300

قائد اعظم یونیورسٹی کے منہدم ہٹس پہ بھوکے کتے کا نوحہ


تحریر: ضیاء افروز

بقول شخصے لوگوں کی ضروریات اگر سرکار کے لئے اہم ہیں تو کوئی قانون کوئی اصول کوئی قاعدہ لوگوں کی ضرورت سے بڑا نہیں ہو سکتا لوگوں کا گلا کاٹ کر قانون پہ عمل درآمد نہیں کرایا جا سکتا  کیا بھی جائے تو وہ دیر پا نہیں ہوتا۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے ہٹس گرا دئیے گئے یہ اذیت ناک ہے ظلم ہے بربریت ہے ہم ان متاثرین کے سات کھڑے ہیں جن کو ریاست اور یونیورسٹی انتظامیہ کی ملی بھگت سے جبر کا نشانہ بنایا گیا یہ آفسوس ناک اور قابل مذمت ہے۔

قائدئن جانتے ہیں کہ ہمارے لئے قائدین ہونے کا ایک مطلب یہ ہٹس بھی تھے ان سے ہماری یادیں وابستہ ہیں ہم نے جو کچھ  سیکھا وہ یونیورسٹی سے زیادہ ان ہٹس کی بدولت ہے۔

قائدئن جانتے ہیں کہ ہمارے لئے قائدین ہونے کا ایک مطلب یہ ہٹس بھی تھے ان سے ہماری یادیں وابستہ ہیں ہم نے جو کچھ  سیکھا وہ یونیورسٹی سے زیادہ ان ہٹس کی بدولت ہے۔

یونیورسٹی نے ہمیں نصاب پڑھایا اور  ان ہٹس نے ہمیں زندگی سکھائی اٹھنے بیٹھنے کا طریقہ سیکھایا فلسفہ، نفسیات، عمرانیات ادب شاعری سے تعارف کرایا سائنس کے اسٹوڈنٹس کو آئن اسٹائن کے سات مرزا غالب  اور جون کیٹس سے متعارف کرایا سائنس والوں کو عموما ان لوگوں سے پالا کم ہی پڑتا ہے لیکن ہماری خوش قسمتی تھی کہ ان ہٹس پہ ہر طرح کے علمی بیک گروانڈ اور ہر طرح کے کلچر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقات ہوئی مجھے یہاں آکے پہلی بار بلوچوں کی محکومی کا اندازہ ہوا، سندھیوں کے سات ہونے والی ناانصافیوں کے بارے آگاہی ہوئی پختون کے سات روا رکھے گئے ریاستی جبر کا ادراک ہوا  پنجاب کے ثقافتی پہلو کو جاننے کا موقع ملا گلگت بلتستان کے باسیوں کی تہذیب و ثقافت سے آشنائی ہوئی انسانی زندگی کے جتنے پہلو تھے ان کو قریب سے دیکھنے کا جو موقع یہاں ملا وہ کہیں اور ممکن نہ تھا۔

آپ پاکستان کی کسی یونیورسٹی چلے جائیں اس طرح متنوع اسٹوڈنٹس آپ کو کہیں نہیں ملیں گے ہم نے کتاب کا علم یونیورسٹی سے اور زندگی گزارنے کا قرینہ انہی بوسیدہ حال ہٹس سے سیکھا بولنے کا ہنر ادھر بیٹھ کر آیا۔

یہ کلچریل ایکسچینج کی ایک جگہ تھی میں انتہائی دکھی ہوں ان مظلوموں کی وجہ سے جو اپنے کاروبار سے محروم کر دئیے گئے پالیسی بنانے والے اور حکم صادر کرنے والے کیوں احساس سے عاری ہو گئے کیوں اس بات کو بھول گئے کہ ان گندے مندے ہٹس کی وجہ سے کئی گھروں کا چراغ جلتا تھا۔

آپ پاکستان کی کسی یونیورسٹی چلے جائیں اس طرح متنوع اسٹوڈنٹس آپ کو کہیں نہیں ملیں گے ہم نے کتاب کا علم یونیورسٹی سے اور زندگی گزارنے کا قرینہ انہی بوسیدہ حال ہٹس سے سیکھا بولنے کا ہنر ادھر بیٹھ کر آیا۔ یہ کلچریل ایکسچینج کی ایک جگہ تھی میں انتہائی دکھی ہوں ان مظلوموں کی وجہ سے جو اپنے کاروبار سے محروم کر دئیے گئے پالیسی بنانے والے اور حکم صادر کرنے والے کیوں احساس سے عاری ہو گئے کیوں اس بات کو بھول گئے کہ ان گندے مندے ہٹس کی وجہ سے کئی گھروں کا چراغ جلتا تھا۔

کیا یہ ممکن نہیں تھا سی ڈی اے باقی سکٹرز کی طرح یہاں بھی لیز کا کوئی قانون لاتا جو پیسے انڈر ہینڈ لئے جاتے ہیں وہ قانونی طریقے سے سرکار کے خزانے میں جاتے لوگوں کو  باعزت روزگار مل جاتا یونیورسٹی انتظامیہ ان ہٹس کو کچھ دے نہیں سکتی تو اس مشکل وقت میں ان کی آواز ہی بن سکتی تھی مقام افسوس ایسا نہیں ہوا ہٹس منہدم ہو گئے یادیں ملبے میں دفن ہو گئیں۔

ہم گزرے ہوئے سالوں کو اس ملبے کے ڈھیر میں کریدنے کی کوشش کر رہے ہیں یہی مقام تھا جہاں کارل مارکس سے ملاقات ہوئی روسو، نطشے، فرائیڈ سے دوستی ہوئی مذاہب اور سماج کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملا وہ لوگ جو اپنی محرومیوں کے سات یہاں آتے تھے ان کی تشفی ہوتے دیکھی ان کی بے بسی کا ازالہ ہوتے دیکھا جاننے والے جانتے ہیں انہی ہٹس پہ سینکڑوں ایسے اسٹوڈنٹس تھے جن کو یہ ہٹس والے مفت  کھانا کھلاتے تھے ہٹس والے زیادہ احساس کے لوگ تھے ان کو پتا تھا کہ مجبوری کیا ہوتی ہے مخیر حضرات بھی ان ہٹس والوں کے ساتھ تعاون کرتے تھے  حکم دینے والے کیوں بھول گئے کہ ان کے ایک فیصلے سے کتنے لوگوں کے منہ سے نوالا چھن گیا۔؟ وہ جانور آوارہ کتے بیلیاں جن کی خوراک کا بندوبست ان ہٹس سے ہوتا تھا وہ بھی اس ظلم پہ نوحہ کناں ہے ان کی بھونک میں وہ فریاد اور بد دعا ہے کہ خوف آتا ہے۔

دیار غیر میں رہنے والے کچھ دوستوں سے بات ہوئی وہ ایسے رنجیدہ ہوئے کہ یہاں ہر قدم پہ ان کی یادیں تھیں آپ ایک پتھر پہ بھی چار سال گزار دیں تو وہ گھر بن جاتا ہے یہ تو پھر بھی وہ مقام جہاں سے نمک کھایا وہ اس کو کیسے فراموش کر سکتے تھے۔؟

بات یہ ہے کہ انسانی دماغ میں بات اتارنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ انسانوں کو کچھ حوالوں سے آسودہ کریں اور انسانی جبلت کی سب سے بڑی ضرورت روٹی ہے جب لوگوں کی روٹی پوری ہوتی ہے تو وہ ہر قانون کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے دل میں گنجائش پیدا ہوتی ہے جب لوگوں سے روٹی چھن جاتی ہے وہ قانون گھول کے نہیں پیتے مجھے خوف آتا ہے جن لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے ان کی بدعا سے ڈر لگتا ہے حکام بالا سے پر زور اپیل ہے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے انسانی پہلووں پر غور ضرور کریں ہم کسی اور سانحہ کے متحمل نہیں ہو سکتے

بات یہ ہے کہ انسانی دماغ میں بات اتارنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ انسانوں کو کچھ حوالوں سے آسودہ کریں اور انسانی جبلت کی سب سے بڑی ضرورت روٹی ہے جب لوگوں کی روٹی پوری ہوتی ہے تو وہ ہر قانون کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے دل میں گنجائش پیدا ہوتی ہے جب لوگوں سے روٹی چھن جاتی ہے وہ قانون گھول کے نہیں پیتے مجھے خوف آتا ہے جن لوگوں کا روزگار متاثر ہوا ہے ان کی بدعا سے ڈر لگتا ہے حکام بالا سے پر زور اپیل ہے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اس کے انسانی پہلووں پر غور ضرور کریں ہم کسی اور سانحہ کے متحمل نہیں ہو سکتے

یونیورسٹی میں جو بھی صورت حال پیدا ہوئی بظاہر وہ بڑی معمولی بات پر ہوئی لیکن اس کے پس منظر میں اصل محرک بھوک، افلاس ہے غربت ہے محرومی ہے لوگ فرسٹیٹڈ ہیں غربت سے تنگ ہے اپنا اظہار کہیں نہیں کر پاتے تو اس کو اپنے مسائل کا حل سمجھتے ہیں۔ حکومت کا کام مسائل کا حل تلاش کرنا ہے بربادی تو ویسے ہی اس ملک میں بال کھولے سو رہی ہے دل کٹا ہے دکھی ہیں دعا گو ہیں کہ یونیورسٹی اپنی تمام رونقوں کے سات بحال ہو جائے ہمیں وہی پرانی یونیورسٹی چاہئیے۔

بابا فرید نے کہا تھا

پنج رُکن اسلام دے ، تے چھیواں فریدا ٹُک

جے لبھے نہ چھیواں ، تے پنجے ای جاندے مُک

اردُو ترجمہ:

اسلام کے پانچ رُکن بیان کئے جاتے ہیں

لیکن اے فرید ! ایک چھٹا رُکن بھی ہے

اور وہ ہے ’ روٹی ‘

اگر یہ چھٹا نہ مِلے، تو باقی پانچوں بھی جاتے رہتے ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں