160

داخلی خود مختاری کیسے؟

اخون بائے


گلگت بلتستان ایک متنازع علاقہ ہے۔ یہ پاکستان کی آئین بھی کہتا ہے چونکہ اس کے آرٹیکل 1 جس میں اس کے سرحدات کا ذکر ہے کہیں گلگت بلتستان کا ذکر کہیں نہیں، سپریم کورٹ نے اسے متنازع قرار دیا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یہ متنازع ہے۔ یعنی ان لوگوں کو اختیار ہے کہ یہ فیصلہ کریں کہ یہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا ہندوستان کے ساتھ یا پھر ان لوگوں کا بنیادی انسانی حق ہے کہ یہ فیصلہ بھی کر سکیں کہ آزاد رہیں۔ جب یہ صورتحال ہے تو پھر کیسے کوئی کسی اور لوگوں کے کسی اور اسمبلی کے قانون اس علاقے کے لوگوں پہ لاگو کر سکتے ہیں؟ کسی اور علاقے کے کسی اور اسمبلی میں پاس کردہ اے ٹی اے جو کسی اور علاقے کے لوگوں کے لیے بنا ہے اس علاقے کے لوگوں پہ لاگو کر کے انہیں غدار قرار دے سکتے جبکہ اسی کے قانون کے تحت اس اس ملک کی وفاداری کا بھی حق نہیں۔
پھر کل کو استصواب رائے ہوتا ہے اور خدا نہ خواستہ اکثریت انڈیا کے حق میں جاتا ہے تو اس صورت میں پاکستان کے دوسرے علاقے کے لوگوں کی، اداروں کے اثاثے جات کا یہاں کیا ہوگا؟
لحاظہ ضروری یہ ہے کہ اس علاقے کو استصواب رائے تک داخلہ خود مختاری دی جائے جس میں دفاع اور کرنسی کے علاؤہ تمام اختیارات مقامی حکومت کا ہو، ایک پولٹیکل نمائندے کے علاؤہ تمام افسران مقامی ہو۔
اور بجٹ میں فنڈ کی بھیک دینے کی بجائے دریا اور اقتصادی راہداری کی رائلٹی دے دیں۔ باقی اگر اختیار مل گیا تو یہ علاقہ ہائڈرو پاور، کانکنی، ٹوریزم، اور زراعت سے اپنی معشیت بنا لے گا۔
باقی ہم ایسی ریاست سے الحاق کے حق میں ووٹ دیں کا جہاں انسان اور انسانیت کی قدر ہو، جو آپ کو ترقی کا بھر پور موقع دیں، آزادی اظہار دیں، حکومت سازی کا حق دیں، لوٹ کھسوٹ کی جہاں اجازت نہ ہو۔
اس ریاست کے ساتھ الحاق کیسے ہو کہ جس کے وزیر اعظم کہے کہ معشیت کی وجہ سے ہماری سلامتی خطرے میں ہے، جس کے اعلیٰ عہدیدار کہی دے قرض کے بدلے ہمارا سب کچھ لکھوا لیا گیا، جس پہ عالمی اداروں کے پانچ سو ارب ڈالر کا قرضہ ہو، جہاں حکومت عوامی منتخب نمائندوں کی بجائے بندوق بردار کریں، جہاں ہر فیصلہ بیرونی طاقت کے منشاء کے مطابق ہو، جہاں اختلاف رائے پہ آپ کو غائب کر دیے جاتے ہوں، جہاں اپنی ضرورت کے لیے قاتل ادارے بنایا جائے اور اگر وہ آپ ہی کے گلے پڑے دو دھشت گرد قرار دے کر لشکر کشی کریں، جہاں شفافیت 140 ویں نمبر پر ہو جہاں عدل و انصاف 123 ویں نمبر پر ہو
اگر لوگوں کی حمایت چاہیے تو ان کے دل جیتنا ہوگا۔ اور وہ بھی نغموں اور نعروں سے نہیں بلکہ پیار محبت اور ترقی و خوشحالی سے۔
لیکن ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے شاید یہ توفیق کبھی کسی کو ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں