حامد نگری جامد نہیں ہوسکتا۔۔۔


حامد نگری یقیناً ایک اچھے، سچے اور نیک انسان ہیں تبھی تو ان کی گمشدگی کی خبر جنگل میں آگ لگنے کی مانند گردش میں ہے۔ صحافیوں اور ان کے عزیز و اقارب کے علاوہ  صارفین کی ایک بڑی تعداد اس صورت حال پر فکرمند نظر آتے ہیں۔ صارفین کی جانب سے حامد کے فیس بک پوسٹ کا جائزہ لے کر تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ 

تحریر: صفدر علی صفدر


سنیئر صحافی حامد نگری سے بہت پرانا اور اچھا تعلق رہا ہے۔ وہ ایک مخلص، وفادار اور انسان دوست شخصیت کے مالک ہیں۔ چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ دھیمی آواز میں میٹھی میٹھی باتوں سے انجان لوگوں سے بھی منٹوں میں دوستی کر لیتے ہیں۔ پھر اس دوستی پر سر کٹانے میں بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔

وہ ایک سلف میڈ آدمی تھے۔ صحافت کے علاوہ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ روزگار کے لئے کاروباری معاملات چلا کر گزر بسر کر لیتے تھے۔

حامد بھائی کا شمار میرے ان چند صحافی دوستوں میں ہوتا ہے جنہوں نے میرے دکھ اور تکالیف میں ہمیشہ یاد رکھا، ہمت دی، حوصلہ دیا، ہر قسم کے حالات پر صبر و شکر اور استقامت سے کام لینے کی تلقین کی۔

 گزشتہ روز ان کی فیس بک پوسٹ دیکھ کر میرے تو اوسان خطا ہوگئے۔ یقین بالکل نہیں آیا کہ دوستوں کو مشکل حالات کا دلیری سے مقابلہ کرنے کی تلقین کرنے والا انتہائی مضبوط اعصاب کے مالک حامد یہ قدم کیسے اٹھا سکتا ہے۔ سوچا اس کی آئی ڈی ہیک ہوئی ہوگی یا مذاق میں کوئی پوسٹ کیا ہوگا۔  فوراً فون ملایا، ایک نمبر  بند جانے پر دوسرا ڈائل کیا، وہ بھی بند جانے پر وٹس ایپ پر رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ ہر طرف سے جواب موصول نہ ہونے پر شدید پریشانی لاحق ہوئی۔ صحافی دوستوں اور مختلف لوگوں سے صورت حال جاننے کی کوشش کی مگر سبھی بے بس اور پریشان حال تھے۔

وہ ایک سلف میڈ آدمی تھے۔ صحافت کے علاوہ سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ روزگار کے لئے کاروباری معاملات چلا کر گزر بسر کر لیتے تھے۔

 رات گئے تک ان کا کوئی اتہ پتہ نہ چل سکا۔ صبح سوشل میڈیا پر زیر گردش ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں انہیں سلامت پا کر تھوڑا سا اطمینان ہوا مگر فوٹیج کل سہہ پہر کی تھی تو امید دم توڑ گئی۔

حامد نگری یقیناً ایک اچھے، سچے اور نیک انسان ہیں تبھی تو ان کی گمشدگی کی خبر جنگل میں آگ لگنے کی مانند گردش میں ہے۔ صحافیوں اور ان کے عزیز و اقارب کے علاوہ  صارفین کی ایک بڑی تعداد اس صورت حال پر فکرمند نظر آتے ہیں۔ صارفین کی جانب سے حامد کے فیس بک پوسٹ کا جائزہ لے کر تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔  وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی جانب سے بھی واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پولیس سے ان کی بازیابی کے لئے فوری اقدامات کرنے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔

دوسری جانب حامد نگری کے فیس بک پوسٹ کے بعد صحافی محمد ذاکر نے پولیس کو دی جانے والی ایک درخواست میں اپنے اوپر لگنے والے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے حامد نگری کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

 بہرحال، کہانی کیا ہے اور ان دونوں کا آپس میں کوئی لین دین ہے یا نہیں، اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ اس بارے میں اصل حقائق ذمہ دار حکام کی تحقیقات سے ہی معلوم ہوسکتے ہیں۔

 فی الحال حامد نگری کی  بازیابی کا ہے، جس کے لئے ہم سب دعاگو ہیں کہ وہ صحیح سلامت اپنے گھر لوٹ آئیں یا جہاں کہیں بھی ہیں گھر والوں کو اپنی سلامتی کی اطلاع دیں۔ ان کے چھوٹے چھوٹے بچے، والدین ان کی آمد کے منتظر ہیں۔ ہماری دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے حفظ و امان میں رکھے اور حامد بھائی کو جامد نہ بنا دے۔ آمین!

اپنا تبصرہ بھیجیں