Kidnapping and forced Marriage 121

فلک نور کی جلد بازیابی عمل میں لائی جائے۔ احتجاجی مظاہریں


نمائیندہ خصوصی


اسلام آباد/ہنزہ: سیاسی و سماجی و انسانی حقوق کی تنظیموں نے اتوار ۲۵ مارچ کو گلگت کے نواحی گاوں سلطان آباد سے 13 سالہ کمسن بچی کو مبنیہ طور پر اغواء اور جبری شادی کے خلاف اور اس کی بازیابی کے لیے اسلام آباد اور ہنزہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔

احتجاجی مظاہرین نے کمسن بچی کا 20 جنوری 2024 کو مبینہ اغوا کے بعد غیر قانونی شادی کے معاملے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ اس طرح کے واقعات دوبارہ رونما نہ ہوں۔

چائلڈ پروٹیکشن ورکرز نے حالیہ دنوں ہونے والے مبینہ اغوا اور غیر قانونی شادی، جو کہ صوبہ خیبر پختونخواکے ضلع مانسہرہ  میں ہوئی’ کے حوالے سے  خیبرپختونخوا چائلڈ رائٹس کمیشن کے کردار پر سوال اٹھایا۔

سلطان آباد گلگت سے تعلق رکھنے والی کم عمر لڑکی فلک ناز اغواء اور اسے شادی کی رنگ دینے کے خلاف ہنزہ عوامی ورکرز پارٹی نے سینیر رہنماء بابا جان اور عقیلہ بانو کی قیادت میں علی آباد ہنزہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ جس میں ۔مغوی لڑکی کی جلد بازیابی اور ملزمان کی جلد گرفتاری کے مطالبات درج تھے۔

مظاہرین نے کم عمر لڑکی کی شادی کے بیان کو مکمل طور پر مسترد کیا اور کہا کہ لڑکی کی عمر مشکل سے بارہ سال ہے۔ کس قانون کے تحت لڑکی کی شادی کراٸی گٸی۔ اگر غیر قانونی شادی کراٸی بھی گٸی ہے تو پولیس اور انتظامیہ غیر قانونی نکاح پڑھانے والے نکاح خواں کے خلاف بھی کاررواٸی کرے۔

واضع رہے کہ گلگت پولیس اور پوری سرکاری مشینری دو ماہ ہونے کے باوجود مغوی لڑکی کی بازیابی میں مکمل نام رہی ہیں۔ لڑکی کے والد کی جانب سے میڈیا پر آنے اور پولیس پر ملزمان کی پشت پناہی کرنے کے الزامات کے بعد پولیس نے مشکل سے کاررواٸی کا آغاز کیا تھا۔ اب جبکہ عوامی دباو بڑنے کے بعد مبینہ طور پر پہلے مغوی لڑکی کی ویڈیو بیان منظر عام پر لایا گیاجس میں لڑکی نے دعویٰ کیا کہ اس نے پسند کی شادی کی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے اور سرکار کو خوب علم ہے کہ 18 سال سے کم عمر لڑکی کی شادی غیر قانونی ہے۔ اس سے قبل کراچی سے اغواء ہونے والی دعا زہراء کیس میں بھی یہی مسٸلہ تھا۔ عدالت کے حکم پر لڑکی کو والدین کے حوالے کیا گیا۔

یہ واقعہ بھی اسی قسم کا ہی ہے۔ اس لٸے پولیس لیت و لعل سے کام لٸے بغیر لڑکی کو بازیاب کرانے میں کردار ادا کریں اور ملزمان کو کٹہرے لاکر مغویہ کی فیملی کو انصاف دلایا جاٸے۔

مظاہرین نے بچی کو فوری طور پر بازیاب کروانے اور اسے عدالت کے سامنے پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر سے یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کی جائے کہ اس نے  کس طرح بچی کی عمر کا تعین کیا اور سرٹیفکیٹ جاری کردی، نیز پیشہ وارانہ مس کنڈکٹ پر ڈاکٹر کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جائے۔یہ بھی مطالبہ کیا کہ بچی کی عمر کا تعین کرنے کے لیے مستند طبی اور قانونی طریقے استعمال کیا جائے۔

انہوں نے نکاح خواں اور رجسٹرار کے طرز عمل کی چھان بین کرنے اور قانون کے مطابق سزائیں دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

انہوں نے ان پولیس اہلکاروں کے خلاف تحقیقات کرانے جن پر بچی کے والدین کی جانب سے سنگین الزامات لگائے گئے ہیں، کا بھی مطالبہ کیا۔اس بات کا بھی تحقیقات کی جائیں کہ ایف آئی آر درج کرنے کے باوجود پولیس دو ماہ تک کوئی قابل اعتبار کارروائی کیوں نہ کر سکی۔

مظاہرین نے  پشاور ہائی کورٹ سےمطالبہ کیا ہے کہ 164   کا بیان ریکارڈ کرنے والے مجسٹریٹ کے خلاف انکوائری کمیشن بنا کر تحقیقات کریں۔

مظاہرین نے متاثرہ خاندان کو انصاف ملنے تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں