بنیاد یا اصل  کے اوپر ان تحریروں میں یکسانیت، تسلسل اور کسی حد تک قطعیت کا فقدان بدستور موجود ہے۔

 یہ بات بھی قابل غور ہے  کہ اگر کھو کے معنی غار کے ہیں تو وہاں کے رہنے والوں کے نسبتی نام یا شناخت کا لاحقہ کھوئے یا کھووی ہونا چاہئے مگر یہاں ایسا نہیں۔
 محض "غار” ہی کو باشندوں کے لئے نسبتی نام رکھا گیا ہے جو کھوار زبان کے اسلوب سے میل نہیں کھاتا۔

اس لئے کھو اور کھوار کی اصلیت اور بنیاد پر مزید تجزئے اور آراء آنے کی گنجائش بدستور موجود ہے۔۔۔

سرور صحرائی چترال کے نامور محقق ہے جو عرصہ تین دھائیوں سے چترال اور اردگرد کی تاریخ پر تحقیق میں مصروف ہے۔ انہیں چترال میں تاریخ نویسی کے حوالے سے سند کا درجہ حاصل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں