عمران خان سے ذاتی دشمنی نہیں 112

عمران خان سے ذاتی دشمنی نہیں

اخون بائے


یہ بہت بڑی غلط فہمی بلکہ خوش فہمی ہے کہ نوجوان صحیح معلومات رکھتے ہیں۔ اس فاشسٹ تعلیمی نظام، فاشسٹ میڈیا کے فاشسٹ حکومتوں اور فاشسٹ اسٹیبلشمنٹ کے بیچ لوگ جن غلط فہمیوں کا شکار ہے اتنے شائد کسی ملک میں ہو اس کے لیے ساتھ بیٹھتے ہیں پھر آپ کو بتاؤں گا کہ کیا
کیا غلط فہمیاں ہیں۔ ہاں کچھ چیزیں آپ کو بتاؤں گا جس پہ بعد میں بات کریں گے۔
سابقہ تمام حکمران کرپٹ تھے اس سے کوئی اختلاف نہیں یہ صرف سیاست دان نہیں فوجی آمر بیروکرٹس کے جو بھی جس شکل میں بھی ملک حکمران رہے سب اس کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن ان حکمرانوں سے بڑے بڑے کرپٹ لوگ ہیں اس کا آپ کو پتہ نہیں۔
خان عوام کو بے وقوف بنانے میں باقی تمام حکمرانوں کے باپ نکلے کیوں کہ
وہ ایماندار نہیں لیکن اپنے آپ کو ایماندار منوایا
وہ مذہبی نہیں لیکن اپنے آپ کو مذہبی منوایا
وہ امریکہ کے خلاف نہیں لیکن اپنے آپ کو امریکہ مخالف منوایا
ہر مخالف شخص کو بکاؤ اور غدار قرار دلوایا اور یوتھیے ایسے یقین کر رہے ہیں جیسے ابھی خود پیسے دے کر آرہے ہوں۔
اب دوسری بات بیٹا اپنے استاد کو تو نا سمجھ قرار دیا اچھی بات ہے شاگرد ہمیشہ استاد سے آگے نکلتا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ چیزوں میں جدت آجاتی ہے۔ لیکن آپ کو ایک بات آپ کا یہ نا سمجھ استاد بتائے گا کہ میں سیاست کا طالب علم 1989سے ہوں شائد تب آپ پیدا بھی ہوے تھے یا نہیں۔ پہلے عمران خان کو بہ طور کھلاڑی دیکھا 1993 کے بعد بہ طور سیاست دان دیکھا ضیاء الحق، نوازا شریف زرداری بینظیر مشرف کی حکومت دیکھی اور سہی لیکن تصویر کے دوسرے رخ کو پڑھ کر دیکھا یہ بات الگ ہے کہ عملی سیاست میں جلدی نہیں آئے اور آپ اور آپ جیسے دوسرے بچوں کو ٹوٹے پھوٹے سکولوں میں تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی کوشش ک۔ عملی سیاست میں دیر سے آنے کا سخت افسوس ہے جس کو اپ اور آپ کی طرح جون سمجھتے اس کو کچھ بھی نہیں پتہ بس آنکھیں بند کر کے سیاست کرنے چلا ہے۔ ہاں 2013 تک عمران خان کے کچھ ہو ٹرنوں، کچھ منافقتوں کے باوجود ان کے حامی رہا لیکن جب وہ کنٹینر پر چڑھیں تو ان کی کئی خصلتیں کھل کر سامنے آگئے۔ ان کے جیسا کوئی منافق نہیں ، ان کے جیسا کوئی موقع پرست نہیں ان کے جیسا کوئی نا اہل نہیں، ان کے جیسا کوئی مغرور اور خود پسند نہیں
ان سے میرا کوئی ذاتی دشمنی نہیں نہ ہی میری یہ تنقید اس تک پہنچ سکتی ہے نہ اثر کر سکتی
میں جانتا ہوں کہ اس نے نواز شریف کو تا حیات نا اہل کروایا، کئی لوگوں کو جیل میں ڈال دیے، اسلاموفوبیا پہ اچھی تقریر کی۔ حساس ہیلتھ، راشن، کفالت، پروگرام کے ائے۔ بلین سونامی تری کے پروگرام لے آئے انڈے مرغی کٹے کے پروگرام لے آئے
لیکن وہ سب سے بد ترین حکمران رہے کیوں کہ کسی کی لیڈر شپ صرف اس کے پروگراموں سے نہیں ملک میں ترقی و خوشحالی سے دیکھی جاتی ہے
ملک نے قرض میں ترقی کی
غربت کے شکار لوگوں کی تعداد میں ترقی کی
کرپشن میں ترقی کی
مہنگائی میں ترقی کی
منافقت اور وعدہ خلافی میں ترقی کی
آئین شکنی میں ترقی کی
اپنے ساتھ دیا ہے بہت بہت شکریہ۔ عوامی ورکرز پارٹی پہ کوئی اے ٹی اے نہیں لگی ہے ان لوگوں پہ لگی تھی جو سانحہ علی آباد میں احتجاج کر رہے تھے۔ ان میں عوامی ورکرز پارٹی کے صرف دو ممبران تھے ایک بابا جان اور دوسر علیم خان جن میں باباجان تو جائے وقوعہ پر موجود ہی نہیں تھے۔ جابروں نے انہی ہٹانے کے لیے ان پہ مقدمہ کروائے۔ باقی لوگوں کو ہم خود ہی اپنا کہتے تھے کیونکہ کہ انہوں نے قوم کے خاطر مدافعت کی تھی حالانکہ ان میں سے زیادہ تر کا تعلق دوسی پارٹیوں سے تھا اور ہمارے ساتھ اختلاف رکھتے تھے۔
اب آتے ہیں بات خود کو ٹھیک دوسرے غلط ایسا کوئی نہیں کہتے تنقید کی جاتی ہے ہے لیکن حقیقت کے قریب وہ ہوتے ہیں جو علم کی بنیاد پہ ہو۔ اس کے لیے سب سے پہلے لیڈر شپ کے بارے میں پڑھیں دنیا میں بڑے بڑے لیڈر آئے جنہوں نے اپنے ملکوں کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا
جیسے ترکی کے مصطفی کمال جسے ترکی کے لوگ اتا ترک یعنی ترکوں کا باپ کہتے ہیں جس نے اقتدار میں آتے ہی کہا کہ ہر ایک بچہ سکو جائے گا جس کا بچہ سکول نہی جائے گا اس کے باپ کو جیل میں ڈال دیا، جائے گا۔ خلافت کے خاتمے کا اعلان کردیا اور اعلان کیا کہ مسجد سے خطبے اور آزان کی آواز باہر نہیں آنے چاہیے۔ مہاتیر محمد نے بھی ایسا ہی کیا اس نے بھی سو فیصد تعلیم کے لیے ہر بچے کا سکول جانا ضروری قرار دیا۔ بیرونی ملک سے تمام گاڑیوں کی درآمد پہ پابندی لگائی اور وزیراعظم نے خود ہی اپنے ملک کی بنائی ہوئی گاڑی لے کر خود چلا کر مارکیٹ گیے جاتے تاکہ لوگ انہیں دیکھ کر وہ بھی یہ کار خریدیں اور ایسا ہی ہوا۔
یہاں کم خرچے کے نام پر ہیلی کاپٹر چلایا جاتا ہے اور ساڑھے تین سالوں میں ایک ارب کا خرچہ آتا ہے۔ تجارتی خصارے کا رونا رویا جاتا ہے مگر کروڑوں کی گاڑی، کاسمیٹکس سے لے کر، کتے بلی کے خوراک تک باہر سے آتا ہے کوئی ان پہ پابندی لگانے والا نہیں۔
48% یعنی ڈھائی کروڑ ملک کے آدھے بچے سکول سے باہر ہیں اور صرف 1.8 فیصد بجٹ تعلیم پہ خرچ کرتے جبکہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق 14,% کم از کم تعلیم پر خرچ کرنا چاہی۔ اتنا نہ کریں اسے صرف تین فیصد کر کے تمام بچوں کو سکول میں لانے والا اور سائنس وٹیکنالوجی پہ خرچ کریں جس سے صنعتی ترقی ہوتی ہیں لانے والا کوئی نہیں۔
بجٹ ہمیشہ خسارے میں ہوتا ہے یعنی اپنی آمدن سے زیادہ کا بجٹ بناتے ہیں اور خصارے پورے کرنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرض لیتے ہیں۔ اپنی آمدن کے اندر رہ کر اپنے خرچے کو کم کر کے بجٹ بنانے والا کوئی نہیں۔
چین روس سے آہستہ آہستہ تجارت بڑھانا، اپنے دفاعی چیزوں کے لیے ان سے تعلقات بڑھانا تمام پڑھوسی ممالک اور تمام ایشیائی ممالک، تمام ایسے ممالک سے تعلقات بڑھانا جو بلاک کی سیاست سے آزاد ہوں اور پھر امریکہ کی چنگل سے خود کو نکلوانے والا کوئی نہیں۔ بھیک مانگ مانگ کر ایک دن ایبسلوٹلی ناٹ کہنے سے کوئی کسی کی غلبہ سے آزاد نہیں ہو سکتا۔
ایکشن اور اس کے نتائج کے حساب سے دیکھنے تو خان کی کارکردگی صفر۔ لیکن کھوکھلے نعرے بلند وبانگ دعوے دیکھیں تو ان جیسا کوئی نہیں۔
ملک میں کرپشن کا خاتمہ ہونا چاہیے گاؤں تحصیل سے لے کر صدر وزیراعظم اعظم تک کرپشن کی شکایات، اسے پکڑنے اور تفتیش کرنے کا نظام ہو ہو اور کسی کو بھی اس سے نہیں بچنا چاہیے۔
ساڑھے تین سالوں میں نہیں چھوڑوں نہیں چھوڑوں گا کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان چوری میں سولہ درجہ ترقی کر گیا کہ خود ان کے اپنے گھر سے چور نکلے۔ اس کی اپنی چوری باہر آنے لگی اور آگے دیکھیں کیا کیا چیز سامنے آتی ہے۔
یہ کچھ موٹی چیزیں ہیں جن کو بیان کیا کئی کام ہوسکے جن کے تفصیلات بیان کرنے کے لیے وقت چاہیے۔
ہاں ان سب کا مطلب یہ کہ یہ سب اب شہباز شریف کر لیں گے وہ تو ویسی ہی روایتی حکمرانوں میں سے ہیں جنہوں نے اس ملک کو اس حالت میں پہنچائے ہیں موجودہ حالات میں اقتدار میں آکر یہ بند گلی میں پھنس چکے ہیں۔ نہ ان کے پاس مستقبل کے کوئی موثر منصوبے موجود ہیں۔
اس زبوں حالی سے نکلنے کا واحد راستہ سوشلزم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں