125

راہداریوں کی جنگ میں ہم ایندھن کیوں بنیں؟

حسن صبا


چائنہ گلگت بلتستان کا سینہ چیر کر اپنی مصنوعات دنیا تک کیلئے آسان رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ زوجیلا ٹنل بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ چائنہ ایک کاروباری ملک ہے۔ دنیا کی سب بڑی مارکیٹ تک رسائی اس کا خواب ہے۔ گلگت بلتستان کی اہمیت کو سمجھنے کیلئے عالمی طاقتوں کی بلاک کو سمجھنا ہوگا۔ کوئی بھی ملک لاکھوں ڈالر ایسے کسی متنازعہ جگہ پر کیوں لگائیں جس کی مسقبل کا کوئی پتہ نہ ہو۔
گزشتہ کئی تحاریر میں تیزی سے بدلتے حالات کا برملا اظہار کرتا رہا ہوں۔ عالمی طاقتوں کی نظر برسوں سے اس خطہ پر جمی ہوئی ہیں چونکہ یہ خطہ دنیا سے ملانے والی جنکشن ہے یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند سے قبل بدلتے حالات کے پیش نظر مہاراجہ نے اپنی ریاست کو بچانے کیلئے 75 لاکھ رائج الوقت سکہ دینے کے علاوہ مزید تحفظ فراہم کرنے کے لیے سٹیٹ سبجیکٹ رول کا نفاذ کیا گیا تاکہ سنٹرل ایشیاء کا گیٹ وے ہر قسم کی شر سے محفوظ رہ سکیں ہم نے آزادی حاصل تو کر لی مگر آج تک معلق ہیں تاریخ ہماری خواہشات سے نہیں بدلی جا سکتی۔ ہم تاریخ سے روگردانی کی لاکھ کوشش کریں لیکن تاریخ ہمارا پیچھا نہیں چھوڑیں گے
1946 کے اواخر میں ہندوستان میں عبوری حکومت کا قیام عمل میں لایا گیا مارچ 1947 میں ماؤنٹ بیٹن جوکہ آخری وائسرائے جنہوں نے بڑی مہارت اور سہولت سے محمد علی جناح پٹیل نہرو اور گاندھی کو برصغیر کی تقسیم پر آمادہ کیا۔ پس ثابت ہوا کہ عبوری کے نتائج کچھ خاص اہمیت کے حامل نہیں ہے عام لفظوں میں ہم اسے جوگاڑ کہتے ہیں قرائن بتا رہے ہیں کہ ہمارے مستقبل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہونے جارہا ہے سیانے کہتے ہیں کہ نفرت جذبات بے تحاشا محبت میں کیے جانے والے فیصلے اکثر ناقص تصور کیے جاتے ہیں بہر حال ان دنوں جا بجا عبوری شور و غوغا ہیں حالات میں بدلاو آنے کا پیشگی آگاہی حاصل تھی مگر جس طرح سے لیڈر آف دی اپوزیشن بڑی بے چینی سے عبوری نتائج حاصل کرنے کے لیے ہلکان ہو رہا ہے اس کا علم نہ تھا بہت سارے دوستوں نے عبوری کے فوائد و ممکنہ خدشات سے آگاہ کرنے کے بعد مجھ جیسا کم فہم معروضی حالات سے نا آشنا لوگ تذبذب کا شکار ہے ہم نے اپنے نمائندے ایوانوں تک اس لئے پہنچائی ہے کہ قانون سازی کے ذریعے علاقہ کی تعمیر وترقی کیلئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں لیکن ہم نے یہ مینڈیٹ نہیں دیا ہے کہ پوری قوم کو اعتماد میں لیے بغیر مستقبل کا فیصلہ کریں عصر حاضر 1947 نہیں 2022 گلوبل ویلیج یعنی اکیسویں صدی ہے جہاں داغا بازی مکر و فریب سے کسی کو رام کرنے کی کوشش خام خیالی ہے جو کوتاہی ہم سے 47 میں ہوئی ہے اب کے بار سو دفعہ سوچ کر باہمی مشاورت کے ساتھ ہی کوئی قدم اٹھانا چاہیے کیونکہ سانپ کا ڈسا رسی سے بھی ڈرتا ہے جنہوں نے اس قوم کی بہتر مستقبل کیلئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرکے اپنی خوبصورت جوانی گنوائی ان کی جہد مسلسل کو پس پشت ڈال کر بند کمروں میں کی جانے والی فیصلوں کو دھرتی ماں کا کوئی بھی وفادار تسلیم نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں موجود ہ حالات متقاضی ہے کہ ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے مسقبل کے لئے سب متفقہ ایک بیانیہ اپنائیں تاکہ راستہ تعین کرنے میں آسانی پیدا ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں