208

نگر میں سیلاب متاثرین کی گھروں کے مسمار کرنے کے خلاف اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ


اسلام آباد؛ شیرنادرشاہی


عوامی ورکرزپارٹی گلگت بلتستان اور یوتھ آف نگر کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے سکوار  پر گلگت میں انتظامیہ کی طرف سے نگر کے سیلاب متاثرین کے گھروں کو مسمار کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرے میں اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقیم گلگت بلتستان کے طلبہ ، نوجوان اور سیاسی و سماجی رہنماوں نے شرکت کی۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے چیئرمین کامریڈ بابا جان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے ساتھ اس وقت ظلم کیا جا رہا ہے ، پاکستان کے مختلف علاقوں میں سیلاب متاثرین کو گھر بنانے کے لئے امداد کی جا رہی ہے جبکہ گلگت بلتستان میں غریب سیلاب متاثرین جو اپنی مدد آپ کے تحت گھر بنارہے ہیں ان کو بھی حکومت مسمار کر رہی ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

کامریڈ بابا جان نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں کوئی خالصہ سرکار نہیں ہے ہماری زمینیں ہماری ملکیت ہیں ، کسی کی جاگیر نہیں ہے۔ گلگت بلتستان کی دریا ، زمین ، جنگل مٹی سب ہماری ملکیت ہے جس پر ناجائز قبضہ کسی بھی صورت کرنے نہیں دیں گے۔

 انہوں نے مزید کہا کہ یہ خالصہ سرکار کل کی بات ہے گلگت بلتستان کے عوام ہزاروں سالوں سے وہاں آباد ہیں۔ انہوں کے مزید کہا کہ ہمیں اتحاد کے ساتھ ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا اسی میں ہماری بقا ہے۔ انہوں نے  مطالبہ کیا  کہ حکومت  نگر کے سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے اقدامات کریں اور مسمار کئے  گئے گھروں کے معاوضے بھی ادا کریں بصورت دیگر احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما عباس موسوی نے کہا کہ خالد خورشید سرکار گلگت بلتستان کے وسائل کو بنی گالہ کی چوکیداری پر خرچ کر رہے ہیں لیکن  گلگت بلتستان کے سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں، سیلاب کی تباہی کے بعد حکومت نے نگر کے عوام کو بے یارو مددگار چھوڈ دیا ۔

لوگ اپنی مدد آپ کے تحت حصہ رسیدی کی زمین پیسے دے کر خریدا اور بحالی کے کام کا آغاز کیا تو حکومت نے ان کے گھروں کو مسمار کیا یہ عوام پر ظلم ہے۔

متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ورکرز پارٹی جی بی کے رہنما صفی اللہ بیگ نے کہا کہ ایک طرف گلگت بلتستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سیلاب نے تباہی مچا دی ہے تو دوسری طرف حکومت ان متاثرین کی بحالی میں ناکام ہو چکی ہے اور متاثرین کے گھروں کو مسمار کرنے پر تلی ہوئی ہے، سرمایہ دار حکمران اس خام خیالی میں نہ رہے کہ جی بی کے عوام سوئے ہوئے ہیں ہماری زمینوں پر ناجائز قبضہ جمائے گئے ہیں تو یہ ظلم ہم نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کی زمینیں وہاں کے عوام کی ہیں ، ہمارے آباواجداد اس وقت سے گلگت بلتستان میں آباد ہیں جب پاکستان کا وجود بھی نہیں تھا اور کشمیر کا ڈوگرہ راج کا بھی وجود نہیں تھا ہمارے آباو اجداد اس سے بھی پہلے اس سرزمین پر آباد تھے، ہم اپنی زمینوں پر قبضہ جمانے نہیں دیں گے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ورکرزپارٹی گلگت بلتستان کے رہنما شیرنادرشاہی ، یوتھ آف نگر کے رہنما مہدی عباس   نے کہا کہ گلگت بلتستان اس وقت مسائلستان بنا ہوا ہے خالصہ سرکار کے نام پر لوگوں کی ملکیتی زمینوں پر قبضہ کیا جارہا، پرامن احتجاج کرنے والوں کو انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت شیڈول فور میں ڈالا جارہا، گندم سبسڈی خاتمہ، بجلی بلوں میں اضافہ کیا جارہا اور متنازعہ ہونے کے باوجود غیرقانونی ٹیکسز کا نفاز کیا جارہا یعنی حکومت نے غریب دشمنی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑا۔

 حالیہ سیلاب سے گلگت بلتستان میں نگر، درکوت، یاسین، اشکومن اور بوبر کے علاقے متاثر ہوئے اور متاثرین اب بھی کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہے، حکومت ان کی بحالی میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  حکومت متاثرین کی آباد کاری کے بجائے ان کے زمینوں اور گھروں پر قبضہ کر رہی جس کی مذمت کرتے ہیں۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ” گلگت بلتستان کی زمینوں پر قبضہ بند کرو” ، ” سیلاب متاثرین کی بحالی کا کام تیز کرو” ، "ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے” جیسے نعرے درج تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں