105

شاہراہ بلتستان موت کا کنواں کیسے بنی؟


تحریر: اسرار الدین اسرار


شاہراہ بلتستان کی تعمیر کے بعد ہمیں اس بات کی خوشی تھی کہ گلگت اور بلتستان کا فاصلہ کم ہوجائے گا اور بلتستان کی خوبصورت سرزمین جو پہلے سے سیاحت کے لئے زرخیز تھی اب اس کو چار چاند لگ جائیں گے ۔ اس روڑ کی تعمیر کے لئے بلتستان کے عوام نے بڑی جدوجہد کی تھی اور وہاں کے منتخب نمائندوں نے بھی کئی سالوں تک اس کو مشترکہ ایجنڈا بنائے  رکھا تھا۔ اس روڑ کی تعمیر مقامی لوگوں کا دیرینہ خواب تھا۔ اس روڑ کی تکمیل تک مقامی لوگوں نے بہت ساری سفری تکا لیف جھیلیں تھیں۔

ان کوششوں کے نتیجے میں جب یہ شاہراہ تعمیر ہوگئی تو وہاں کے لوگوں نے خوشی سے پھولے نہیں سمایا۔ ہم نے بھی اس روڑ کی تعمیر کے بعد متعدد مرتبہ بلتستان میں سیر و تفریح کا شرف حاصل کیا ۔ مگر صد آفسوس کہ اب یہ شاہراہ موت کا کنواں بن گئی ہے۔ آئے روز کوئی نہ کوئی حادثہ رونما ہوجاتا ہے۔

لینڈسلائڈنگ کے واقعات روز کا معمول بن گئے ہیں۔ ان حادثات میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئی ہیں۔  روزانہ روڑ کی بندش کی وجہ سے مقامی لوگوں اور سیاحوں کو ایک کرب ناک صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 اس روڑ میں حفاظتی جنگلے، حفاظتی دیواریں اور سلائڈنگ کی جہگوں پر ٹنلز کا نہ ہونا ان تمام حادثات کی اہم وجوہات بتائی جارہی ہیں۔ تیز رفتاری اور روڑ سے واقفیت نہ ہونا سیاحوں کے لئے ایک الگ خطرہ ہے مگر مقامی لوگ محض روڑ کی ناقص تعمیر کا شکوہ کرتے ہوئے نظر  آتے ہیں جس پر این ایچ  اے اور حکومت کان دھرنے کے لئے تیار نظر نہیں آتی۔

گزشتہ دنوں اس روڑ پر سلائڈنگ کی زد میں آنے والے ایک خاندان کی ویڈیو دیکھ کر کلیجہ پٹھنے کو آیا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے حکومت اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور اس روڑ میں انسانی جانوں کو محفوظ بنانے کے لئے درکار حفاظتی اقدامات اٹھانے میں مزید تاخیر نہ کی جائے۔ صرف ناقص تعمیر پر رونا اس کا حل نہیں ہے بلکہ ان تمام کمیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنا ہے جن کی وجہ سے روڑ کی حالت نا گفتہ بہہ ہوگئی ہے۔

 اس ضمن میں بلتستان کے منتخب نمائندوں اور گورنر گلگت بلتستان کو بھی اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا۔

مصنف کے بارے میں :

اسرار الدین اسرار انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان گلگت بلتستان کے کا نمائندہ ہے۔ اسرار بام جہان کے ریگولر لکھاری ہے ان کی دلچسپی کے موضات سماجی مسائل، گھریلو تشدد اور انسانی حقوق کے مسائل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں