مری ہوٹل 176

ایک لمبی دکھ بھری داستان

سلمان حیدر


دسمبر 2005 کی اکتیس تاریخ کو میں اسلام آباد سے مظفر آباد جانے کے لیے ویگن میں سوار ہوا تو دوپہر کے دو بجے تھے۔ بارش ہو رہی تھی اور میرا خیال تھا کہ چار گھنٹے کا سفر پانچ میں بھی ہوا تو میں 7 سات بجے اپنے کیمپ میں پہنچ کر کھانا کھاوں گا اور صبح سے کام شروع ہو جائے گا۔ 8 اکتوبر کو کشمیر اور بالا کوٹ وغیرہ میں زلزلہ آیا تھا اور میں 10 اکتوبر سے 5 نومبر تک بطور رضاکار کام کرنے کے بعد ترکش ریڈ کریسنٹ کے ساتھ بطور سائیکولوجسٹ نتھی ہو گیا تھا۔ ہم مظفر آباد کے چار کیمپس میں ٹراما ڈپریشن انگزائٹی کا شکار بچوں اور بڑوں کے ساتھ کام کر رہے تھے۔ تنخواہ اچھی تھی لیکن کام کی صورتحال یہ تھی کہ ہفتہ وار چھٹی صرف کاغذ میں تھی۔ کیمپ میں جتنا کام تھا اس میں چھٹی کی گنجائش نہیں تھی۔ اکتوبر میں کام شروع کرنے کے بعد میں نے پہلی چھٹی لی تھی اور اسلام آباد آیا تھا۔ 31 دسمبر کو دوپہر مظفر آباد کی طرف سفر شروع کرنے کے کوئی 40 منٹ بعد گاڑی رک گئی ٹریفک جام تھی۔ لوگ نیو ائیر منانے مری جا رہے تھے سڑک کے دونوں طرف مری جانے والی گاڑیاں لائنیں بنا چلیں تھیں اور سامنے سے آنے والی گاڑیوں کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔ بارش کچھ دیر میں برف باری میں بدل گئی۔

ہم راستہ کھلنے کے انتظار میں بس میں بیٹھے رہے۔ برف باری اور سردی کے مختصر دنوں کا نتیجہ یہ تھا کہ میں نے شام چھ ویگن سے اتر جانے کا فیصلہ کیا تو ایسا لگ رہا تھا کہ رات ہو چکی ہے۔ گاڑیاں ہماری ویگن سے پیچھے بھی لائن لگا چکی تھیں ویگن کے مڑنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔ غلطی میں نے یہ کہ کہہ واپس اسلام آباد کی طرف چلنے کے بجائے میں نے سوچا کہ مری کی طرف چلتے ہیں جو پہلا ہوٹل آیا اس میں رات رک جائیں گے صبح جہاں کہیں ہوں گے وہاں سے آگے کی ویگن پکڑ لیں گے۔ چلنا شروع کیا تو دونوں طرف گاڑیوں کی قطاریں تھیں اور سب کسی غیبی طاقت کا انتظار کر رہے تھے جس نے آ کر راستہ کھولنا تھا۔ کچھ ہی دور گیا ہوں گا تو سڑک پر طرف بڑھنی شروع ہو گئی۔ اسلام آباد میں صبح سے بارش تھی اور مری میں شاید صبح سے برف پڑ رہی تھی۔ پہلا ہوٹل جو مجھے نظر آیا میں نے اس سے کمرے کا پوچھا تو اس نے کہا کہ ہوٹل بک ہے۔ جو لوگ زیادہ سیانے تھے انہوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ رات میں راستہ نہیں کھلے گا اور کمرے بک ہو گئے تھے۔ اس سارے کام میں آٹھ بج چکے تھے۔ میں نے سوچا اسلام آباد چلوں تو خیال آیا کہ دو گھنٹے چل کر یہاں پہنچا ہوں تو اب دس بجے تو واپس اس جگہ پہنچوں گا جہاں ویگن تھی۔ اس کے بعد اسلام آباد پہنچے بارہ نہیں ایک بج جائے گا کہ ساری گاڑیاں پیدل کراس کر کے کہیں کوئی گاڑی ملے گی۔
اس لیے فیصلہ کیا کہ دو تین گھنٹے اور چلوں تو مری پہنچ جاوں گا وہاں ہوٹل لے لوں گا۔ میں نے ہوٹل کے باہر سگریٹ پیتے ایک بندے سے پوچھا کہ مری یہاں سے گرنا دور ہے۔ اس نے اوپر کو منہ کر کے مجھے بتایا کہ بس یہ ساتھ ہی ہے۔
میں نے اس نیک آدمی کا اعتبار کر لیا اور چل پڑا بے۔ گاڑیوں کی قطاروں کے بیچ مزید کوئی ایک گھنٹہ چلنے کے بعد سڑک پر پڑی برف پنڈلیوں تک آ چکی تھی اور مزید برف گرنا شروع ہو گئی تھی۔ گاڑیاں اس بری طرح پھنسی ہوئی تھیں کہ ان کے بیچ سیدھا سیدھا چلنا ممکن نہیں تھا گھوم گھوم کے گاڑیوں کے بیچ میں زگ زیگ چلتے ہوئے میں نے سوچا کہ اس طرح تو میں تین گھنٹے کا سفر پانچ میں طے کروں گا سڑک کے کنارے چلتے ہیں۔ سڑک کنارے برف اور زیادہ تھی۔ تھوڑی دیر میں میں پہلی بار پھسلا اور کافی نیچے جا کر رکا۔ بریک کیسے لگی پتا نہیں لیکن یہ طے ہو گیا کہ واپس سڑک کے بیچ چلو ایک بات اور پھسلے تو صبح لوگ آ کر اٹھائیں گے۔ اوپر سڑک تک آتے آتے تین بار اور گرا جوتوں میں ناک میں کانوں میں برف بھر گئی۔ ایک گاڑی سے ٹیک لگا کر جوتے اتار کر جھاڑے جرابیں گیلی ہو گئیں تھیں وہ اتار کر پھینکیں اور پھر سڑک کے بیچ چلنا شروع کیا۔ نوکیا 1100 میرے پاس تھا اس میں ایک چھوٹی سی ٹارچ تھی جس کی روشنی میں میں چل رہا تھا۔ سنی بینک پر بنے ہوئے پی ایس او کے پمپ پر میں پہنچا تو رات کے تین بج گئے تھے۔ ہمت جواب دے گئی تھی۔ سوچا یہاں پمپ پر رک جاتا ہوں۔ تھوڑا آرام کر کے چلوں گا پمپ پر کوئی تھا نہیں یا کوئی تھا بھی تو کسی کونے میں دفن تھا۔ سٹور کی تھڑی پر بیٹھ کر آرام کا فیصلہ کیا دس ایک منٹ کے بعد کپکپی لگ گئی۔ خیال آیا کہ بھائی تو ابھی تک چل رہا تھا اس لیے تھے سردی نہیں لگی یہ سردی تو تجھے مار دے گی۔ فیصلہ ہوا کہ اوپر چل کر ہوٹل ڈھونڈا جائے۔ اوپر جاتے جاتے برف بلا مبالغہ گھٹنوں سے کچھ ہی نیچے ہو گی۔ شہر کی لائٹ گئی ہوئی تھی گھپ اندھیرا تھا۔ تھکن اور سردی کے مارے برا حال تھا۔ گیارہ بارہ بجے سے مظفر آباد سے کولیگز، جنہیں میں نے بتایا تھا کہ رات کو ملتے ہیں، کے فون آنے شروع ہو گئے تھے کہ کہاں ہو۔ میں نے انہیں تفصیل بتانے کے بجائے یہی کہا تھا کہ اب رات مری رکوں گا صبح آوں گا۔ ان کولیگز میں سے ایک لڑکا ہر آدھ پون گھنٹے بعد فون کر کر کے مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ کہاں پہنچے اور میں اسے کہہ رہا تھا کہ بار بار فون مت کرو بیٹری ختم ہو جائے گی موبائل کی مجھے ٹارچ چاہئیے۔ ڈیل یہ ہوئی کہ میں ہوٹل لیتے ہی اسے فون کروں گا۔ ہوٹل نظر آتے ہی میں نے دروازے بجانے شروع کیے اکثر ہوٹل والوں نے دروازہ نہیں کھولا کچھ نے باہر جگہ نہیں ہے کا بورڈ بھی لگا رکھا تھا۔ نیو ائیر کی وجہ سے شاید بہت سے ہوٹل بک تھے۔

دس پندرہ دروازے بجانے کے بعد ایک نے تھوڑا سا دروازہ کھولا اور جھانک کر پوچھا تو میں نے اس سے کمرے کا کہا اس نے کہا کمرہ نہیں ہے۔ میں نے اسے اپنی صورتحال بتائی اور کہا کہ مجھے صرف بیٹھنے کی جگہ دے دو میں صبح ہوتے ہی نکل جاوں گا۔ اس نے چٹا انکار کر دیا۔ میری جیب میں سات ہزار روپے تھے۔ میں نے سوچا کہ صبح ویگن نہیں ملے گی ٹیکسی کرنی پڑے گی اس کا کرایہ بچا کر باقی کی آفر کی جائے اسے۔ اس سے کہا کہ مجھے صبح تک کے لیے ایک کرسی ایک بار باتھ روم جانے کا موقع اور ایک چائے کا کپ دو تو میں تمہیں تین ہزار روپے دوں گا۔ اس نے کہا نہیں میں نے کہا اچھا پانچ اس نے کہا نہیں دس ہزار دو۔ پندرہ سال پہلے دس ہزار اچھی بھلی رقم تھی اور میرے پاس تو تھے بھی نہیں۔ میں نے اسے کہا سات ہزار لے لو اس نے کہا دس ہزار دو تو اندر آو ورنہ جاو مجھے سونا ہے۔ اب دس ہزار کس کم بخت کے پاس تھے سوچا چلو کہیں اور چلیں۔ ایک آدھ اور ہوٹل کا دروازہ کھٹکھٹایا ہو گا اس کے پاس کمرہ تھا لیکن وہ سات ہزار بمعہ موبائل فون پر باتھ روم استعمال کرنے دینے کو تیار نہیں تھا کمرہ اس نے کہاں دینا تھا۔ اس کا مطالبہ تھا بیس ہزار دو ابھی کے ابھی دو تو کمرہ مل جائے گا ورنہ جاو۔ اسی بیچ اس کولیگ کا فون پھر آ گیا۔ میں نے اسے بتایا کہ جتنے پیسے ہیں اس میں کمرہ مل کوئی نہیں رہا اندر گھسنے کوئی نہیں دے رہا کہیں برآمدے وغیرہ میں بھی بیٹھا تو اتنی سردی ہے کہ صبح تک جم جاوں گا۔ اس لیے میں چل رہا ہوں کم سے کم روشنی ہونے تک پھر دیکھیں گے۔ اس نے کہا ایسے کام نہیں چلے گا تم چلنا شروع کرو میں کچھ کرتا ہوں۔ پندرہ منٹ بعد اس نے مجھے فون کیا کہ تم صداقت کلینک ڈھونڈو وہاں کے چوکیدار سے میری بات ہو گئی ہے وہاں رات گزارو صبح آ جانا۔ بجلی گئی ہوئی تھی برف دو ڈھائی فٹ اس دن پڑ چکی تھی۔ مجھے یہ پتا نہیں چل رہا تھا کہ میں کہاں کھڑا ہوں تو یہ کیسے پتا چلتا صداقت کلینک کہاں ہے۔ خیر میں نے ایک آدھ جگہ بورڈ دکان کا نام جو کچھ ملا پڑھ کر اسے بتایا اس نے چوکیدار سے پوچھا تو پتا چلا کہ مجھے ابھی آگے جانا ہے اور آگے کہیں شاید سڑک کے سیدھے ہاتھ نیچے سیڑھیاں اترتی ہیں وہ صداقت کلینک ہو گا جہاں ایک بندہ مجھے نیچے سے ٹارچ کی روشنی دکھائے گا۔ میں چل پڑا کتنی دیر چلا یاد نہیں۔ نیچے جھانک جھانک کر دیکھتا رہا ایک جگہ روشنی سی نظر آئی بڑھ کے جھانکا تو ایک بندے نے نام لیکر پکارا سلمان صاب ہے۔ میں نے کہاں ہاں ہاں میں ہی ہوں اس نے وہیں سے کہا نیچے آ جاو۔ اب نیچے کیسے جانا ہے یہ کس کم بخت کو پتا چلے سیڑھیاں تو برف میں ڈھکی ہوئی تھیں۔ اس نے مجھے گائیڈ کرنا شروع کیونکہ سیڑھیاں اس کے اندازے کے مطابق کہاں ہوں گی تیسرے قدم پر میں پھسل گیا اور صداقت کلینک کے دروازے سے ٹکرا کر رکا۔ اس نے مجھے بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور ایک کوٹھڑی میں لے گیا جہاں ایک سلنڈر سے لگا ہوا ہیٹر جل رہ تھا۔ تھکن اور سردی کے مارے حال تباہ تھا اور دل چاہ رہا تھا کہ ہیٹر پر بیٹھ کر سو جاوں۔ اس نے کہا نہیں کپڑے گیلے ہیں بدلو۔ میں نے کہا بھائی کپڑے یہی ہیں مجھے بتا لیٹوں کہاں اور اوڑھوں کیا۔ اس نے کہا نہیں ایسے نہیں لیٹنا نمونیہ ہو جائے گا۔

ایک موٹی سی شلوار قمیض اور ایک سوئٹر دیا کپڑے جو میں نے اتارے وہ اس نے ہیٹر کے پاس پھیلائے۔ مجھے ایک بستر میں گھسنے کو کہا اور ابھی نہیں سونے کی ہدایت کی۔ تھوڑی دیر میں ایک بد ذائقہ سی چائے دی۔ اس کے بعد آنکھ کھلی تو دن کے ساڑھے بارہ بجے تھے۔ اس کے بعد اس نے دو انڈے فرائی کیے ہوئے اور ایک پراٹھا دیا میں نے کپڑے بدلے اس نے اتنی ہی بد مزہ چائے مجھے دی تو میں نے پوچھا اس میں کہاں ہے اس نے بتایا کہ یہ دار چینی کی چائے ہے اور سردی کو مارتی ہے۔ میں نے ناشتے کے بعد اس سے عید ملنے کی طرح تین بار گلے ملا اور کہا کہ میں اب جاوں گا تمہارا بہت شکریہ اور چار ہزار روپے نکال کے اسے دیے کہ تمہاری بہت مہربانی یار تم نے مجھے شہید ہونے سے بچا لیا۔ ابھی میرے پاس یہی ہیں مجھے مظفر آباد نہ جانا ہوتا تو باقی بھی دے دیتا ابھی یہ رکھ لو میں پھر آوں گا کسی دن۔ اس نے کہا نہیں صاب آپ نعیم صاب کا مہمان ہے ہم آپ سے پیسے کیسے لے سکتا ہے۔ میں نے کہا یار تم نے جگہ دی کھانا چائے دیا ہیٹر دیا تمہاری بہت مہربانی مجھے پتا ہے یہ کم ہیں میں آوں اگلے ہفتے دے جاوں گا۔ اس نے کہا کہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ مہمان سے پیسے لے۔ قصہ مختصر یہ کہ اگر میں مری کے بیس مرنے والوں کی طرح مر نہیں گیا اور یہ قصہ سنا رہا ہوں تو اس کی وجہ صداقت کلینک کا وہ چوکیدار تھا جو خد بھلا کرے پتا نہین کہان ہو گا اب۔ ورنہ مری کے ہوٹل والے دوزخ کے دربان ہیں جنہیں مری میں ٹریننگ کے لیے بھیجا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں