Baam-e-Jahan

مدد چاہتی ہے یہ حوا کی بیٹی


تحریر: غلام الدین(جی ڈی)


حوا کی بیٹی بھڑیوں کے نرغے میں۔

حالیہ دنوں میں ہنزہ میں  دو  شادی شدہ خواتین کےقتل، وین حادثے میں ۳ معصوم بچوں کی موت، ہنزہ میں اسسٹنٹ پروفیسر حبیب اللہ کا قتل، ضلع غذر میں ۱۲ سالہ لڑکی کے ساتھ زیاتی اور پھر قتل کے زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے تھے کہ ضلع کھرمنگ میں انسانیت سوز واقع پیش آیا۔ ان واقعات سے گلگت بلتستان میں جرائم وقوع پذیر نہ ہونے کا تاثر ختم ہوچکا ہے۔

گلگت بلتستان کے طول و ارض میں چراگاہوں  اور مشترکہ شاملات  کے حدود پر تنازعات تو موجود ہیں اور کبھی کبھار سنگین شکل اختیار کر جاتے ہیں۔ اس کی وجوہات پورے ملک میں خطرناک حد تک بڑھتی ہوییٗ انتہا پسندی، عدم برداشت ،غربت اور معاشی بحران اور نظام حکمرانی کی بوسیدگی اور افرا تفری میں تلاش کی جاسکتی ہے جس کے اثرات گلگت بلتستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ لوگ اس بوسیدہ نظام سے لڑنے کی بجاے  اپنےجیسے غربت زدہ  لوگوں  کو ا پنے دکھوں کے ذمہ دار سمجھتے ہیں اور اپنے سے کمزور تر پر اپنا غصہ نکالتے ہیں۔ اس کی تازہ ترین مثال کھرمنگ کے واقعہ سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس میں خواتین  اور جانوروں تک کو نہیں بخشا گیا اور لہولہان کیا گیا۔

یہ ہولناک واقع بلتستان کے ضلع کھرمنگ کے گاوٗں کتیشو میں 26 جون کی دوپہر کے وقت اس وقت پیش آیا جب مہدی آباد کے لوگ اپنی مال مویشی کتیشو کے راستے دیوسائی لے جارہے تھے۔

صحافی سرور حسین سکندر کے مطابق مہدی آباد کے لوگوں کا راستہ روکنے کے لیے کتیشو کی 50 سے 60 خواتین موجود تھیں جبکہ اتنی  ہی تعداد میں مرد بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب مہدی آباد کے ایک شخص کی گائے کو پہاڑسے گرایا جانے والا پتھر لگا اور وہ مرگئی۔

دو نوں فریقین کے مابین ہونے والے اس تصادم میں تین خواتین کے علاوہ دو درجن سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال بھی کیا۔ اس اندوناک واقع میں زخمی تین خواتین ریجنل اسپتال اسکردو میں زیر علاج ہیں۔ دو کو گردن اور کمر میں ڈنڈے مارے گئے، پشت پر زخم آئے،ناک کی ہڈی توڑ دی گئی اور ایک کا دانت گرا دیا گیا۔ جبکہ تیسری خاتون کے بارے میں اہلیان داپا کتیشو کا الزام ہے انہیں 5 افراد نے گھر میں گھس کر مار پیٹ کی، جس کے نتیجے میں  22 سالہ معصومہ کی 3 ماہ کا حمل ضائع ہوگیا ہے۔

حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے مہدی آباد اور داپا/کتیشو کے معززین پر مشتمل ایک 14 رکنی امن کمیٹی تشیکیل دی گئی  جو فوری طور پر امن کی بحالی اورتنازعہ حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔

 دوسری جانب اہلیان داپا/کتیشو کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقع میں ملوث تمام افراد کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

پولیس کی ناقص کارکردگی

سماجی و سیاسی  شخصیات اور انسانی حقوق کی کارکنوں نے واقعہ   کو روکنے میں نکامی پر پولیس پر شدید تنقید کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ کی غفلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مہدی آباد کے لوگ 10 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے کتیشو پہنچے، تصادم کی اطلاع ملنے پر پولیس وہاں پہنچی اور بجائے مہدی آباد والوں کو گھر بھیجنے کے کتیشو کی مرد خواتین پر آنسو گیس کے شیل برسائے اور ہوائی فائرنگ کی گئی۔

وزیرمظفرحسین کے مطابق بلوائیوں نے گھروں میں گھس کر خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث حاملہ خاتون معصومہ کا بچہ ضائع ہوا۔

معاملہ قابل تشویش اس لیے بھی ہے کہ پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں ایک نہتی خاتون پر پتھروں اور ڈنڈوں سے حملہ کیا گیا۔ پولیس کی غفلت اور لاپرواہی پروہاں موجود اہلکاروں کے خلاف سخت ترین محکمانہ انکوائری عمل میں لانے کی ضرورت ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ویڈیو سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس تو حملہ آوروں کی پشت پناہی کررہی ہے۔ دباو کے باعث ملزمان محبوب علی اور عمران نے خود ہی گرفتاری دی ہے۔ اس میں پولیس کا کوئی کمال نہیں۔ اس کے علاوہ دیگر ایف آئی آرز میں نامزد بیشتر افراد شخصی مچلکوں پر گھر جاچکے ہیں۔

 حسین کہتے کہ مہدی آباد کے لوگ ہر لحاظ سے بااثر ہیں جبکہ کتیشو کے لوگ مفلوک الحال ہیں، ان کی داد رسی کرنے والا کوئی نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تو سرعام دہشت پھیلانے کی کوشش ہے، خاتون پر تشدد کے ملزمان کے خلاف دہشتگردی کی دفعات شامل ہونی چاہیے تھیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گھریلو تشدد کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن بلتستان کی تاریخ میں کسی خاتون پر سرعام سنگ باری اور ڈنڈوں سے حملہ کرنے کا پہلا واقع ہے، جس سےبلتستان کے پرامن اور مہذب لوگوں کے سرشرم سے جھک گئے ہیں۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس واقع کی شفاف جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے تاکہ ایسے واقعات کی پشت پناہی کرنے والے افراد بے نقاب ہوں۔

 ہیومن رائٹس کمیشن کے کونسل ممبر نے متاثرہ خواتین سے اسپتال میں ملاقات کی اور ان سے واقع کی  تفصیلات  جاننے کی کوشش کی۔

ان کے مطابق حاملہ خاتون معصومہ نے تصدیق کیا کہ انہیں بلوائیوں نے گھر میں گھس کر بہیمانہ تشدد کیا اور وہ بے ہوش ہوئیں، جسم میں شدید درد کے باعث ان کا بچہ ضائع ہوا۔ دوسری جانب ڈاکٹرکی مرتب کردہ رپورٹ میں اسقاط حمل کا ذکر ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق کتیشو میں گھیراو کرکے خاتون پر پتھر برسانے اور سر پر ڈنڈا مارنے کے واقع میں ملوث تین افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے دفعات 354، 337 اور 324 کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش کی جارہی ہے۔ ایف آیٗ آر  میں نامزد تین افراد میں سے محبوب علی اور عمران نےخود گرفتاری دی ہے جبکہ تیسرے ملزم کی گرفتاری جلد عمل میں لائی جائے گی۔

سابق صدر ڈسٹرکٹ بارکونسل اسکردواور سول سوسائٹی ایکٹیوسٹ ایڈوکیٹ بشارت علی کہتے پی پی سی کے سیکشن ۳۲۴، ۳۳۷ اور ۳۵۴ کے دفعات ناقابل ضمانت ہیں اور یہ درست لگے ہیں۔ سیکشن۳۲۴ اقدام قتل کی دفعہ ہے جس میں زیادہ سےزیادہ ۱۴ سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ سیکشن ۳۳۷ کے تحت کم از کم ڈیڑھ سال اور زیادہ سے زیاد ہ تین سال بمع جرمانہ سزا ہوسکتی ہے جبکہ سیکشن ۳۵۴ کے تحت کم سے کم دوسال اور زیادہ سے زیادہ سات سال کی سزا ہوسکتی ہے۔

ایڈوکیٹ بشارت علی کا یہ بھی کہنا ہے کہ انکوائری اور تفتیش کے بعد مزید سیکشن لگ سکتے ہیں ۔ ایسے واقعات میں دہشت گردی کے دفعات نہیں لگ سکتیں۔

پولیس کا دعوا ہے کہ ویڈیو وائرئل ہونے کے بعد  انتظامیہ حرکت میں آئی۔ ایس پی کھرمنگ شبیر احمد کہتے ہیں  کہ پولیس نے فوری کارروائی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں طرف سے گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا چکی ہیں جبکہ تین ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔

تنازعہ کا پس منظر

کتیشو  ایک دورافتادہ علاقہ ہے جو  تین سو گھرانوں  یعنی تقریبا ۱۲۰۰ سے اوپر  کے نفوس پر مشتمل ہے اور وہاں کے بیشتر مکینوں کا ذرائع آمدن گلہ بانی ہے۔ ایک اندازے مطابق مہدی آباد کی آبادی تقریبا نو سو ہے ۔  

مہدی آباد کے رہائشی اور صحافی سرور حسین سکندر کے مطابق مہدی آباد کے لوگ کتیشو کی پہاڑوں میں گزشتہ دو صدیوں سے مال مویشی چراتے آرہے ہیں۔ گزرگاہ اور چراگاہ پر تنازعہ ڈوگرہ راج کے دور سے چلا آرہا ہے ۔لیکن گزشتہ تین دہائیوں سے معاملہ عدالت میں ہے جس کی تصدیق بلتستان سے سینئر صحافی و کونسل ممبر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان وزیر مظفرحسین نے بھی کیں۔ انہوں نے کہا کہ  کتیشو کے  لوگوں نے عدالت سے حکم امتناعی حاصیل کی ہویٗ ہے ۔

 سکندر کے مطابق موسم گرما کے تین مہینوں میں مہدی آباد اور کتیشو کے مکین اپنے مال مویشی براستہ کتیشو دیوسائی لے جاتے ہیں اور یہ دونوں گاوں کا قدیمی راستہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مہدی آباد کے لوگوں کی کتیشو نالے میں زمینیں بھی ہیں جہاں سے گاس پھوس حاصل کی جاتی ہے اور مویشی بھی چرائے جاتے ہیں۔

حسین نے بلتستان میں سیٹلمنٹ کے معاملات پر تحقیق کی ہے وہ کہتے ہیں کہ ڈوگرہ راج کے دور میں 1999بکرمی کے تحت بلتستان اور استور کے ہر علاقے کے زمینوں، گھروں یہاں تک درختوں اور مال مویشی کا بھی ریکارڈ مرتب کیا گیا تھا۔ چونکہ ڈوگرہ دور میں ریاست جموں و کشمیر  کا  گرمائی  دارالخلافہ لداخ جب کہ سرمائی دارالخلافہ  بلتستان ہوا کرتا تھا تو ضلع کھرمنگ کا 70 فیصد سیٹلمنٹ کا ریکارڈ لداخ میں ہے ،جو 30 فیصد ہمارے پاس تھا وہ تقریبا تباہ ہوچکا ہے۔ تقسیم کے بعد سیٹلمنٹ کا کوئی مربوط اور جامع نظام نہ بن سکا جس کے باعث عشروں سے چراگاہوں اور زمینوں کے تنازعات عدالتوں میں زیرالتواء ہیں اور بعض اوقات فریقین کے مابین حالات کشیدہ ہوجاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر خسرہ اور گرداوری ہر سال ہوتو زمینوں کے تنازعات کم ہوسکتے ہیں۔

واقعہ پر ردعمل

سیاسی عمائدین،انسانی حقوق کی تنظیمیں، شاعر و ادیب، وکلا، صحافی، اساتذہ، طلبا اور سول سوسائٹی کارکنا ن نے اس واقعہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان سب کا مطالبہ ہے کہ ان واقعات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچا کر ایک مثال قائم کی جائے وگرنہ مستقبل میں حالات اس سے زیادہ پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ویڈیو وائر ہونے کے بعد وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید نے پولیس کو اس میں ملوث ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

قائدِ حزبِ اختلاف گلگت بلتستان اسمبلی و صوبائی صدر پیپلز پارٹی گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ نے چراگاہ تصادم میں خاتون پر پتھراؤ اور تشدد انتہائی شرمناک اور ظالمانہ حرکت ہے۔ یہ واقعہ گلگت بلتستان کے معاشرے پر بدنما داغ ہے۔ اس طرح کے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں۔ ملوث افراد کو گرفتار کر کے نشانِ عبرت بنایا جائے۔

رکن گلگت بلتستان اسمبلی و صوبائی سکریٹری اطلاعات پیپلزپارٹی گلگت بلتستان سعدیہ دانش  اور پارلیمانی سیکرٹری برائے وویمن ڈویلپمنٹ و صوبائی سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم شعبہ خواتین کنیز فاطمہ علی نے  اپنے  بیان میں اس واقعہ کوانتہائی شرمناک اور ظالمانہ حرکت قرار دیا ہے اورحکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ ملوث افراد کو نشانِ عبرت بنایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان جیسے مہذب معاشرے میں یہ واقعہ بلخصوص بلتستان پر بدنما داغ ہے جسکی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔  وویمن سیکریٹری نے متاثرین کو یہ یقین دلایا کہ صوبائی حکومت اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف بھر پور کاروائی  کرے گی۔

ریجنل کواڈینیٹر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان اسرار الدین اسرار نے فیس بک پیج پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کے مطابق علم و ادب اور تہذیب و تمدن کی سرزمین بلتستان میں  جو واقع پیش آیا ہے وہ شرمناک اور قابل مذمت ہے۔ گلگت بلتستان حکومت کو چاہیے کہ واقع میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لاکر قرار واقعی سزا دلانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

گلگت بلتستان کی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کے ان چند واقعات میں سے ایک ہے جس میں کئی نوجوانوں نے مل کر ایک نہتی خاتون کو سفاکانہ تشدد کا نشانہ بناکر زخمی کردیا ہے۔ متاثرہ خاتون اس وقت تشویشناک حالت میں مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ ہم متاثرہ خاتون کے ساتھ مکمل ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔

اسرار کا کہنا ہے کہ  وزیر اعلی گلگت بلتستان کا اس واقع کا نوٹس لینا خوش آئند ہے لیکن ایسے واقعات کا صرف نوٹس لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان کو منطقی انجام تک پہنچانا بھی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

سینئر صحافی نثار عباس  نے مطالبہ کیا  کہ واقع میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔  انہوں نے الزام عایٗد کیا کہ  بااثر سیاسی شخصیات اس واقع پر اثرانداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں جس سے ملزمان کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔


غلام الدین (جی ڈی) براڈکسٹ جرنلسٹ اور وی لاگر ہیں ، وہ مختلف سیاسی و سماجی موضوعات پر مضامین لکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں