159

کھوار زبان کا ارتقاء! چند قابل غور سوالات 


تحریر: کریم اللہ


محترم پروفیسر ممتاز حسین صاحب کا ایک مقالہ بہ عنوان "کھوار زبان کا ارتقا” ان دنوں سوشل میڈیا پر محو گردش ہے۔ پروفیسر صاحب چونکہ بذات خود ایک علمی و ادبی شخصیت کے مالک محقق ہیں اس لئے ان کی تحریریں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان کے مذکورہ بالا مقالے کو پڑھنے کے بعد چند ایک سوالات ایسے پیدا ہوئے ہیں جنہیں لسانیات اور تاریخ سے شغف رکھنے والے قارئین کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔

پروفیسر صاحب لکھتے ہیں کہ

"سولہویں صدی میں کاشعر کے ترکوں نے چترال پر فوج کشی کی اور موجودہ چترال شہر اور مستوج میں اپنے علاقائی مراکز قائم کئے جہاں قلعوں میں ان کی فوج رہتی تھی۔ ان کے زیر اثر یہاں اسلام کسی قدر پھیلا، خصوصاً شمالی حصوں کے کھوار بولنے والوں میں۔

 تقریباً اسی زمانے میں بدخشان کی طرف سے بھی یہاں مداخلت شروع ہوگئی اور ترکوں کی واپسی کے بعد یہاں تاجک حکمران بن گئے۔ ان حکمرانوں کو تاریخ میں ‘رئیس’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے یہاں اسلام کے فروغ میں زیادہ اہم کردار ادا کیا اور نیچے کی طرف دروس تک وادی کے لوگ مسلمان ہوگئے تاہم ذیلی وادیوں میں بدستور پرانے مذہبی طور طریقے برقرار رہے۔

 چونکہ شمال کے کھوار بولنے والے پہلے ہی مسلمان ہوچکے تھے اس لئے وہ جنوب کی طرف اقتدار بڑھانے میں نئے حکمرانوں کا ساتھ دے رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کے ساتھ ساتھ وہ اپنی زبان بھی پھیلانے کا سبب بنے۔ چنانچہ رئیس عہد میں دروس تک کھوار اکثریت کی زبان بن چکی تھی۔”

کیا ایسے تاریخی شواہد و اثرات موجود ہیں جن سے شمالی خطوں سے کھوار بولنے والوں کی بڑی تعداد کا رئیس دور میں زرین چترال کے کلاشہ بولنے والوں پر دھاوا بول دینا اور ان کے مذہب اور زبان تبدیل کروانے میں کردار ادا کرنا ثابت کیا جا سکے؟

بقول پروفیسر ممتاز حسین رئیس دور سے قبل زرین چترال میں کھوار کا کوئی وجود نہیں تھا اور کھوار سولہویں صدی میں لوئر چترال میں رئیس حکمرانوں کی وجہ سے پھیلی جن کا بالائی چترال کے کھوار بولنے والوں نے ساتھ دیا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  کیا کاشغر کے ترکوں اور بدخشان یا یارقند کے رئیس یا بدخشی حکمرانوں کی اپنی زبان کھوار تھی؟

یا کیا ان حکمرانوں نے یہاں حکومت کے دوران کھوار زبان سیکھ لی تھی؟

اگر ان حکمرانوں کی زبان ترک، فارسی، بدخشی یا دری تھی تو لوئر چترال میں کھوار کی ترویج کی کیا وجہ بنی؟

یا پھر شمال کے کھوار بولنے والوں نے ان غیر ملکی حکمرانوں کا ساتھ کیوں دیا؟

 دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسے تاریخی شواہد و اثرات موجود ہیں جن سے شمالی خطوں سے کھوار بولنے والوں کی بڑی تعداد کا رئیس دور میں زرین چترال کے کلاشہ بولنے والوں پر دھاوا بول دینا اور ان کے مذہب اور زبان تبدیل کروانے میں کردار ادا کرنا ثابت کیا جا سکے؟

کیا رئیس دور میں بالائی چترال سے آکر چترال ٹاؤن اور مضافات میں آباد ہونے والوں کی کوئی بڑی آبادی بھی موجود ہے؟

 دوسری بات یہ ہے کہ اشور جان / اشرو ژانگ چترال کے جید محقیقیں بالخصوص ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، مولانا نقیب اللہ راضی اور دیگر  کی رائے یہ ہے کہ یہ کھوار زبان کی اولین اور سب سے قدیم ادبی گیت ہے جس کا تعلق لوئر چترال کے علاقہ شلی سے ہے۔ یعنی اس گانے کے اولین بول شلی کے کسی شاعر کے ہیں۔ شلی گاؤں چترال ٹاؤن سے  قریب قریب بیس تیس کلومیٹر کے فاصلے پر لٹکوہ جانے والے درے میں واقع ہے۔ اگر کھوار زبان کا رئیس دور میں حکمرانوں کے ساتھ بالائی چترال سے آنے والی بات کو حقیقت مان لی جائے تو اشور جان جیسے قدیم ترین گانے (باشونو)  کو لوئر چترال کےدور افتادہ نواحی علاقہ  شلی کے کسی شاعر نے کیسے تخلیق کیا؟

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ کھوار ادبی صنف کی عمر ڈیڑھ سو سال سے زائد نہیں ہے؟

اس کے علاوہ کھوار کے ایک اور گانے "لالو زنگ ” بھی کھوار کے قدیم ترین گیتوں میں گنا جاتا ہے اور چترال کے محقیقین میں سے اکثریت اس گانے کو لٹکوہ کے علاقہ ” اویریک/ بشقیر سے بتاتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لٹکوہ کے علاقوں میں کس طرح کھوار زبان پھیلی اور وہ بھی اس قدر کہ وہ اسی زبان میں شاعری تک کرنے لگے؟

کھوار کے ایک اور گانے "لالو زنگ ” بھی کھوار کے قدیم ترین گیتوں میں گنا جاتا ہے اور چترال کے محقیقین میں سے اکثریت اس گانے کو لٹکوہ کے علاقہ ” اویریک/ بشقیر سے بتاتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لٹکوہ کے علاقوں میں کس طرح کھوار زبان پھیلی اور وہ بھی اس قدر کہ وہ اسی زبان میں شاعری تک کرنے لگے؟

اپنے مقالے میں آگے جا کر پروفیسر صاحب یوں رقم طراز ہیں کہ

"اٹھارویں صدی میں چترال میں پہلی مرتبہ ایک مرکزی حکومت ایسی قائم ہوئی جس کا مرکز اقتدار چترال سے باہر کہیں نہیں تھا۔ اس وجہ سے ان نئے حکمرانوں نے شمال کے علاوہ جنوب سے تعلقات کو بھی اہمیت دی۔ تاہم اس دور تک جنوب میں پشتون قبائل انڈو آرئین لوگوں کو بیشتر علاقوں سے بے دخل کرکے قابض ہوچکے تھے۔ لہٰذا نئے رابطوں کے نتیجے میں جنوب کی طرف سے چترال پر پشتونوں کے لسانی اور ثقافتی اثرات پڑنے شروع ہوگئے۔ جنوبی چترال میں رہے سہے کلاش کلچر کا خاتمہ اور آرتھوڈکس اسلام کا پھیلاؤ پشتون اثرات کی وجہ سے ہی ممکن ہوا۔ جنوب کے کچھ علاقوں میں پشتون تارکین وطن آکر آباد ہونے لگے۔ ان اثرات کے تحت جنوبی علاقوں میں کھوار زبان میں بھی تبدیلیاں آئیں اور جنوب اور شمال کی بولیوں میں کسی قدر فرق وجود میں آیا۔”

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چترال کے جنوبی حصوں میں پشتونوں کی آمد کب سے شروع ہوئی؟

کیا پشتونوں کے آنے سے قبل جب کلاش قوم کو مغلوب کیا گیا تھا تو علاقے میں مکمل طور پر کھوار پھیل گئی تھی اور اس پھیلاؤ کا دورانیہ کتنے برسوں پر محیط ہوگا؟

ماہرین لسانیات کے مطابق ہر آٹھ سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر زبان کا لہجہ تبدیل ہوتا ہے کیا چترال جیسے دور افتادہ علاقوں میں بولی جانے والی کھوار لہجے میں یہ تبدیلی ایک فطری عمل نہیں؟

پروفیسر صاحب مزید لکھتے ہیں کہ

"چترال کی مقامی ریاست نے اپنا دائرہ اثر گلگت کی شمالی وادیوں غذر، یاسین، اشقمن اور پونیال تک بڑھا لیا۔ اور حکمراں خاندان کی ایک شاخ چترال کے شمالی حصے سمیت شندور پار کے اس علاقے پر حکمران رہی۔ اس خاندان نے اپنا اقتدار جنوب میں گلگت تک کئی بار وسیع کیا۔ اس طرح کھو کلچر اور کھوار زبان اس علاقے میں کسی حد تک قدم جمانے میں کامیاب ہوگئے۔

 اس علاقے میں برسر اقتدار خاندان اور امراء کی زبان ہونے کی وجہ کھوار کو زیادہ کلچرد زبان سمجھا جانے لگا۔ 1880 کے بعد یہ علاقہ بھی خاص چترال میں قائم کٹور حکمران کے زیر اقتدار آگیا۔ اس حکمران نے کھو نسل کی کافی آبادی کو ان نئے علاقوں میں آباد کیا جس سے نہ صرف علاقے میں کھوار زبان کو مزید فروغ حاصل ہوا بلکہ مختلف علاقوں کی زبان میں کافی یکسانیت بھی آگئی۔ اس سارے عرصے کے دوران کھوار نے نہ صرف بروشسکی سے کئی الفاط مستعار لے لئے بلکہ اس زبان کو بھی اپنے بہت سے الفاط دے دیے۔”

خاندان خوشوخت کا درالحکومت یسین تھا مگر یسین میں اب بھی کھوار بولنے والوں کا تناسب شاید بیس پچیس  فیصد سے زیادہ نہ ہو اور وہ بھی دور حاضر میں کھوار گانوں اور نوجوانوں کی میل ملاقاتوں سے ممکن ہوا ہے۔ البتہ اشقمن میں چند ایک گاؤں جیسا کہ چٹورکھنڈ، پاکورہ وغیرہ کی آبادی کا زیادہ تر حصہ چترال سے وہاں جا کے آباد ہونے والوں کی ہے اسی وجہ سے مرکزی اشقمن میں کھوار بولی جاتی ہے جبکہ بالائی اشقمن کے لوگ وخی ہیں اور زرین اشقمن کے لوگوں کی زبان شینا ہے۔

پروفیسر صاحب نے بین السطور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ علاقہ غذر ، اشقمن ، یسین وغیرہ میں کھوار زبان خوش وخت اور کٹور دور میں پھیلا اور انہوں نے کھو نسل کی کافی آبادی کو ان نئے علاقوں میں آباد بھی کیا۔

مگر اب ذرا تاریخی  واقعات کی کڑی کو زمینی حقائق سے ملا کے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔غذر میں بالائی غذر اور اشقمن کے کچھ حصوں میں خالص کھوار بولی جاتی ہے جبکہ یسین، گوپس، گاہکوچ ، دائین ، شیر قلعہ وغیرہ کے رہنے والے گرچہ کھوار سمجھتے اور بولتے ضرور ہیں مگر ان کی مادری زبان شینا اور بروشسکی ہے۔

خاندان خوشوخت کا درالحکومت یسین تھا مگر یسین میں اب بھی کھوار بولنے والوں کا تناسب شاید بیس پچیس  فیصد سے زیادہ نہ ہو اور وہ بھی دور حاضر میں کھوار گانوں اور نوجوانوں کی میل ملاقاتوں سے ممکن ہوا ہے۔ البتہ اشقمن میں چند ایک گاؤں جیسا کہ چٹورکھنڈ، پاکورہ وغیرہ کی آبادی کا زیادہ تر حصہ چترال سے وہاں جا کے آباد ہونے والوں کی ہے اسی وجہ سے مرکزی اشقمن میں کھوار بولی جاتی ہے جبکہ بالائی اشقمن کے لوگ وخی ہیں اور زرین اشقمن کے لوگوں کی زبان شینا ہے۔ ٹھیک اسی طرح خوشوخت خاندان کا دوسرا بڑا پایہ تخت گاہکوچ غذر ہے جہاں بہت کم لوگوں کی مادری زبان کھوار ہیں ۔ جبکہ بالائی غذر بالخصوص تھانگائی سراڑو کوٹو سے آگے تا برست تک کے لوگوں کی زبان صرف  کھوار ہے ۔ان لوگوں میں چترال سے ہجرت کرکے وہاں جانے والوں کی تعداد شاید آٹے میں نمک کے برابر ہے جبکہ اکثریت وہاں کے مقامی زمین زادو یعنی بومکی لوگوں کی ہے اور جو اسی ہی علاقے کے جدی پشتی باشندے ہیں۔

اگر کھوار زبان غذر میں خوشوخت اور کٹور خاندانوں کے حکمرانوں کی وجہ سے پھیلی ہے تو پھر یسین اور گاہکوچ میں سو فیصد لوگ کھوار بولتے مگر وہاں تناسب دس  اور نوے  یا بیس اور اسی کا کیوں ہے؟

 جبکہ بالائی غذر جیسا دور افتادہ اور سخت علاقے کے لوگ کیوں خالص کھوار بولتے ہیں جبکہ دیگر کوئی زبانین وہاں تک نہیں پہنچ سکی؟حالانکہ یہ علاقہ خوش وخت دور میں بھی نسبتا نظر انداز اور پسماندہ علاقہ تھا۔ اور شاید اس علاقے میں خوش وخت فیملی کا کوئی فرد رہائش پزیر بھی نہ ہو۔

اگر ان تاریخی حقائق کو مد نظر رکھ کے دیکھا جائے تو بہت ممکن ہے کہ کھوار چترال اور غذر کی انتہائی قدیمی زبان ہے جو قبل از اسلام ان دونوں خطوں میں رائج رہی ہے ۔ کسی حکمران کی وجہ سے اس زبان کے پھیلنے کے حوالے سے شواہد اور بیانئے میں زیادہ وزن نہیں ۔

کریم اللہ جامعہ پشاور کے شعبہ سیاسیات سے ماسٹر کر چکے ہیں اور عرصہ پندرہ سالوں سے بطور صحافی، کالم نگار اور وڈیو رپورٹر کام کررہے ہیں۔ وہ بام جہان کے ساتھ بطور ایڈیٹر سروس دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں