50

یکم مئی، عالمی یوم محنت کشاں


تحریر: حیدر جاوید سید


آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں شکاگو کے ان محنت کشوں کی یاد میں عالمی یوم مزدور بنایا جا رہا ہے جنہوں نے سرمایہ دارانہ استحصال و جبر کے خلاف بے مثال جدوجہد کے ذریعے یونین سازی اور آزادی اظہار کا حق حاصل کیا۔

یوم مئی کی مناسبت سے ملک بھر میں منعقدہ تقاریب، جلوسوں ، سیمیناروں اور جلسوں میں اس امر پر ٹھنڈے دل سے غور کیا جانا ازبس ضروری ہے کہ کیا پاکستان کے محنت کش طبقات کو عالمی معیار کے مطابق حقوق حاصل ہیں؟

افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑ رہا ہے کہ سندھ حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں جو کم سے کم ماہانہ اجرت مقرر کی تھی اس کے خلاف سرمایہ داروں کو ملک کی سب بڑی عدالت سے ملا حکم امتناعی آج تک برقرار ہے۔

ہماری رائے میں نظام حکومت کے تمام معاون اداروں کے ساتھ ہماری عدالتوں کو بھی محنت کشوں اور معاشرے کے کچلے ہوئے طبقات کے حقوق کے تحفظ و فراہمی کے لئے اپنا کردار موثر طریقہ سے ادا کرنا چاہئے۔

پاکستان کے متعدد سرکاری و نجی اداروں میں محنت کشوں کی تنظیم سازی پر پابندیوں کے لئے مختلف قوانین نافذ ہیں ان پابندیوں کا فوری خاتمہ ہونا چاہئے۔ محنت کشوں کو یونین سازی کا حق ملنا چاہیے۔

وفاقی اور صوبائی بجٹوں میں محنت کش طبقات کے معیار زندگی کو بہتر بنانے، تعلیم و صحت کے فنڈز کو دیگر شعبوں کے فنڈز پر ترجیح دی جانی چاہئے۔

اسی طرح تعلیمی اداروں میں بھی طلبا انجمنوں کے قیام پر جو پابندی ہے اسے بھی کسی تاخیر کے بغیر ختم کیا جائے۔

اس امر پر دو آراء نہیں کہ پاکستان کی مزدور تحریک اور طلباء انجمنوں نے ملکی سیاست کو بڑے بڑے رہنما دیئے جب سے یہ دونوں شعبے مصلحتوں کی بھینٹ چڑھائے گئے سیاسی عمل میں نظریاتی لوگوں کی آمد کا سلسلہ بند ہوگیا اس کی جگہ "ایک کا چار”  بنانے والوں کی بھرمار ہوگئی اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ محنت کشوں اور کچلے ہوئے طبقات کے ساتھ نئی نسل کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنا کردار موثر طریقے سے ادا کریں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں