صفی اللہ بیگ 82

سرینا ہوٹل کے ماحولیات پر اثرات


تحریر: صفی اللہ بیگ


ساتھیو اور دوستو۔ میں سلطان عباس صاحب ساکن کریم آباد کا دلچسپ پیغام آپ حضرات کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں جو انہوں نے ارم شائستہ میرباز کے سیرینا ہوٹل کی بننے والی عمارت پر میری تنقیدی کمنٹ کے جواب میں لکھا ہے میرے اس عمارت اور اس کے مستقبل کے سرگرمیوں کے حساب سے یہ کہنا تھا کہ لاکھوں ٹن سیمنٹ اور سریا سے بننے والی یہ عمارت منافع کے لئے روزانہ اسی ہزار سے لے کر نوے ہزار (80،000 سے 90،000 ) لیٹر صاف پانی استعمال کرکے اسے سیویج میں تبدیل کرے گا، اسی طرح یہ ہوٹل روزانہ دو ہزار پانچ سوکلوگرام کچرا پیدا کرتا رہے گا اور اس کے کمروں میں نصب ائرکنڈشنز کو چلانے کے لئے 2 میگاواٹ کے ڈیزل جنریٹر دن میں کم ازکم دس گھنٹے چلائیں گے جس سے کاربن کا اخراج ہوگا۔

یہ سارے ماحول دشمن کام سرینا مفت میں کرےگا اور اس کے بدلے وہ صرف 50 چھوٹے ملازمتیں مقامی لوگوں کے لئے پیدا کرے گا۔ اس کے جواب میں ان کے چند جملے ملاحظہ کریں

” صفی اللہ بیگ، آپ کے غلط معلومات اور قیاس آرائی کے برخلاف اےکےڈی این کےتمام منافع کمانے والے کاروبار دو ہزار تیس تک کاربن نیوٹرل ہو جائیں گے۔کیونکہ یہ ادارے درخت لگا رہے ہیں اس کا مطلب اس ہوٹل کے اپریشنز سے ہونے والی کاربن کے اخراج کو دنیا میں کہیں اور کم کیا جاسکےگا۔

آپ اندازہ کریں کہ ہنزہ کے ماحولیاتی تباہی کو لوگ کس طرح اپنے عقیدے کے عینک سے دیکھ کر اسے پاک صاف بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں مثلا یہ عقیدے کے جھنڈے تلے پیش کرنے والے ‘کاروبار دو ہزار تیس میں جا کر کاربن نیوٹرل ہوں گے’ کیا واقعی دو ہزار تیس میں یہ ہدف حاصل کریں گے یہ وقت بتا دے گا مگر تب تک سلطان عباس صاحب کا یہ مثالی ہوٹل دھواں نکالنے میں اس لئے آزاد ہوگا کہ یہ کاروبار عقیدے کے حساب سے پاک کاروبار ہے پھر انہوں نے مجھے اور میرے حقائق کوبغیر شواہد اور دلائل کے رد کرنے کے بعد پانی، زمین، سیوریج اور کچرے کے نقصانات کا ذکرکرنا  بھی گوارا نہیں کیا۔

 میری گذارش ہے کہ ہوٹل، کاروبار یا منافع کا دین دھرم یا عقیدہ نہیں ہوتا ہے بلکہ ان کو پرکھنے کے لئے ان کے مقامی عوام، ماحول، قدرتی وسائل پر اثرات اور ان کے ممکنہ فوائد کو لے کر دلائل کے ساتھ غیر جانبدارانہ گفتگو اور بحث ہونی ضروری ہے تاکہ اس خطے کو ماحولیاتی تباہی سے بچایا جاسکے۔

مصنف کے بارے میں:

صفی اللہ بیگ ایک سیاسی و سماجی کارکن اور ماحولیات و تقافت پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ بام جہاں کے لئے ریگولر بنیادوں پر کالم لکھتے اور تجزے کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں