130

رینجرز گلگت بلتستان کے غریب خطے پر بوجھ ہیں

نجف علی، چیئرمین عوامی ایکشن کمیٹی بلتستان


رینجرز گلگت بلتستان جیسے غریب خطے کے بجٹ پر بوجھ ہے۔
شہید آغا ضیاء الدین کو رینجرز چوکی کے سامنے شہید کیا گیا، سابق ڈپٹی اسپیکر سید اسد زیدی کو رینجرز چیک پوسٹ کے ساتھ ہی مارا گیا، گلگت سے رینجرز اہلکاروں کو واپس بیجھنے کی بات ہوئی تو ٹھیکیدار افسر جان پر رات کی تاریکی میں فائرنگ ہوئی۔
پچھلے الیکشن کے دوران پیپلز پارٹی کے احتجاج کے دوران رینجرز اہلکاروں کے سامنے سرکاری دفتر اور سرکاری گاڑی جلائے گئے مگر رینجرز تماشائی بنے رہے۔
گلگت میں امن قائم کرنے یا کسی مجرم یا ملزم کو گرفتار کرنے میں رینجرز اہلکاروں کا کوئی کردار نہیں۔ ان کا کام صرف گلگت بلتستان کے معزز شہریوں کے عزت نفس کو مجروح کرنا اور پیٹرولنگ کے نام پر ڈیزل اور پیٹرول کو پانی کی طرح بہانا ہے جبکہ جی بی پولیس کے لئے ملزمان پکڑنے کے لیے گاڑی اور ڈیزل دستیاب نہیں۔
گلگت میں امن قائم رکھنے کے لئے گلگت کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، عوام، جوانوں اور پولیس کا کردار ہے۔
اسلام آباد سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں گلگت سے رینجرز اہلکاروں کو واپس لے جائیں اور اسی پیسوں سے جی بی پولیس میں پوسٹیں دیے جائیں تاکہ گلگت بلتستان کے پڑھے لکھے بیروزگار نوجوانوں کو روزگار ملے اور گلگت بلتستان میں پولیس جوانوں کی شدید کمی پوری ہو۔

کیٹاگری میں : فوج

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں