لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں کرپشن ثابت، 135

لیڈی ریڈنگ ہسپتال پشاور میں کرپشن ثابت، تحقیقاتی رپورٹ مکمل


پشاور

 خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال سےخزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچانے کے شواہد ملے ہیں اور ڈائریکٹر عہدے پر تعینات فرد کو نااہل ترین قرار دیا گیا ہے۔ ہسپتال میں 5 کروڑ 45 لاکھ روپے کرپشن کی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کر لی گئی ہے۔

تحقیقاتی رپورٹ میں ڈائریکٹر اورایسوسی ایٹ ڈائریکٹرکو عہدوں کے لئے نا اہل قرار دیتے ہوئے بے قاعدگیوں کےبھی ذمہ دار قراردئیے گئے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق امراض قلب کے لئے ای پی مشین گائینی وارڈ کے لئے آپریشن تھیٹر، میز اور یو پی ایس کی خریداری میں بڑے پیمانے پرخوردبرد کی گئی ہے۔

ہسپتال کو 30 یو پی ایس کی ضرورت تھی تاہم یہاں تجاوز کرتے ہوئے 200 خریدے گئےجن میں 70 اب بھی گودام میں پڑے ہیں اور ان کو استعمال میں نہیں لایا جا سکا۔ مارکیٹ سروے کے بے غیر خریداری کی گئی اور منیجر فیسیلٹی غیاث الدین نے ہسپتال کو85 لاکھ کا ٹیکہ لگایا۔تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے والے ممبران کو رپورٹ نہ دبانے پردھمکیاں بھی دی گئیں۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق ایم ٹی آئی رولز کے برعکس خریداری کی گئی اور یوپی ایس کے لئے صرف ایک کمپنی کے علاوہ تمام کمپنیوں کو نااہل قرار دیا گیا۔ انکوائری رپورٹ میں ایسوسی ایٹ ہسپتال ڈائریکٹرطارق برکی کو ان تمام بے قاعدگیوں کا ذمہ دار قراردیا گیا۔ خریداری میں خیبرپختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی رولز کی خلاف ورزی اور اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اپنے دستخط سے سب کچھ کیا۔

 ڈائریکٹرڈاکٹرابرارخٹک کو انتظامی اور معاشی لحاظ سے عہدے کے لئے نااہل قرار دیا گیا، کیونکہ ڈائریکٹراپنے کام اورذمہ داریوں سے بے خبرہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں ان کے لئے سخت سزادینے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔

اس سلسلے میں جب لیڈی ریڈنگ ہسپتال ترجمان عاصم سے رابطہ کیاگیا تو انہوں نےبتایا کہ یو پی ایس اورآپریشن تھیٹر مشین خریداری میں تمام قواعد و ضوابط کا خیال رکھاگیا ہے۔ انکوائری کمیٹی اورمینجمنٹ کمیٹی کی سفارشات اورتجاویز میں کچھ غلط فہمی تھی جودور کی گئی ہیں۔

بشکریہ: واڈان نیوز

کیٹاگری میں : خبر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں