صفی اللہ بیگ 88

کراچی معاہدہ! گلگت بلتستان  پر مسلط نوآبادیاتی نظام کا تاریک دور


تحریر: صفی اللہ بیگ


پاکستان نے 74 سال پہلے 28 اپریل 1949 کو ایک خفیہ معاہدے کے ذریعے 4 ہزار مربع کلومیٹر رقبے پر مشتمل کشمیر کو آزاد جموں و کشمیر کے نام سے اپنا ایک ذیلی ریاست قرار دیا تھا اور اسی معاہدے کے ذریعے اس ذیلی ریاست کے خدوخال ترتیب دیا گیا۔

گلگت بلتستان  پر مسلط نوآبادیاتی نظام کا تاریک دور

جبکہ 73 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد رقبے پر محیط گلگت بلتستان، جسے گلگت اسکاوٹس نے 1948 میں ڈوگرہ فوج اور مہاراجہ ہری سنگھ کے اقتدار سے خالی کرایا تھا، اس معاہدے کے ایک ذیلی شق کے ذریعے براہ راست اپنے انتظامی کنٹرول میں لانے کا فیصلہ کیا تھا۔ گلگت بلتستان کا ذکر اس معاہدے میں کرکے دراصل ریاست پاکستان نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ گلگت بلتستان کشمیر کا حصہ ہے لہذا اسے کشمیریوں کی رضامندی سے اپنے کنڑول میں لا رہی ہے۔ حالانکہ پاکستان اس معاہدے میں گلگت بلتستان سے بھی کسی مقامی حکمران  کو شامل کرسکتی تھی مگر ان کو اس میں شامل کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اس معاہدے کو خفیہ رکھا۔

 شاید اس کی وجہ اس معا ہدے سے پہلے  گلگت بلتستان کے مقامی راجاؤں  اور میروں کی جانب سے پاکستان میں ضم ہونے  کی درخواستیں ہوں یا   اس خطے  کی تزویراتی اہمیت کے پیش نظر پاکستان کا  گلگت بلتستان کو اپنے زیر انتظام  رکھنے کا فیصلہ ہو۔

28 اپریل 1949 کا خفیہ معاہدہ گلگت بلتستان کے ساتھ ایک طرح سے دھوکہ ہے  جس کی وجہ سے نہ صرف گلگت بلتستان کو اپنا  آئینی  حصہ بنانے سے ہمیشہ کے لئے محروم  کیا بلکہ یہاں کے عوام کو  74 سالوں  سے تما م بنیادی  انسانی حقوق  سے محروم رکھ کے اپنے گرفت میں رکھا ہے۔

مزید براں اس فیصلے کے پیچھے برطانیہ کی اس خطے میں مفادات کے تحفظ کے لئے اس وقت گلگت بلتستان اور پاکستان میں موجود انگریز افیسرز یعنی متحدہ ہندوستان کے کمانڈر انچیف فیلڈ مارشل سر کلواڈ اچینلک، پاکستان کے پہلے کمانڈر انچیف جنرل فرینک میسرویNWFP ,  کے پہلے گورنر سر جارج کنگھم, دوسرے گورنر سر امبروز ڈونڈس اور میجر براون کی آرا ء بھی گلگت بلتستان کو پاکستان کے زیر کنٹرول رکھنے میں شامل ہوسکتی ہے۔

کراچی معاہدہ

 یاد رہے کہ میجر براؤن کے ایما ءپر گلگت اسکاوٹس نے ڈوگرہ حکمراں کے خلاف بغاوت کیا اور مہاراجہ کے  گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کر کے آزادی کا اعلان کیا جو محض 16 دن برقرار رہا۔ اس قیاس آرائی کی وجہ پاکستان کی گلگت بلتستان  کو ان  کی درخواستوں کے باؤجود مکمل ضم نہ کرنا ہے۔

 چنانچہ 28 اپریل 1949 کا خفیہ معاہدہ گلگت بلتستان کے ساتھ ایک طرح سے دھوکہ ہے  جس کی وجہ سے نہ صرف گلگت بلتستان کو اپنا  آئینی  حصہ بنانے سے ہمیشہ کے لئے محروم  کیا بلکہ یہاں کے عوام کو  74 سالوں  سے تما م بنیادی  انسانی حقوق  سے محروم رکھ کے اپنے گرفت میں رکھا ہے۔

ان معلومات کی بنیاد پر یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ گلگت بلتستان کو بغیر آیئنی  تحفط کے کنٹرول میں رکھنا دراصل نو آبادیاتی مفادات کے تحفظ کے لئے گلگت بلتستان کےساتھ دھوکہ دہی کا معاہدہ ہے جو آج تک قائم ہے۔

گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تباہی، عوام کی بنیادی حقوق سے محرومی، بے اختیار اسمبلی، بے  پناہ اختیارات رکھنے اور غیر جوابدہ  افسر شاہی کی راج، بنیادی سماجی سہولتوں کے نظام کی تباہی،  اور سماجی خدمات یعنی تعلیم، صحت، میونسپل سروسز، پانی، بجلی، سیاحت اور قدرتی وسائل کی نجکاری اور ماحول و عوام دشمن قوانین جن میں ریونیو ایکٹ اور لینڈ ریفارمز بل کے ذریعے بڑے اجارہ دار اور بین الاقوامی سرمائے کے ذریعے خطے کے تمام وسائل پر قبضہ جاری ہیں۔

گلگت بلتستان میں ماحولیاتی تباہی، عوام کی بنیادی حقوق سے محرومی، بے اختیار اسمبلی، بے  پناہ اختیارات رکھنے اور غیر جوابدہ  افسر شاہی کی راج، بنیادی سماجی سہولتوں کے نظام کی تباہی،  اور سماجی خدمات یعنی تعلیم، صحت، میونسپل سروسز، پانی، بجلی، سیاحت اور قدرتی وسائل کی نجکاری اور ماحول و عوام دشمن قوانین جن میں ریونیو ایکٹ اور لینڈ ریفارمز بل کے ذریعے بڑے اجارہ دار اور بین الاقوامی سرمائے کے ذریعے خطے کے تمام وسائل پر قبضہ جاری ہیں۔

ایسے حالات میں گلگت بلتستان کے عوام کے پاس دو ہی راستے ہیں پہلا اس 74 سالہ انتظامی کنٹرول کو قبول کرکے ان کے خوفناک نتائج سہنے اور اس خطے سے مکمل بے دخل ہونے کی تیاری کریں دوسرا اس دھوکے پر مبنی معاہدے کو یکسر مسترد کریں اور پاکستان سے مطالبہ کریں کہ 28 اپریل کے معاہدے کو منسوخ کرکے اقوام متحدہ کے قرار داروں کی روشنی میں فوری طور پر گلگت بلتستان میں ایک "خود مختار لوکل اتھارٹی”  اور ایک آئین ساز اسمبلی آزاد عدلیہ اور گلگت بلتستان کو بدلتے ہوئے ماحول و موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے لیے "ماحولیاتی امن زون” قائم کریں۔

اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے حکمران اشرافیہ کے پارٹیوں میں موجود گلگت بلتستان کے افراد فوری طور پر ان پارٹیوں سے مستعفی ہو  جایئں اور "خودمختار لوکل اتھارٹی” کے قیام کے لئے عوامی محاذ بنا کر جدوجہد کریں۔

مصنف کے بارے میں:

صفی اللہ بیگ ایک سیاسی و سماجی کارکن اور ماحولیات و تقافت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ بام جہاں کے لئے ریگولر بنیادوں پر کالم لکھتے اور تجزے کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں