گلگت بلتستان کے صحافی حامد نگری چوبیس گھنٹوں سے لاپتہ


رپورٹ: کریم اللہ


گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی حامد نگری گزشتہ کل سے لاپتہ ہے اور تاحال اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

گزشتہ کل انہوں نے اپنے فیس بک پیج میں ایک پوسٹ اپلوڈ کرتے ہوئے خود کشی کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ اس پوسٹ میں آپ نے لکھا ہے  کہ ” عارضی دنیا خدا حافظ

دوستو میں آپ سے معافی چاہتے ہوئے اس عارضی دنیا سے عالم بقا کی جانب رخصت ہو رہا ہوں۔ میری موت کا واحد ذمہ دار ذاکر جرنلسٹ نامی شخص ہے جس کو میں نے خبر لکھنا سیکھایا اور وہی میری زندگی کا دشمن بن گیا وہ بھی محض پیسوں کے لئے۔

مجھے بلیک میل کرکے اور قتل کی دھمکیاں دے کر لاکھوں روپے بٹور لئے۔ دفتر میں گھر میں اور بازار میں مسلسل میرا پیچھا کرتے اور دھمکاتے ہوئے میری زندگی اجیرن بنا دی مجھے لوگوں کا مقروض بنا دیا۔ مجھ سے گن پوائنٹ پر ایک چیک بھی وصول کیا ہے تاہم بلیک میلنگ کا سلسلہ جار رہے جس کی اطلاع میں نے ولی ایس ایچ او سٹی اور ایس ڈی پی او کو دے دی ہے۔ اس ساری صورت حال سے تنگ آکر میں نے خود کشی کو غنیمت جانا ہے۔ میری صحافی دوستوں، عسکری اداروں اور پولیس حکام اور ارباب احتیار سے التجا ہے کہ  ایسے بلیک میلر کو نشان عبرت بنائیں اور میری رقم وصول کرکے متاثرین کو واپس کیا جائے۔ میں دریا میں چھلانگ لگا کر خدا حافظ کہہ رہا ہوں اور میں اپنے منسٹر صاحب کی مجھ پر شفقت اور نوازشات پر سلام پیش کرتا ہوں اور اپنے دفتری ساتھیوں کے تعاون کا شکر گزار ہوں۔ آخر میں اپنی معصوم بچیوں اور اہل خانہ سے اس اقدام پر معافی مانگتا ہوں ہو سکے تو مجھے معاف کر دیں۔ "

اس کے بعد ان کے فیس بک پیج پر ایک اور پوسٹ شئیر ہوئی جو کل سے سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں اتنا ہی لکھا ہوا ہے "یونیورسٹی پل خدا حافظ”

اسی پوسٹ کے بعد حامد نگری لاپتہ ہے نہ ان سے ٹیلی فون پر رابطہ ہو رہا ہے اور نہ کہیں ان کا سراغ مل پا رہا ہے۔

اتنے ہائی پروفائل کیس میں فرانزک اور جدید سائنسی طریقہ کار سے تفتیش نہ ہونا قانون نافذ کرنے والے اداروں بالخصوص پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

حامد نگری کے لاپتہ ہونے کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ہر جانب مذمتی بیانات اور حامد نگری کو انتہائی قدم نہ اٹھانے نیز ان کے سارے مسائل کو مل بیٹھ کر حل کرنے کے وعدے کئے جا رہے ہیں مگر تاحال اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

اس سلسلے میں ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان گلگت بلتستان کے کوارڈینیٹر اسرار الدین اسرار نے نہ صرف سوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے حامد نگری کو ان کے سارے مسائل حل کروانے میں مدد کی یقین دہانی کرائی ہے بلکہ ان کا کہنا تھا کہ ہم بار بار کوشش کر رہے ہیں کہ ان سے رابطہ ہو جائے مگر ان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے انہوں نے خود کشی کی ہے یا پھر کہیں روپوش ہے اس سلسلے میں بھی کوئی معلومات نہیں مل رہی ہے۔

حامد نگری کی یوں لاپتہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف ان کے اہل و عیال شدید کرب سے گزر رہے ہوں گے بلکہ ان کی تحریریں اور پھر لاپتہ ہونے کی خبر نے ہر ایک ذی عقل کو ہلا کر دکھ دیا۔ صارفین سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس میں اس کیس کی ہائی پروفائل  تحقیقاتی کمیشن بنانے اور اس میں ملوث فرد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں