کتب بینی سے بھی ذہنی صحت اچھی رہتی ہے


تحریر: اسرار الدین اسرار


کتب بینی کا رواج جو پہلے ہی ہمارے یہاں کم تھا اب آہستہ آہستہ دم توڑ رہا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں میں کتب بینی کی اہمیت اب بھی برقرار ہے۔ تاہم اب پرنٹیڈ کے ساتھ ساتھ ای بکس کا رجحان ان ممالک میں عام ہو رہا ہے۔

 کتب بینی سے نہ صرف شخصیت میں نکھار آجاتی ہے بلکہ ماہرین کے مطابق اس سے ذہنی صحت پر مثبت اور خوش گوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ذہنی صحت بہتر ہوجائے تو اس کے نتیجے میں جسمانی صحت بھی بہتر ہو جاتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق کتب بینی کے ذہنی اور جسمانی صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں جس کے نتیجے میں انسان کئی بیمارویوں سے محفوظ رہتا اور عمر بھی لمبی ہونے میں مدد ملتی ہے۔

کتب بینی کے شوقین افراد محفل کی رونق ہوتے ہیں۔ ان کے پاس معلومات کا خزانہ ہوتا ہے جس کی مدد سے وہ محفل کو مسلسل متوجہ رکھتے ہیں۔ بزرگ اور تنہائی پسند افراد اگر کتب بینی کی عادت کو اپنا لیں تو وہ کھبی بھی بوریت کا شکار نہیں ہوجائیں گے۔ جبکہ ہر عمر کے افراد کتب بینی سے اپنا ذہنی دباؤ کم کرسکتے ہیں۔

 کتب بینی جن معاشروں میں ہوتی ہے وہ معاشرے مہذب، پر امن اور انسان دوست ہوتے ہیں۔ کتب بینی انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی جلاء بخشتی ہے جس کی وجہ سے کتب بینی کے شوقین لوگ معاشرے کی ترقی میں اہم کرادار ادا کر سکتے ہیں۔

 کتب بینی جن معاشروں میں ہوتی ہے وہ معاشرے مہذب، پر امن اور انسان دوست ہوتے ہیں۔ کتب بینی انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی جلاء بخشتی ہے جس کی وجہ سے کتب بینی کے شوقین لوگ معاشرے کی ترقی میں اہم کرادار ادا کر سکتے ہیں۔

جس گھر میں ایک فرد کتب بینی کا دلدادہ ہو تو باقی افراد پر بھی اس کے مثبت اثرات پڑتے ہیں۔ میری شریک حیات نہ صرف لائبریری سے میرے لئے کتابیں لاتی ہیں بلکہ وہ خود بھی کتب بینی کا شوق رکھتی ہیں۔ میرے بچے اپنے چیب خرچ سے مجھے اب کتاب خرہد کر تحفے میں دیتے ہیں۔

 گویا جس گھر کا سربراہ کتب بینی کا شوقین ہو وہاں ہر فرد کتابوں سے محبت کرتا اور بچوں میں بھی یہ عادت وقت کے ساتھ منتقل ہو جاتی ہے۔ ہم نے اپنے والد کو دیکھ کر یہ عادت اپنا لی ہے ، یقنا والد صاحب نے دادا کو دیکھ کر یہ عادت اپنا لی تھی۔

 والد صاحب کی عمر تقریبا سو سال ہے لیکن ان کی کتب بینی کا شوق کم نہیں ہوا ہے۔ دادا سے شروع ہوکر کتب بینی کا یہ عمل اب میرے بچے یعنی چوتھی نسل میں باضابطہ منتقل ہو چکی ہے۔ کتب بینی کے لئے کسی سرمایہ یا کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ کسی فرد میں اگر علم کی پیاس ہو تو وہ خوبخود کتاب کی طرف کھینچ کر چلا جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین خود میں اور اپنے بچوں میں کتب بینی کی عادتیں ڈالیں۔ یاد رہے کہ بچے کہنے سے زیادہ دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ جن والدین کی خواہش ہے کہ ان کے بچے کتب بینی کی طرف مائل ہوجائیں ان کو چاہئے کہ وہ پہلے خود کتب بینی کی عادت اپنا لیں ۔ گلگت بلتستان میں کتب بینی کے رجحان کو فروغ دینے کے لئے حکومتی سطح پر بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔  ذہنی صحت کے لئے پروگرامز میں کتب بینی کو بھی شامل کرنا چاہئے۔

سکریٹری انفارمیشن گلگت بلتستان محترم ضمیر عباس کافی عرصے سے گلگت میں بک ریویو سیشنز کا انعقاد کرتے رہے ہیں جو کہ خوش آئیند ہے۔ عزیز علی داد، ذوالفقار آباد میں چیپٹر ون  کی منتظمین دو معزیز خواتین سمیت کئی افراد نوجوان نسل میں کتب بینی کو فروغ دینے کی بھر پور کوشش میں ہیں جو کہ لائق تحسین ہیں۔ امید ہے آنے والی نسل اس رجحان کو فروغ دے گی۔ 

 ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین خود میں اور اپنے بچوں میں کتب بینی کی عادتیں ڈالیں۔ یاد رہے کہ بچے کہنے سے زیادہ دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ جن والدین کی خواہش ہے کہ ان کے بچے کتب بینی کی طرف مائل ہوجائیں ان کو چاہئے کہ وہ پہلے خود کتب بینی کی عادت اپنا لیں ۔ گلگت بلتستان میں کتب بینی کے رجحان کو فروغ دینے کے لئے حکومتی سطح پر بھی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔  ذہنی صحت کے لئے پروگرامز میں کتب بینی کو بھی شامل کرنا چاہئے۔

گذشتہ دنوں مہناز فاطمہ فاونڈیشن سکول کی لائبریری کے سامنے سے گزرتے ہوئے میں فوری طور پر اندر داخل ہوا اور حسب عادت کتابیں ٹٹولنے لگا۔ میں جب کتاب میں کھو جاتا ہوں تو این و آن سے بے نیاز ہوجاتا ہوں۔ ایسے لمحات کو میری شریک حیات بلا تاخیر فوری طور پر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتی ہیں۔ اس لائبریری میں کتاب بینی کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر لی ہے۔

مصنف کے بارے میں :

اسرار الدین اسرار انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان گلگت بلتستان کے کا نمائندہ ہے۔ اسرار بام جہان کے ریگولر لکھاری ہے ان کی دلچسپی کے موضات سماجی مسائل، گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کے مسائل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں