افغانستان: ثور انقلاب کی روشن صبح سے طالبان کی تاریک رات تک


زی۔کے

اپریل 1978ء کا ثور انقلاب افغانستان کی تاریخ کا ایسا روشن باب ہے جس نے نہ صرف افغان سماج اور ثقافت پر دیر پا اور دور رس اثرات مرتب کئے بلکہ اس کی بدولت دنیا بھر کے محنت کش اور مظلوم طبقات کا صبح انقلاب پر یقین مزید پختہ ہوا۔ چنانچہ قائد انقلاب کامریڈ نور محمد ترہ کئی دنیا بھر کے مظلوم اور محکوم عوام کو انقلاب کی نوید ان الفاظ میں دیتا ہے:

”ثور انقلاب صرف افغانستان کے مزدوروں اور سپاہیوں تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ پوری دنیا کے مزدوروں اور محکوم عوام کا انقلاب ہے۔ یہ انقلاب جسے خلق پارٹی کی قیادت میں سپاہیوں نے انجام دیا‘ پوری دنیا کے مزدوروں کے لئے ایک عظیم کامیابی ہے۔ 1917ء کے جس انقلاب نے پوری دُنیا کو جھنجھوڑ دیا تھا وہ ہمارے لئے ایک مشعل راہ ہے جس نے ایک مرتبہ پھر دُنیا کو جھنجوڑنا شروع کیا ہے۔“

1978ء کا ثور انقلاب افغانستان

انقلاب کے بعد برسر اقتدار آنے والی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان (PDPA)  کی انقلابی اصلاحات کی بدولت افغانستان پر مسلط صدیوں پرانے جاگیردارانہ، قبائلی اور شاہی سیاسی ڈھانچے کی بنیادیں ہلنے لگیں۔ 27 اپریل 1978ء کے افغان ثور انقلاب کے وسیع اثرات شرمناک سازشوں اور ہر قسم کے سامراجی و رجعتی رد انقلابی پروپیگنڈے اور خونریز اقدامات کے باوجود آج بھی ترقی پسند روایات، سوچ اور افکار کی آبیاری کر رہے ہیں۔ انقلاب کی بدولت افغانستان میں نہ صرف محنت کشوں، کسانوں، خانہ بدوشوں اور خواتین و نوجوانوں کی زندگیاں بدلنے لگی تھیں بلکہ فنکاروں، ادیبوں، شعرا اور مفکرین سمیت مجموعی طور پر فن، ادب، حسن سخن اور سوچ میں انقلابی تبدیلیاں مرتب ہونے لگیں۔ وسیع تر انقلابی ثمرات کا جائزہ لینے سے قبل یہ بے جا نہ ہو گا اگر ہم افغان سماج میں اس عظیم انقلابی تبدیلی کے تاریخی محرکات کا مختصر ذکر کریں۔

ویش زلمیان کی تحریک کا آغاز اور اثرات

1947ء میں ویش زلمیان کی تحریک کا آغاز ہوا جس کا مینی فیسٹو ”ہم باشعور نوجوان چاہتے ہیں“ کے عنوان سے پشتو کے ترقی پسند شاعر، مصنف اور مورخ عبدالرؤف بینوا نے لکھا۔ ویش زلمیان میں مختلف ترقی پسند مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے دانشور، شعرا اور سیاسی افراد شامل تھے۔ یہ تمام افراد افغان سماج میں پائے جانے والے تضادات، شاہی نظام کے بھونڈے پن اور استبدادی صورت حال کے طول سے نالاں اور شاہی خاندان و اشرافیہ کے استحصالی ڈھانچے کی مکمل تبدیلی کے خواہاں تھے۔ ان میں سے بعض خارجی ممالک خصوصاً ترکی اور سوویت یونین وغیرہ کے تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل تھے اور افغانستان کی سیاسی، سماجی، ثقافتی و معاشرتی زندگی پر نادر شاہی ملوکیت کے متکبرانہ جبر سے نجات کی تلاش میں تھے۔

ویش زلمیان کی تحریک کا آغاز

 ایسے میں 1965ء میں پی ڈی پے  اے کا قیام ہوا اور پھر 1967ء میں اس کی سپلٹ کے نتیجے میں خلق اور پرچم کے دو دھڑے بنے۔ نیز 1978ء میں ثور انقلاب کے برپا ہونے تک سیاسی اور طبقاتی جدوجہد اور سماجی بیداری کے مختلف مارکسی گروہوں کی تحریکوں کے دوران افغانستان میں پشتو اور فارسی زبانوں میں ترقی پسند ادب اور شاعری کے فروغ کا رحجان اور ماحول بنا رہا۔ اس دوران مختلف جرائد مثلاً انگار، شعلہ جاوید، ندائے خلق اور پرچم وغیرہ کا ترقی پسند ادب سامنے آیا جس نے ایک بڑی تبدیلی کے لئے راہ ہموار کی۔

 ویش زلمیان کے قیام سے پی ڈی پے  اے کی تشکیل تک ویش زلمیان میں پائے جانے والے مختلف گروہ اپنے اپنے انداز اور سوچ کے ساتھ آگے بڑھتے گئے۔ مثلاً کچھ نے نیشنلسٹ پوزیشن لی تو کچھ پارلیمانی سیاست سے دور رہے جبکہ کچھ نے ماؤسٹ لائنز اختیار کیں تو کچھ کنارہ کش ہو گئے۔ تاہم فیصلہ کن مرحلے تک پی ڈی پی  اے ہی ڈٹی رہی۔

انقلاب ثور کے ادبی، سماجی و ثقافتی اثرات

27 اپریل 1978ء کو برپا ہونے والے انقلاب ثور کے پس منظر میں انقلابی فکر، سرگرمیوں، جدوجہد اور ترقی پسند تحریکوں کا ایک جدلیاتی سلسلہ متحرک تھا۔ 1965ء میں مارکسی پارٹی پی ڈی پی  اے کے قیام سے پہلے 1940ء کے عشرہ کے اواخر میں افغان لیفٹ اور دیگر ترقی پسند عناصر پر مشتمل تحریک ویش زلمیان (بیدار نوجوان) کی صورت میں موجود تھی جس نے بعد میں ایک باقاعدہ پارٹی کی شکل لے لی۔ چنانچہ افغان سماج کی فکر، ادب، موسیقی، آرٹ اور کلچر کے دیگر عناصر میں انقلاب ثور کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا اور ترقی پسند سرگرمیوں میں اپنا اظہار کر رہا تھا۔ لہٰذا جو عناصر انقلاب ثور کے لئے فوجی کُو کی گمراہ کن اصطلاح استعمال کرتے ہیں انہیں اپنی اس بدظنی کا ازالہ تاریخ کے اوراق پلٹ کر کرنا چاہئے۔

ویش زلمیان کی تحریک کا آغاز

کیونکہ انقلاب ثور کے محرکات تو ویش زلمیان سے بھی پہلے غازی امان اللہ خان کے

دربار کے ترقی پسند حلقوں میں موجود تھے۔ مثلاً 1911ء کی افغانانِ جوان جس کی سربراہی ملکہ ثریا کے والد محمود طرزی کر رہے تھے جو شاہ امان اللہ خان کے وزیر خارجہ تھے اور امان اللہ خان کی ترقی پسند اصلاحات کی اصل محرک بھی افغانانِ جوان ہی تھی۔

 ویش زلمیان کے ترقی پسند دانشور دراصل ان ہی تعلیمی اداروں سے پڑھ کر آئے تھے جن کا قیام بادشاہ کی ترقی پسند اصلاحات کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا۔

(جاری ہے)

اپنا تبصرہ بھیجیں