173

وادی کیلاش کے برف پوش میدان میں  تین روزہ  ونٹر اسپورٹس فیسٹول اختتام پذیر


تحریر:گل حماد فاروقی


وادی بمبوریت میں کلاش آئس اینڈ سنو فیسٹول اختتام پذیر ہوا۔  سرمائی کھیلوں کے اس ٹورنامنٹ میں مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ سیاح بھی لطف اندوز۔ کلاش ونٹر اسپورٹس فیسٹول کے اس تہوار میں  دو  سو سے زائد لڑکوں اور لڑکیوں کو سنو سکینگ اور دیگر برفانی کھیلوں  کی تربیت بھی دی گئی۔علاقے کے لوگوں نے اسے سرمائی سیاحت کی ترقی کے لئے  اچھی پیش رفت  قراردے رہے ہیں۔

 تفصیلات کے مطابق وادی کلاش بمبوریت میں  کلاش آئس اینڈ سنو  فیسٹول یعنی سرمائی کھیلوں کا میلہ منعقد ہوا جو تین دن تک جاری رہا۔کلاش آئیس اینڈ سنو فیسٹول میں دو سو سے زیادہ لڑکوں اور لڑکیوں کو  سرمائی کھیلوں کی تربیت بھی دی گئی۔ٹورنامنٹ کے منتظم  شہزادہ ہشام الملک نے تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کا شکریہ ادا کیا جن کی  تعاون سے یہ تہوار کامیاب رہاان کا کہنا ہے کہ اس سے ونٹر ٹورزم یعنی سرمائی سیاحت بھی فروغ پائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ  سرمائی کھیلو ں کے اس تہوار کو منعقد کرانے میں ان کے ساتھ ایس آر ایس پی، ضلعی انتظامیہ، ٹی ایم اے  چترال، اے آر ایس پی، گلوبل افیر کینڈا وغیرہ نے بھر پور تعاون کیا۔اس ٹورنامنٹ میں آئس یعنی برفانی ہاکی، سنو سکینگ، کبڈی اور ایک پاوں پر دوڑ کے مقابلے بھی ہوئے۔ ان کھیلوں میں لڑکوں اور لڑکیوں دونوں نے حصہ لیا۔

سرمائی کھیلوں کے اس تہوار میں  ضلع اپر چترال سے بھی بچوں اور بچیوں نے حصہ لے کر اس سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ ان بچیوں اور بچوں کا کہنا ہے کہ ہمیں پہلی بار سنو سکینگ یعنی برف کے میدان پر اوپر سے نیچے پھسلنے کے کھیل کا موقع ملا جس سے ہم نے بہت کچھ سیکھا۔

PPAFپاکستان پاورٹی الیویشن فنڈ کے سربراہ  نادر گل بڑیچ  نے خصوصی طور پر اس میں شرکت کرتے ہوئے اظہار خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موسم سرما میں اس قسم کے تہوار اور برفانی کھیلوں کے ٹورنامنٹ منعقد کرانے سے اس پسماندہ علاقے میں بھی سرمائی سیاحت فروغ پائے گی جس سے لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی ملے گی اور ان کی معیشت پر مثبت اثرات پڑیں گے۔

ضلع انتظامیہ کے اہلکاروں نے یقین دہائی کرائی کہ آنے والے سالوں میں سرمائی کھیلوں کے اس تہوار کو  مزید منظم  اور بہتر طریقے سے منائیں گے۔ اسسٹنٹ کمشنر ہیڈ کوارٹر لوئر چترال اور ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر نے بھی انتظامی امور سنبھالے ان کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ نہایت جلدی میں یہ تہوار منایا گیا اور اس میں جو کمزوریاں ہوئی ہیں اس سے ہم سیکھیں گے امید ہے آنے والے سالوں میں اس تہوا ر کو مزید بہتر انداز میں ہم منائیں گے۔

علاقے کے منتحب ناظمین کے مطابق سرمائی کھیلوں سے وادی کلاش میں سردیوں کے موسم میں بھی سیاحت فروغ پائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں  شدید سرد موسم کی وجہ سے نہ تو یہاں سیاح آتے ہیں اور نہ کاروبار چلتا ہے بلکہ مقامی لوگ بھی گھروں میں محصور ہوکر رہتے ہیں۔ اس قسم کے کھیل کود سے اگر ایک طرف ان کی بوریت ختم کرنے اور لطف اندوز ہونے کا موقع ملتا ہے تو دوسری جانب اس سے مقامی لوگوں کا کاروبار بھی بہتر ہوتا ہے کیونکہ یہاں سیاح آتے ہیں اور ہوٹلوں میں قیام کرنے کے ساتھ ساتھ دکانداروں سے بھی سامان خریدتے ہیں۔

ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر لوئیر چترال نے ان کھیلوں کو  مقامی کھلاڑیوں اور نوجوانوں کے لئے نہایت مفید قراردیا۔ان کا کہنا ہے کہ جب لوگ سردی کی وجہ سے گھروں میں بے کار بیٹھ کر بوریت کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی صحت کو  بھی خطرہ لاحق ہوتا ہے تاہم جب وہ کھیل کود اور مثبت سرگرمیوں میں مشعول ہو تو وہ بیمار نہیں پڑتے اور جسمانی طور پر  تندرست اور صحت بند رہتے ہیں۔

تین روزہ کیلاش آئیس اینڈ سنو  تہوار کے دوران سنو سکینگ، آئیس ہاکی کے مقابلوں کے ساتھ ساتھ

 برف پوش میدان پر کبڈی اور ایک پاؤں سے دوڑ کے مقابلے بھی ہوئے۔ وادی کلاش کے برف پوش میدان اور یح بستہ موسم میں اس قسم کے کھیلوں سے  موسم سرما میں بھی  سیاحت فروغ پائے گی جس سے  اس پسماندہ علاقے کے لوگوں کی معیشت پر بھی مثبت اثرات پڑیں گے۔سرمائی کھیلوں کے اس تہوار کو دیکھنے کے لئے شدید سردی کے باوجود کثیر تعداد میں سیاح وادی کلاش آئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں