206

ڈیولپمنٹ کے نیو لبرل ماڈل پر نظر ثانی کی ضرورت؟

ظفر احمد


موجودہ دور میں ڈیولپمنٹ کا سب سے غالب ماڈل جو پوری دنیا میں مروج کیا جارہا ہے وہ نیولبرل ازم ہے جہاں مفروضہ یہ ہے کہ معیشت سے متعلق جتنے بھی امور ہیں ان کی نجاری کی جائیں اور حکومت سرمایہ داروں کو ہر ممکن معاونت فراہم کریں۔ اس عقیدے کے تحت نہ صرف بڑے بڑے سرمایہ داروں کے ٹیکس معاف کیے جاتے ہیں بلکہ حکومت قومی ادارے اونے پونے داموں انھیں فروخت کر دیتی ہے اس کے علاوہ حکومتی وسائل ہیں بشمول زمینات، پہاڑ، معدنیات وغیرہ جو غریب عوام سے ہتھیا لی جاتی ہیں وہ بھی سرمایہ داروں کو برائے نام داموں بیچ دیتی ہے۔ حکومت کو اگرچہ جی ڈی پی میں دکھانے کے لیے اعداوشمار مل جاتی ہیں مگر اکثریت عوام تک اس مالی خوشحالی کے ثمرات برائے نام جبکہ سماجی اور موحولیات کو جو نقصان پہنچ جاتی ہے وہ عام لوگوں کو بگھتنا پڑتا ہے۔ کالونیل دور سے یہ نظام چل رہی ہے جو ابھی تک بالخصوص تیسری دنیا کے ممالک میں اتحصال کے حدوں کو چھو رہی ہے۔ ترقی کے اس اپروچ سے زیادہ متاثر وہ علاقے ہوتے ہیں جو موحولیاتی لحاظ سے ولنریبل ہوتی ہیں۔ پاکستان میں چترال اور گلگت بلتستان اس کئیٹیگری میں آتی ہیں۔

ترقی کے اس نیولبرل یا کالونیل اپروچ پر تنقیدی جائزے کی اشد ضرورت ہے، بائیں بازو اور نیشنلسٹ لوگ کب سے اسی بات پر ڈیسکورس اور سیاست میں مصروف ہیں مگر ریاست اور بین الاقوامی سرمایہ داروں کی ترقی کے اپروچ پر اجاری داری کی وجہ سے بائیں بازو ترقی کی دشمن اور نیشنلسٹ تقسیم اور نفرت کی سیاست کرنے والے قرار پائے۔ کالونیل اپروچ یہی ہے کہ ایمپیریل لوگ باقی دنیا کو تہذیب یافتہ کریں گے اور ان کے سرمایہ دار معیشت کو مضبوط اور غربت کا خاتمہ کریں گے ایسے میں پوری دنیا کو کالونی بنا بیٹھے جو اب نیو کولونیز کی شکل دھار چکی۔

اب پسٹوریل سوسائٹیز کے لیے بھی نیولبرل ماڈل پیش کی جا رہی ہیں جس کے مطابق مال مویشی اینوائرمنٹ کو تباہ کر رہے ہیں جن کو ختم کرکے چراگاہوں کو نیچرل پارک میں بدل کر ماخور پالےبجائیں گی، چراہ گاہیں ریاست اور ریاست ان کو سرمایہ داروں کو معدنیات کے لیے لیس کر لے گی۔ مقامی لوگوں کو زیادہ سے زیادہ چوکیداری کی نوکری مل سکتی ہیں۔

ہیومن جیوگرافی اور بشریات والے بہتر بتا سکتے ہیں کہ پیسٹورل معاشروں میں مقامی لوگوں کا ماحول اور مویشیوں کے ساتھ جذباتی عقیدت اور روحانی رشتہ منسلک ہوتا ہے اور ان کے ساتھ ایک پوری ثقافت، تاریخ اور روایات منسلک ہوتی ہیں جسے نیولبرل نظام میں ترقی کے نام پر کریش کیا جا رہا ہے اور بدلے میں موحولیاتی آلودگی، زمینات سے ہاتھ دھونا وغیرہ تحفے میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

چند سال قبل یہی نیو لبرل پرپیگنڈہ چترال میں زور و شور سے جاری تھی جہاں ویلیج کنژوویشن کے نام پر لوگوں کو مال مویشی ختم کرنے اور چراگاہوں میں چند ماخور رکھنے کا پلان شامل تھا۔ یارخون میں چند گاوں میں مال مویشیوں کو ختم کیا گیا تھا اب سنا ہے کہ پھر سے لوگ پال رہے ہیں وجہ صاف کہ انسانوں کا موحول سے صرف پیسے کا رشتہ نہیں ہوتا۔

پیسٹوریل معاشروں میں کالونیل پالیسوں کی بجائے کمیونٹی بیسٹ مئنیجمنٹ کی بحالی کی ضرورت ہے جہاں لوگ اپنے چراگاہوں کو خود مینیج کریں بجائے مستقبل میں حکومت قبضہ کرکے لیس پر سرمایہ داروں کو فروخت کر دیں جو ماحول کا بالات کار شروع کر دیں۔

چترال اور گلگت والوں کو یہ مسئلہ سیریسلی لینا چاہئیے کیونکہ ان کے لیے ایک تو ہیومن جئیوگرافی کا سوال اور دوسرا مستقبل میں اگر گلیشرز پھٹ گئے تو پورا چترال اور گلگت سیلاب میں بہہ جائیں گی۔

"چترال اور گلگت میں سیاحت کے سماجی اور موحولیاتی قیمت” کے عنوان پر ہم کل ٹوئٹر پر سپیس منقعد کئے تھے جہاں ہمارے ایک پشتون ریسرچر نے بڑی خوبصورت جملہ کوٹ کیے کہ "ایپیریل قومیں پہلے تہذیب پھیلانے نکلے تھے، پھر خواتین کو بچانے کی فکر ہوئی اور اب انھیں موحول اور جنگلی حیات کی فکر ہے۔” تہذیب پھیلاتے پھیلاتے پوری دنیا کو غلام بنا بیٹھے، خواتین کی آزادی کے نام پر پوری کاسمئٹک اندسٹری کھڑے کیے اور اب موحول اور موحولیات بچانے کے لیے پیسٹرول معاشروں کی ثقافت اور موحولیات بگھاڑنے نکلے ہیں۔

ضروری ہے کہ ترقی کے نام پر بنے کالونیل اپروچ پر نظر ثانی کی جائیں۔ ترقی کے ایسے ماڈل اپنائے جائیں جو صرف پیسے پر کھڑی نہ ہو بلکہ ترقی کے دوسرے انڈیکس کو بھی ایڈریس کریں جہاں مقامی لوگوں، مارجینلاژٹ لوگوں بشمول خواتین کی شمولیت اور ماحول کی پریزرویشن شامل ہوں۔

اس موضوع پر آمریکہ میں مقیم پروفیسر نویشن علی نے گلگت کے معاشرے پر خوبصورت کتاب لکھی ہیں جو بشریات اور ہئیومین جیوگرافی میں اس طرح کے ایشوز کو ایڈریس کرتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں