134

ترقی معکوس


تحریر: کریم اللہ 

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں غالبا دسمبر 2021ء میں چترال بونی شندور روڈ پر کام کا آغاز ہوا۔ مگر یہ ادھورہ پروجیکٹ اس وجہ سے تھا کہ اس کام میں زمین  کے پیسے نہیں تھے جبکہ کام بھی غیر آباد بنجر زمینات میں شروع کر دی گئی تھی۔

اس کے بعد گزشتہ سال چترال سے آگے اسی سڑک کے پختہ حصے کو اکھاڑنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ تو اسی وقت سے ہم چیخ رہے تھے کہ ٹھیکیدار اس ترکول کو اکھاڑ کر غائب ہوں گے اور ہم پھر سے نوے کی دھائی میں چلے جائیں گے۔

پختہ سڑک کو اکھاڑ کر  کھنڈرات میں تبدیل

سال روان کے شروع سے خبریں آنے لگیں کہ وفاقی حکومت نے چترال بونی شندور روڈ کے لئے فنڈنگ روک لی ہے جس کی وجہ سے ٹھیکیدار نے اپنی مشینیریز اٹھانا شروع کیا ہے۔ پھر سے مخصوص سیاسی حلقے اس حوالے سے متحرک ہوگئے تو اس وقت پی ڈی ایم کی ساری قیادت نے فنڈ روکنے کے عمل کے تردید کی سابق ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن نے اعلان کیا کہ یکم مارچ سے اس منصوبے پر دوبارہ کام کا آغاز کر دیا جائے گا وفاقی وزیر مواصلات مولانا مولانا اسعد محمود کے خود چترال آنے کی خبریں بھی محو گردش رہی، جبکہ چار پانچ ارب روپے ریلیز ہونے کی خوش خبری بھی سنائے جانے لگیں۔

مگر آفسوس کہ چترال میں الیکشن کے دنوں میں کھمبیوں کی طرح اگلنے والے خود ساختہ نڈر، بے باک اور خدمت کے جذبے سے سرشار لیڈراں میں سے کسی کو بھی

پختہ سڑک کو اکھاڑ کر  کھنڈرات میں تبدیل

اس عمل کو  روکنے کی توفیق نہ ہوئی اور نہ ہی کسی نام نہاد سول سوسائیٹی نے اس حوالے سے آواز اٹھانے کی زحمت گوارہ کی اپر چترال ضلعی انتظامیہ کو کھیل کود سے فرصت ملتی تب عوامی فلاح کے کاموں کی جانب متوجہ ہو جاتے۔

دیکھتے ہی دیکھتے ٹھیکیدار نے ہماری آنکھوں کے سامنے پختہ سڑک کو اکھاڑ کر کھنڈرات میں تبدیل کر دیا۔

اب وہ کام مکمل طور پر بند ہو گیا ہے اور اگلے شاید بیس تیس سالوں میں ہم دوبارہ ترکول روڈ کی شکل نہیں دیکھیں گے۔ اسے کہتے ہیں ترقی معکوش یعنی تنزلی کا سفر ۔۔۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں