179

تعلیمی میدان میں ترقی کرتا ہوا ہنزہ ایموشنل بیلک میلنگ کی نظر


تحریر۔ فرمان بیگ


سن 80 ء  کی دھائی ہنزہ وادی میں تعلیمی ترقی خصوصا بچیوں کی تعلیم کا نقطہ آغاز کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا۔

جب ہنزہ بھر میں کلک سے میون  چیپورسن ،شمشال تا خیزر آباد گاؤں گاؤں سینکڑوں  کنال اراضی بچیوں کی تعلیم کے لیے وقف کردینے لگیں۔ گاؤں کے مکین  پیٹ پر پتھر باندھ کر سکولوں کی عمارتوں کی تعمیر  میں جڑ گئے۔ آغاخان ایجوکیشن سروس نےاساتذہ اور تعلیمی ضرویات کے لیے درکار سازسامان فراہم کرنےلگاایک جذبہ ایک جنوں نچلے درجے سے لے کر اوپر تک ہنزہ بھر کے تعلیم سے وابستہ لیڈرشپ  کی ایک ہی خواہش کہ علاقے میں تعلیم کی روشنی پھیلے اور وہ لیڈر شپ جن کی قیادت مرحوم غلام الدین کررہے تھے نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ ایک تاریخ رقم کردی۔  

علم کی جستجو میں وادی  ہنزہ کے دیہی آبادی کے مکین بچوں کے ساتھ بچیوں کو بھی زیور تعلیم سے مستفیدکرنے لگے تھے تمام مال ومتاع تعلیم کے حصول کے لیے وقف کئے جانے لگے، دیکھتے ہی دیکھتے وادی ہنزہ میں ایک تعلیمی انقلاب برپا ہوا بچوں کے ساتھ بچیاں بھی دنیا کے بہترین یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل  ہوکر ملکی اور بین الاقوامی سطح کے مشہور اداروں  میں خدمات سرانجام دینے لگیں۔

جب ہنزہ بھر میں کلک سے میون  چیپورسن ،شمشال تا خیزر آباد گاؤں گاؤں سینکڑوں  کنال اراضی بچیوں کی تعلیم کے لیے وقف کردینے لگیں۔ گاؤں کے مکین  پیٹ پر پتھر باندھ کر سکولوں کی عمارتوں کی تعمیر  میں جڑ گئے۔ آغاخان ایجوکیشن سروس نےاساتذہ اور تعلیمی ضرویات کے لیے درکار سازسامان فراہم کرنےلگاایک جذبہ ایک جنوں نچلے درجے سے لے کر اوپر تک ہنزہ بھر کے تعلیم سے وابستہ لیڈرشپ  کی ایک ہی خواہش کہ علاقے میں تعلیم کی روشنی پھیلے اور وہ لیڈر شپ جن کی قیادت مرحوم غلام الدین کررہے تھے نہ صرف کامیاب ہوئے بلکہ ایک تاریخ رقم کردی۔ 

 وادی ہنزہ کے دیہاتوں کے طرز حیات اور بدوباش میں تبدیلی آنا شروع ہوئی  معاشرہ تبدیل ہونے لگا  سرمایہ کی ریل پہل میں اضافہ ہوا،   دیہی آبادیاں جہاں ماضی میں  ایک طرح کے سماجی ومعاشی زندگی یکساں ہوا کرتی  تھی،  اب وہاں اونچ نیچ، معاشی ناہمواریاں اور طبقات جنم لینے لگے اجتمایت سے رفتہ رفتہ انفرادیت پسندی کی جانب مائل ہوئے، فلاح وبہبود اور باہمی اشتراک کے نظریے سے  منافع کے حصول کی جستجو ہونے لگا،  آغاخان ایجوکیشنل شروع  میں ادارجاتی تبدیلیاں لائی گئی مقاصد تبدیل ہوئے  فلاحی بہود کے اصولوں  کے تحت جنم لینے والے اداروں کو منافع بخش کاروباری ادارے میں بدل دیا گیا ۔درسگاہوں کو مارکیٹ بنایا گیا طالب علم کنزومر بنائے گئے ، جہاں طالب علم کو تعلیم خریدنے جانےپڑے ۔

 آغاخان ایجوکیشن سروس نے تعلیم کو منافع بخش بناتے ہوئے بچوں کو کنزومر بنانے کا سلسلہ شروع کیا ،  ہنزہ کے دیہی مکینوں کی جانب سے بلا معاوضہ وقف زمین اور عمارت آغا خان ایجوکیشن سروس کے نام قانونی طریقوں سے گزارتے ہوئے منتقل کئے گئے زمین اور عمارات کی حق ملکیت اور فیصلہ سازی کا اختیار مقامی دیہی لوگوں سے نکل کر کراچی  کے گرم ہواؤں میں منتقل کئے گئے۔ نارتھ کے قدرتی ٹھنڈ علاقوں کے فیصلے کراچی کے مصنوعی ٹھنڈ ائرکنڈیشن کمروں میں ہونے لگا  فلاحی وبہبود کے مقاصد کو رفتہ رفتہ ختم کیاگیا بدلے میں بےتحاشہ فیسوں کا اجرا کرتے ہوئے تعلیم کے حصول کو دیہی علاقوں کے لوگوں کے پہنچ سے باہر کردیا گیا۔ شمال  کے یخ بستہ ہواؤں میں چھ مہینوں کے روزگار کرنے والوں پر باری تعلیمی فیسوں کی مد میں اضافی بوجھ پڑنے لگا رفتہ رفتہ دیہی مکین بچوں کے تعلیمی آخراجات کے بوجھ تلے دبنے لگیں،  اسکولوں کی فیسز  ادا  نہ کرنے والے طالب  کو اسکول کے اسمبلی میں علیحدہ کھڑے کئے جانے لگا،  تمام بچوں کے سامنے ان کی سرزنش ہونے لگیں ،ان کے والدین کی غربت کا مذاق اڑائے جانے لگے، بچے نفسیاتی مرض کے شکار ہونے لگیں تعلیمی معیار روز بہ روز  گرنے لگا وہی پر والدین کو  کمیونٹی اجتماعات میں شرمندگی  سے گزرنا پڑا، بچے رفتہ رفتہ پڑھائی سے دلبرداشہ ہونے لگے۔

 کمیونٹی نے جس جذبے سے اپنے پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کے آنے والا کل کے روشن مستقبل کے لیے  اسکولوں کے تعمیرات کے لیے درکار زمین وقف اور عمارت بلا معاوضہ تعمیر کیا تھا اب وہاں حالات یہ پیدا ہوا ہیں کہ ان وسائل کو کمیونٹیٹیز  اپنی ضرورت ، بچوں کی تعلیم و دیگر سوشل مقاصد  کے استعمال کے لئے بھی محتاج ہوگئے ہیں جس کی  اجازت لینے کے لیے تجارت پیشہ شہر کراچی کےگرم ہواؤں کے پاس جانا پڑرہاہے

 کمیونٹی نے جس جذبے سے اپنے پیٹ کاٹ کر اپنے بچوں کے آنے والا کل کے روشن مستقبل کے لیے  اسکولوں کے تعمیرات کے لیے درکار زمین وقف اور عمارت بلا معاوضہ تعمیر کیا تھا اب وہاں حالات یہ پیدا ہوا ہیں کہ ان وسائل کو کمیونٹیٹیز  اپنی ضرورت ، بچوں کی تعلیم و دیگر سوشل مقاصد  کے استعمال کے لئے بھی محتاج ہوگئے ہیں جس کی  اجازت لینے کے لیے تجارت پیشہ شہر کراچی کےگرم ہواؤں کے پاس جانا پڑرہاہے  فلاحی وبہبود اور رفاعی مقاصد کے لئے تعمیر کئے گئے عمارتوں اور سینکڑوں کنال اراضی تعلیم کے حصول کے نام پر کاروباری مقاصد کے تحت استعمال ہونے لگا۔

ہنزہ کے دیہی آبادی کے باشندوں نے جس جذبہ اور شوق کے ساتھ اس بے سرو سامانی کے عالم میں اپنے پیٹ پر پتھر رکھ کر اپنے ہاتھوں کے محنت سے بنائے گئے جائداد سے بھی محروم ہو گئے ہیں اور دوسری طرف بچوں کے تعلیمی مستقبل بھی تاریک ہوتے ہوئے دیکھائی دے رہا ہے جو بڑے محنت اور ارمانوں سے  بچوں کے روشن مستقبل کو سنوار کے خواب دیکھا گیا تھا وہ پورا ہوتا ہوا دیکھائی نہیں دے رہا ہیں۔ کیا یہ ایک لمحہ فکریہ نہیں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں