167

گلگت بلتستان میں تیزی سے بدلتی موسمیاتی تبدیلی حکمرانوں  اور بیوروکریٹس کی ماحولیات دشمن پالیساں


تحریر: فرمان بیگ

گلگت بلتستان پاکستان کے شمال میں واقع  قدرتی گلیشئر، جھیلوں، ندی نالوں اور پہاڑوں کا خطہ ہونے کے ساتھ پاکستان کے میدانی علاقوں کے  زراعت کے لئے لائف لائین کی حثیت رکھتا ہے۔ تباہ کن موسمیاتی تبدیلی  کی وجہ سے گلگت بلتستان کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں اس خطے سے دس فیصد سے زیادہ گلیشیئرز ختم ہو چکے ہیں۔

آب و ہوا کی تیزی سے بدلتی صورت حال نے گلگت بلتستان کو بری طرح اپنی لپٹ میں لے چکی ہے  غیر متواقع بارشوں اور برف باری سے نظام زندگی بری طرح  متاثر ہورہی ہیں  وہی پاکستان کے میدانی علاقوں  کے زرعی معیشت پر نمایاں اثر پڑ رہا ہے کیوں کہ کسان اپنی فصلوں کو سیراب کرنے کے لئے گلگت بلتستان کے گلیشئرز، جھیلوں اور دریا پر  انحصار کرتا ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی گلگت بلتستان میں جنگلی حیات کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ انواع و اقسام  کے جنگلی حیات گلیشیئرز کے پگھلنے اور بدلتے ہوئے موسمی تبدلی کی وجہ سے ان کے آماج گاہیں شدید خطرات سے دو چار ہے۔

تباہ کن موسمیاتی تبدیلی  کی وجہ سے گلگت بلتستان کے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں میں اس خطے سے دس فیصد سے زیادہ گلیشیئرز ختم ہو چکے ہیں۔

 سی پیک روٹ جو شاہراہ قراقرم کے ذریعے  پاکستان کو گلگت بلتستان کے راستے چین سے ملانے والی  شاہراہ گلیشیئرز کے پگھلنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کی وجہ سے ہر وقت خطرات سے دوچار ہیں شاہراہ قراقرم خطے کے لئے ایک اہم اقتصادی لائف لائن ہے شاہراہ کی کسی بھی رکاوٹ  کی وجہ سے پاکستان کے لئے سنگین معاشی و اقتصادی  نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔

ان حقائق سے ظاہر ہوتا ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے گلگت بلتستان پر نمایاں اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

مگر صاحبان اختیار گلگت بلتستان میں ماحول دشمن سرگرمیوں کی حوصلہ افرائی اور بڑے بڑے تجارتی اداروں کے اشتہاری مہم  میں لگے ہوئے ہیں، ایسے سرگرمیوں  کو نہ صرف ترجیح دی جارہی ہے بلکہ ان کی ماحول دشمن سرگرمیوں کو عمل میں لانے کی مکمل چھوٹ دی گئی ہے  جس سے موسمیاتی تبدیلی مزید ابتری کا شکار ہو رہی ہے۔

سی پیک روٹ جو شاہراہ قراقرم کے ذریعے  پاکستان کو گلگت بلتستان کے راستے چین سے ملانے والی  شاہراہ گلیشیئرز کے پگھلنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کی وجہ سے ہر وقت خطرات سے دوچار ہیں شاہراہ قراقرم خطے کے لئے ایک اہم اقتصادی لائف لائن ہے شاہراہ کی کسی بھی رکاوٹ  کی وجہ سے پاکستان کے لئے سنگین معاشی و اقتصادی  نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔

سرمایہ کاری کے نام پر با آثر سرمایہ کاروں، ملٹی نشنلز کو گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کو فروخت کرنے کے لینڈ ریفام جیسے زریعے تلاش کئے جارہے ہیں سیاحت کے نام پر بڑے بڑے کنکریٹ کے انفرسٹکچرز کی تعمیر کی کھلی چھوٹ دی گئی ہیں سوریج کے نظام نہ ہونے سے گند کو دریاؤں اور  جھیلوں میں ڈالا جا رہا ہیں جس سے پانی آلودگی سے دوچار ہے۔

پلا سٹک فری گلگت بلتستان کے پر فریب نعروں میں عملا گلگت بلتستان کو بیوٹی فیکشن کے نام پر پلا سٹک رنگ روغ،ن  سریا اور سیمنٹ سے بھرا جا رہا ہیں۔ یونی لیور اور نسلے جیسے تجارتی اداروں کے اشتہاری بیل بورڈز کو آویزاں کرکے گلگت بلتستان کے قدرتی حسن کو ملیامیٹ کیا جا رہا ہیں معدنی وسائل کو لوٹنے کے غرض سے مائینگ لیزوں کی بندر بانٹ کے ذریعے با آثر اور طاقت ور  اشرافیہ طبقے کو گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرا کے لوٹ مار کی کھلی  چھوٹ دیئے جا رہے ہیں  اور یہ سب کچھ سرکاری سر پرستی میں عمل میں لائے جارہے ہیں۔ 

وہی پر بنیادی ضرویات زندگی جیسا کہ پینے کا  صاف پانی صحت کے نظام اور بجلی کی عدم دسیتابی کے باؤجود فسر شاہی بیوٹیفکیشن کے نام پر کروڈوں کے فنڈز سے  گلگت بلتستان کے قدرتی ماحول کو سریا، سمنٹ، رنگ روغن اور دیگر ماحول دشمن اشیاء سے برے جا رہے ہیں۔ 

اگر ہم نے ابھی سے  ماحولیات دشمن سرگرمیوں کو نہیں روکا  تو  ممکنہ طور پر گلگت بلتستان کے گلیشئر پگھلنے سے پاکستان  اتھوپیا جیسے صورت حال سے دوچار ہو سکتا ہیں۔

پلا سٹک فری گلگت بلتستان کے پر فریب نعروں میں عملا گلگت بلتستان کو بیوٹی فیکشن کے نام پر پلا سٹک رنگ روغن،  سریا اور سیمنٹ سے بھرا جا رہا ہیں۔ یونی لیور اور نسلے جیسے تجارتی اداروں کے اشتہاری بیل بورڈز کو آویزاں کرکے گلگت بلتستان کے قدرتی حسن کو ملیامیٹ کیا جا رہا ہیں

جس کے لئے حکمرانوں کو اپنی سرمایہ دارانہ سہولت کاری کو ترک کرتے ہوئے ماحول دوست سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے خطے میں جاری کردہ مائینگ لیزوں کو منسخ کرکے گلگت بلتستان کو مائینگ فری زون قرار دینا ہوگا۔

 بے ہنگم سیاحت کو روکنا ہوگا انفراسٹکچرز کی تعمیرات کے لئے سخت اور ماحول دوست قوانین بنانا ہوگا ماحول دوست اور فطرت سے مطابقت رکھنے والی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنی  ہوگی فطرت کو بچانے کی سرگرمیوں میں مقامی لوگوں کی شرکت کو یقینی بناتے ہوئے  ان کے لئے روزی روزگار کے مواقع پیدا  کرنے ہوں گے تب کہیں جاکر موسمیاتی تبدیلی کو کچھ حد تک بہتر بنایا جاسکتا ہیں۔  

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں