عوامی ورکر پارٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام  یسین میں احتجاجی مظاہرہ،


احتجاجی مظاہرے میں  ہزاروں کی تعداد میں عوام کی شرکت۔ ایک ہفتے میں گندم سبسڈی بحال ، لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ ہوا تو عوام کا جم غفیر وزیر اعلیٰ ہاوس کی طرف لانگ مارچ کریں  گے، مظاہریں سے خطاب میں عوامی ایکشن کمیٹی کے قیادت کا اعلان ۔


رپورٹ: شیرنادرشاہی


عوامی ایکشن کمیٹی یاسین کی کال پر ، گندم سبسڈی خاتمہ و کوٹے میں کٹوتی اور لوڈشیڈنگ و دیگر مطالبات کے حق میں  گلگت بلتستان کے بالائی علاقے یاسین عوام نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں عوام نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔  اس دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔

احتجاجی مظاہرہ

 احتجاجی مظاہریں سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے رہنما گوہر شاہ ایڈوکیٹ، شیرنادرشاہی، اسلم انقلابی، پیار علی ایڈوکیٹ، علی غلام و دیگر  رہنماؤں نے کہا کہ حکومت گلگت بلتستان کے عوام کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے، متنازعہ خطے میں غیرقانونی ٹیکسز کا نفاذ اور گندم سبسڈی کا خاتمہ کر کے عوام کو بھوکا مارنے کی سازش کی جارہی  ہے۔

احتجاجی مظاہرہ

 مقررین کا  مزید کہنا تھا  کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے جس کے تحت گندم سمیت دیگر اشیاء خوردونوش پر سبسڈی ہمارا حق ہے، تنازعہ کشمیر کا حصہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوام کو بھی مقبوضہ کشمیر کے عوام کی طرح گندم سمیت مختلف اشیاء پر سبسڈی دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب کی وجہ  سے یسین کے عوام کی  کھڑی فصلیں مکمل تباہ ہوچکی ہے جس کی وجہ علاقے میں غذائی بحران پیدا ہونے کا امکان ہے حکومت عوام کو گندم فراہم کرنے کے بجائے سبسڈی کا خاتمہ کر رہی اور گندم کوٹہ جو پہلے بارہ کلو فی نفری ملتا تھا اس میں کٹوتی کر کے فی نفری چار کلو مقرر کرنا عوام کو بھوکا مارنے کی سازش ہے ۔

احتجاجی مظاہرہ

 انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ دنوں حکومت سے مذاکرات کے باوجود مطالبات حل نہ ہوئے۔ ایک ہفتے کے دوران مطالبات حل نہ ہوئے تو عوام کا سمندر لے کر وزیر اعلیٰ ہاوس گلگت کی جانب مارچ کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں