103

اسکردو اجلاس: لینڈ ریفارمز بل مسترد; زمینوں کو عوامی ملکیت قرار دینے کا مطالبہ


 ہائی ایشیاء ہیرالڈ


ڈویڑنل کمپلیکس سکردو میں لینڈ ریفارم کے حوالے سے مشاورت اجلاس کے شرکاء نے قابل تقسیم اراضی سمیت تمام زمینوں کو سرکاری زمین لکھنے کی بجائے عوامی زمین لکھنے کا مطالبہ کیا۔شرکاء نے صوبائی کمیٹی میں سیکریٹریز کی بجائے وزراء یا ممبران اسمبلی، ضلع کی کمیٹی میں ضلع کونسل کا چئیرمین اور ممبران، اور گاؤں سطح کی کمیٹی میں چیرمین یونین کونسل اور ممبران شامل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

انہوں نے پندرہ سالوں سے مسلسل التواء کے شکار بلدیاتی انتخابات کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔

شرکاء نے عوامی مفادات کے منصوبوں میں سکول، ہسپتال، بجلی گھر اور سڑکوں، دفاع اور سیاحت کے نام پر ایک ٹکڑا زمین نہ دینے، نوتوڑ رولز کے خاتمہ کے بعد کی تمام غیر قانونی انتقالات منسوخ کرنے کا بھی متفقہ مطالبہ کیا۔

شرکاء نے اب تک معدنیات اور دیگر تمام لیز منسوخ کرنے اور تمام قابل تقسیم اراضی اسی علاقے، محلے یا گاؤں کے مقامی افراد میں یکساں تقسیم کرنے کی تجاوز دی اور لینڈ ریفارم ایکٹ سے پہلے بندوبست کرنے کی بھی تجویز دی تاکہ قابل تقسیم اراضی کا درست اندازہ ہو اور حکومت یا اداروں کو جہاں جہاں زمین کی ضرورت پیش آئے معاوضہ دے کر مارکیٹ کے نرخ پر زمین خریدیں۔

انہوں نے کہا کہ غیر مقامی افراد کو زمین کے خرید و فرخت اور الاٹمنٹ پر پابندی کا شق پہلے سے ہی موجود ہے مگر اب تک جتنے غیر مقامی افراد یا ادارے گلگت بلتستان کے زمینوں پر قابض ہیں  اس حوالے سے لینڈ ریفارم مکمل خاموش ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں