83

ذہنی صحت کے حوالے سے گورنمنٹ ڈگری کالج بونی میں ایک روزہ آگاہی سیمینار کا انعقاد


آج کے دور میں ذہنی صحت کو بنیادی انسانی حقوق میں شامل کیا گیا ہے اور انسانی حقوق والے اسے بنیادی انسانی حقوق قرار دے رہے ہیں اس حوالے سے مزید کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ذہنی بیماریوں سے پھیلنے والے پیچیدگیوں کو کم کیا جا سکیں۔

بام جہاں


ذہنی صحت اور اس سے جڑے پیچیدگیوں کے حوالے سے گورنمنٹ ڈگری کالج بونی اپر چترال میں ایک ہائیو پاکستان اور ایک مقامی تنظیم کے تعاون سے ایک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں طلباء و طالبات اور پروفیسرز و لیکچررز نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

اس موقع پر پروگرام آرگنائزر کریم اللہ نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور ذہنی صحت اور امن کے موضوع پر ہائیو پاکستان اور کمیونٹی اینویٹیو لیب کی جانب سے اس آگاہی پروگرام کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔ جبکہ اس موقع پر ہائیو پاکستان کے ملک بھر میں امن کے حوالے سے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

سیمنار میں خطاب کرتے ہوئے آغا خان ہیلتھ بورڈ کے ماہر نفسیات ثانیہ ارم نے شرکاء کے ساتھ ذہنی صحت اور ذہنی بیماریوں کے حوالے سے تفصیلی روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ جس طرح ہم اپنی جسمانی صحت اور جسمانی  بیماریوں سے متعلق آگاہ رہتے ہیں اسی طرح ہمیں ذہنی صحت اور ذہنی بیماریوں کے حوالے سے بھی خود کو باخبر رکھنی ہوگی تاکہ کسی قسم کا مسئلہ رونما ہونے کی صورت میں ماہرین سے رجوع کرکے کونسلنگ یا پھر علاج شروع کروایا جا سکیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ کئی سالوں سے چترال میں کم عمر نوجوانوں میں ذہنی مسائل بڑھ رہے ہیں جس کی عمومی وجہ ماحول اور اس قسم کی پیچیدگیوں کے حوالے سے آگاہی نہ ہونا ہے۔

ہائیو پاکستان کا بھی انہوں نے شکریہ ادا کیا کہ علاقے کے اس ابھرتے ہوئے مسئلے پر انہوں نے بھی کام شروع کیا ہے۔

سیمینار کے دوسرے اسکالر عباد الرحمن نے ذہنی صحت اور ذہنی بیماریوں کے سماجی وجوہات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے جو آگاہی  مہم شروع کی گئی ہے اس کے یقینا مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے ذہنی صحت ہماری نصاب کا حصہ نہیں اور نہ ہی پالیسی بنانے والے اس حوالے سے کوئی پالیسی بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے یہ مسئلہ چترال کی حد تک کافی پیچیدہ ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج کے دور میں ذہنی صحت کو بنیادی انسانی حقوق میں شامل کیا گیا ہے اور انسانی حقوق والے اسے بنیادی انسانی حقوق قرار دے رہے ہیں اس حوالے سے مزید کام کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ذہنی بیماریوں سے پھیلنے والے پیچیدگیوں کو کم کیا جا سکیں۔

اس موقع پر طلبہ و طالبات نے بھی سیشن میں بھر پور انداز سے حصہ لیا اور ذہنی مسائل و بیماریوں کے حوالے سے سوالات پوچھے گئے۔ جبکہ گورنمنٹ ڈگری کالج بوائز اور گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج بونی کے پروفیسرز اور لیکچررز نے بھی اس سیشن میں بھر پور انداز سے شرکت کرکے اپنے تجربات شیئیر کئے۔

پروگرام کے اختتام پر اسسٹنٹ پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج بونی فرمان علی شاہ نے بھی خطاب کیا انہوں نے اس موقع پر ہائیو پاکستان کا شکریہ ادا کیا کہ اس حساس اور پیچیدہ موضوع پر بہترین سیشن اور آگاہی پروگرام کا انعقاد کیا۔

انہوں نے مستقبل میں بھی اس قسم کے پروگرامات کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا۔

اس سیمنار میں 150 سے زائد طلبہ و طالبات اور اساتذہ نے شرکت کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں