144

گلگت بلتستان کے عوام کو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کرنے کی کوشش


اسلام آباد سرکار نے گلگت بلتستان کے گندم کوٹہ میں مذید 15% کمی کرکے عوام سے دو وقت کی روٹی چھین لی ہے، نجف علی

بام جہان


عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان کے رہنماء نجف علی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اور یہاں کے تمام فیصلے وزارت امور کشمیر اور جٹیال میں ہوتے ہیں۔ یہاں کے تمام قدرتی وسائل پر پاکستان کے مختلف ادارے قابض ہے۔ قابل کاشت اراضی کا پچاس فیصد عوام سے چھین کر کاروباری مراکز اور رہائشی عمارات تعمیر کئے گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سوست بارڈر پر این ایل سی کا قبضہ، جنگلات پر ایف سی کا، مراعات پر رینجرز ، ٹھیکہ ایف ڈبلیو او اور این ایل سی، مواصلات پر ایس سی او قابض ہیں۔  ہسپتالوں میں غیر مقامی نا تجربہ کار  ڈاکٹرز سات لاکھ سے زیادہ تنخواہوں پر اور ملازمتوں پر اسلام آباد سے آئے ہوئے بیوروکریٹس قابض ہیں۔

سابق امیدوار گلگت بلتستان اسمبلی نے کہا کہ یہاں کے باسی پہلے تعلیم، صحت، بجلی، گیس، اور تمام اشیاء پاکستان سے دگنی قیمت پر خرید رہے ہیں۔ ستم بالائے ستم اس سال پانی بھی خریدنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہاں زیادہ تر اسکولوں میں اساتذہ اور عمارت نہیں، ہسپتالوں میں ڈاکٹر  اور دوائی نہیں۔

ضلعی ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں میں ماہر ڈاکٹر، گایناکالوجسٹ اور مشینری نہیں۔ آر ایچ کیو ہسپتال میں ای این ٹی ڈاکٹر اور ایم آر آئی مشین تک نہیں ہے۔

گلگت بلتستان واحد خطہ ہے جہاں آج بھی کوئی میڈیکل کالج یا انجینرنگ کالج سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

ریاست پاکستان پہلے گلگت بلتستان کو چینی، مٹی کا تیل،  گرم کپڑے، گندم، پی آئی اے کے ٹکٹوں پر رعایت دی جاتی تھی اب سوائے گندم کے تمام ضروری اشیاء پر سبسڈی ختم کیا گیا ہے اور باقی ماندہ رعایت کو بتدریج ختم کرنے کی سازش کیا جا رہا ہے۔

پندرہ سال پہلے گلگت بلتستان کا گندم کوٹہ بیس لاکھ بوری تھا۔ پھر اس کو سولہ لاکھ بوری پر لایا گیا۔ عمران خان نے گندم کی بوریوں کی بجائے آٹھ ارب روپے مختص کی جس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں قحط سالی ہونے لگی۔

کیونکہ گلگت بلتستان کی ابادی میں اضافہ اور گندم کوٹہ میں کمی کیا جا رہا ہے۔

پچھلے سال صوبائی حکومت نے ترقیاتی بجٹ سے دو ارب روپے کا گندم خریدا گیا جس کی وجہ سے بڑی مشکل سے عوام کو دو وقت کی روٹی ملی۔ اس بار شہباز شریف نے گندم کی قیمتوں میں اضافے کی شرط پر دو ارب روپے دیا تھا جس سے شاید اپریل اور مئی کا گندم خریدنے کا سبیل ہوا اور صوبائی حکومت نے بھی اٹھ روپے کلو گندم میں اضافہ بھی کیا گیا ہے جس کو عوام نے بادل نخواستہ قبول بھی کیا۔

گلگت بلتستان کو  رعایت پر دیا جانے والا آٹا یہاں کے سکیورٹی فورسز ، کاروبار کے سلسلے میں بسنے والے ہزاروں پاکستانی شہری ، اسلام آباد سے انے والے سرکاری ملازمین اور سیاحوں کو بھی دیا جاتا ہے۔

کچھ ماہ قبل گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا تھا کہ اگر وزیر خوراک شمس لون کو وزارت سے فارغ کریں تو وہ گلگت بلتستان کا بیس لاکھ گندم کوٹہ بحال کرائیں گے شمس لون کو وزارت خوراک سے فارغ کرنے کے باوجود امجد ایڈوکیٹ اور پی ڈی ایم اپنا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے۔

پاکستان میں پی آئی اے ، سٹیل ملز ، شوگر ملز ، میٹرو بس ، اورنج بس ، گرین بس ، ریلوے، سمیت مختلف اداروں کو چار سو ارب تا ایک ہزار ارب روپے سبسڈی دیا جا رہا ہے۔

صرف اس رمضان میں صوبہ پنجاب کے عوام کو چھپن ارب روپے کا مفت آٹا تقسیم کیا گیا مگر متنازعہ خطہ گلگت بلتستان کو بارہ ارب روپے سبسڈی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔

ادھر نام نہاد صوبائی حکومت کے چیف سیکریٹری سے لیکر اسسٹنٹ کمشنر تک اور وزیر اعلیٰ،  سپیکر سے لیکر ٹیکنوکریٹ ممبران اسمبلی کے پاس پانچ تا تین فارچونر گاڑیاں روزانہ کروڑوں روپے ڈیزل اور پیٹرول پانی کی طرح بہا رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ ہے ایک سیکریٹری ایک گاڑی اور ایک وزیر ایک گاڑی کا قانون نافذ کرکے تمام غیر ضروری گاڑیوں کو نیلام کیا جائے اور ان پیسوں کو تعلیم صحت، بجلی صاف پانی اور انسانی بنیادی سہولیات پر خرچ کیا جائے

اسلام آباد سرکار گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل، زمین، جنگلات،  معدنیات، سوست بارڈر ٹریڈ ، سیاحت اور پہاڑوں کی رائلٹی کے مد میں ملنے والے آمدنی ، ایس سی او کی آمدنی، دیگر محصولات، سیلز ٹیکس، دریا  ڈیم اور  دیگر  وسائل مقامی لوگوں کےحوالے کریں اور تمام غیر مقامی وزراء، بیوروکریسی، رینجرز ، ایف سی ،  این ایل سی، ایف ڈبلیو او، ایس سی او ،اور گندم سبسڈی واپس لے بصورت دیگر گلگت بلتستان کا بیس لاکھ گندم بوری بحال کرکے گلگت بلتس گلگت بلتستان کے عوام کو گندم کے نام پر بلیک میل کرنا چھوڑ دیں.

کیٹاگری میں : خبر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں