82

نو روڑ نو ووٹ کا نعرہ لئے اہلیان چپورسن نے پھر سے تحریک شروع کر دی


ہائی ایشیاء ہیرالڈ

اپر ہنزہ چپورسن اس ترقیافتہ دور میں بھی روڈ جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہے علاقے کے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کئی برس قبل سڑک تعمیر کی تھی مگر ان میں سے گزرنا وبال جال بن گیا ہے جس کے خلاف علاقے کے لوگوں نے منظم تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔  

اس سلسلے میں گزشتہ روز گاؤں گاؤں پرامن احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں مرد و خواتین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مظاہریں کا کہنا تھا کہ جغرافیائی اعتبار سے نہایت اہمیت کے حامل اس علاقے کو ہر منتخب نمائندے نے جان بوجھ کر بنیادی سہولیات سے محروم رکھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ  چپورسن روڑ پہ خوب سیاست کی گئی اور خوب ووٹ بٹورے گئے۔ منتخب ہونے کے بعد کسی نمائندے نے اس دور افتادہ علاقے کی محرمیوں کا ازالہ نہیں کیا۔

اہالیان چپورسن نے اپنا دیرینہ مطالبہ منوانے کے لئے باقاعدہ تاریخی احتجاج کی کال دی ہے جس کا آغاز وادی چپورسن سے کر دیا گیا۔ اگلے مرحلے میں ضلعی  سطح پر پرامن احتجاج ریکارڑ کیا جائے گا۔

اسی طرح روڑ کا کام شروع ہونے تک احتجاج جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے اپر ہنزہ کے اکثر علاقوں میں روڈ انفراسٹریکچر انتہائی خستہ حالی کا شکار ہے۔ الیکشن کے مواقع پر امیدوار عوام کو سبز باغ دکھا کر ووٹ بٹورتے ہیں مگر جیتنے کے بعد پھر واپس مڑ کے نہیں دیکھتے یہی وجہ ہے کہ بالائی ہنزہ میں احساس محروم بڑھ رہی ہے اور لوگ اپنے حقوق کے لئے سڑکوں پہ مجبور ہو گئے ہیں۔

کیٹاگری میں : خبر

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں