153

گلگت بلتستان میں تیسرا سیاسی متبادل ناگزیر ہو چکا  ہے، قومی فرنٹس


کراچی نمائندہ ہائی ایشیاء ہیرالڈ


سماجی جڑوں سے انقلابی پارٹی کی تشکیل کے عزم کا اعلان – نیشنل ورکرز فرنٹ، نیشنل ویمن فرنٹ اور نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان کے پرچم کی رونمائی اور نو منتخب کابینہ کی حلف برداری تقریب میں خطے بھر کی حق پرست جماعتوں کے نمائندوں اور نوجوانوں کی شرکت  ـــ اپنی زمین اور اپنے وسائل کا سودا برداشت نہیں کریں گے، مقررین کا خطاب  ـــ نوآبادیاتی جبر سے نجات کے لئے تیسرا سیاسی متبادل ناگزیر ہو چکا ہے، قومی فرنٹس کا اعلان۔

 نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن، نیشنل ویمن فرنٹ اور نیشنل ورکرز فرنٹ گلگت بلتستان (سندھ زون) کے پرچم کی رونمائی اور نو منتخب کابینہ کی تقریب حلف برداری بروز اتواز کراچی میں منعقد کی گئی،

جس میں گلگت بلتستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مستقبل پر حق پرست حلقوں کی جدوجہد میں ممکنہ مشترکات پر خطے بھر کے مختلف حق پرست جماعتوں کے نمائندوں نے مکالمہ کیا۔

اس دوران نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن گلگت بلتستان سندھ زون کی آٹھویں کابینہ اور نیشنل ورکرز فرنٹ سندھ زون کی پہلی کابینہ نے حلف اٹھایا۔

 این ایس ایف سندھ زون کی طرف سے اظہر الدین نے صدر، جبکہ عطیہ علی نائب صدر، دیدار علی جنرل سیکرٹری، لیاقت علی اور کریم خان سیکرٹری تعلیم و تربیت، دانیال عالم سیکرٹری آرٹس اینڈ کلچر، آکاش علی فنانس سیکرٹری، منہاس قیوم سیکرٹری میڈیا اینڈ انفارمیشن اور معین الدین نے سیکرٹری ایونٹ منیجمنٹ کے حیثیت سے حلف اٹھایا۔ غزالہ علی کو این ایس ایف سندھ زون کی طرف سے سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا  نمائندہ چنا گیا۔

 این ایس ایف سندھ زون کی طرف سے اظہر الدین نے صدر، جبکہ عطیہ علی نائب صدر، دیدار علی جنرل سیکرٹری، لیاقت علی اور کریم خان سیکرٹری تعلیم و تربیت، دانیال عالم سیکرٹری آرٹس اینڈ کلچر، آکاش علی فنانس سیکرٹری، منہاس قیوم سیکرٹری میڈیا اینڈ انفارمیشن اور معین الدین نے سیکرٹری ایونٹ منیجمنٹ کے حیثیت سے حلف اٹھایا۔ غزالہ علی کو این ایس ایف سندھ زون کی طرف سے سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا  نمائندہ چنا گیا۔

نیشنل ورکرز فرنٹ سندھ زون کی طرف سے بشارت حسین مہدوی نے بطور صدر، جبکہ کریمہ بیگ نائب صدر، انمول الکریمی جنرل سیکرٹری، اسماعیل خان سیکرٹری تعلیم و تربیت، طارق علی جوائنٹ سیکرٹری، رئیس شاہ سیکرٹری فنانس، عارفہ لطیف ویمن سیکرٹری، شیر زاد ولی ایونٹ منیجمنٹ سیکرٹری اور حبیب مظاہر نے بطور سیکرٹری آرٹس اینڈ کلچر اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔ علی احمد جان کو سیکرٹری میڈیا اینڈ انفارمیشن اور این ڈبلیو ایف سندھ زون کی طرف سے سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کا نمائندہ چنا گیا۔

نیشنل ورکرز فرنٹ گلگت بلتستان کے سینٹرل آرگنائزر عنایت بیگ نے نو منتخب کابینہ سے حلف لیا اور قومی فرنٹس کی تعمیر، ساخت، اہمیت اور مستقبل کے لائحہ عمل سے حاضرین کو آگاہ کیا۔

نو منتخب صدور نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنظیم گلگت بلتستان کے مفلوک الحال عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی جدوجہد کا ہر اول دستہ بنے گی۔

 انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جاری نوآبادیاتی جبر سے نجات کا واحد متبادل خطے کے نوجوان ہیں اور نوجوان قیادت پر مشتمل تیسرا سیاسی متبادل اب ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے قومی فرنٹس کے نظریے "ترقی پسند وطن دوستی” کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی اور فرنٹس کی طرف سے لکھا گیا تجزیاتی مقالے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان اس نئی انقلابی قوت کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں گے  اور قومی فرنٹس کا حصہ بنیں گے ۔

مقررین کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی جدوجہد میں موجود فاصلوں کو بھروسے میں عملی اقدامات کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ مقررین نے گلگت بلتستان میں خالصہ سرکار کے نام پر مقامی آبادی کی زمینوں کو ہتھیانے اور وسائل پر قبضوں کی مذموم کوششوں کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے سرکار کو متنبہ کیا کہ ایسے جابرانہ اقدامات کے نتائج کسی صورت بہتر نہیں نکل سکتے۔گلگت بلتستان کی زمین اور وسائل ہر مقامی پشتنی آبادیوں کا حق دیر سویر سبھی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

نو منتخب صدور نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ تنظیم گلگت بلتستان کے مفلوک الحال عوام کے بنیادی انسانی حقوق کی جدوجہد کا ہر اول دستہ بنے گی۔

 انہوں نے مزید کہا کہ نوجوان ایک نئے سیاسی متبادل کی تلاش میں تھے اور قومی فرنٹس کی شکل میں انہیں ایک بہترین پلیٹ فارم مل چکا ہے۔

تقریب میں قومی فرنٹس کے پرچم کی بھی باقاعدہ رونمائی کی گئی۔ سیاہ، سرخ اور آسمانی نیلے رنگوں پر مشتمل پرچم جس کے بیچ میں سفید رنگ کا شمالی قطبی ستارہ بنا ہوا ہے کو باقاعدہ تقریب میں رونما کیا گیا اور پرچم کے رنگ، اجزاء اور ان کے معنی و فلسفے پر بریفنگ دی گئی۔

تقریب کے تیسرے حصے میں خطے کی مختلف حق پرست جماعتوں بالاورستان نیشنل سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، قراقرم سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، جموں کشمیر سٹوڈنٹس لبریشن فرنٹ، بلتستان سٹوڈنٹس فیڈریشن، آل بلتستان مومنٹ و دیگر کے نمائندوں نے پینل ڈسکشن میں گلگت بلتسان کے سیاسی، سماجی و معاشی مستقبل پر ممکنہ عملی مشترکات پر مفصل بحث کی۔

مقررین نے نیشنل فرنٹس کے قیام اور مستقل مزاجی کو سراہا اور نو منتخب کابینہ کو مبارکباد پیش کی۔

تقریب میں قومی فرنٹس کے پرچم کی بھی باقاعدہ رونمائی کی گئی۔ سیاہ، سرخ اور آسمانی نیلے رنگوں پر مشتمل پرچم جس کے بیچ میں سفید رنگ کا شمالی قطبی ستارہ بنا ہوا ہے کو باقاعدہ تقریب میں رونما کیا گیا اور پرچم کے رنگ، اجزاء اور ان کے معنی و فلسفے پر بریفنگ دی گئی۔

مقررین کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی سیاسی جدوجہد میں موجود فاصلوں کو بھروسے میں عملی اقدامات کے ذریعے جوڑنے کی ضرورت ہے۔

مقررین نے گلگت بلتستان میں خالصہ سرکار کے نام پر مقامی آبادی کی زمینوں کو ہتھیانے اور وسائل پر قبضوں کی مذموم کوششوں کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے سرکار کو متنبہ کیا کہ ایسے جابرانہ اقدامات کے نتائج کسی صورت بہتر نہیں نکل سکتے۔گلگت بلتستان کی زمین اور وسائل ہر مقامی پشتنی آبادیوں کا حق دیر سویر سبھی کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

مقررین نے پاکستان کی مختلف شہروں میں مقیم گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو اپنی تعلیم و روزگار کے ساتھ خطے کی محرومیوں کے ازالے پر بھی غور کرنے کی دعوت دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں